الیکٹرک بائیک اور رکشہ سبسڈی: پہلا مرحلہ اور ادائیگیوں کا آغاز

22

پاکستان میں الیکٹرک سواریاں کو فروغ دینے کے لیے PAVE (پاکستان ایکسلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن) اسکیم اب پالیسی سے نکل کر عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حکومت نے کامیاب امیدواروں کو سبسڈی کی رقم فراہم کرنے اور آسان اقساط پر بائیکس کی فراہمی شروع کر دی ہے۔

حکومت پیو (PAVE) اسکیم کے تحت رواں مالی سال کے دوران تقریباً 9 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ 2030 تک اس سبسڈی کے ہدف کو 100 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اسکیم کی اہم تفصیلات

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس پروگرام کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے:

  • سبسڈی کی رقم: الیکٹرک بائیک پر 80,000 روپے تک کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔

  • ادائیگی کا طریقہ: یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے براہِ راست منظور شدہ درخواست گزاروں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہے۔

  • آسان اقساط: بائیکس، رکشے اور لوڈرز اب بینک لیزنگ اور آسان ماہانہ اقساط پر دستیاب ہیں تاکہ عام آدمی اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے انہیں خریدنا ممکن ہو سکے۔

پہلا اور دوسرا مرحلہ

حکومت نے اس اسکیم کو مرحلہ وار چلانے کا فیصلہ کیا ہے:

  1. پہلا مرحلہ: اس میں 41,000 گاڑیاں فراہم کرنے کا ہدف ہے، جن میں 40,000 الیکٹرک بائیکس اور 1,000 الیکٹرک رکشے و لوڈرز شامل ہیں۔

  2. دوسرا مرحلہ: جلد شروع ہونے والے اس مرحلے میں 78,000 سے زائد اضافی الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے۔

کامیابی کا دارومدار: آگے کیا ہوگا؟

اسکیم کا باقاعدہ آغاز تو ہو گیا ہے، لیکن اب اصل امتحان ان عوامل پر ہے:

  • بینکنگ پراسیس: بینک لیزنگ کے کیسز کتنی تیزی سے نمٹاتے ہیں۔

  • آفٹر سیلز سروس: کیا مارکیٹ میں بیٹری کی وارنٹی، پرزوں کی دستیابی اور مرمت کی سہولیات موجود ہیں؟

  • پٹرول کی بچت: اگر یہ اسکیم کامیاب ہوتی ہے، تو شہروں میں پٹرول کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی اور طلباء و دیہاڑی دار طبقے کے سفری اخراجات آدھے رہ جائیں گے۔

فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel