پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہونے کا امکان

36

وفاقی حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے موجودہ ہفتہ وار نظام (Weekly Pricing Mechanism) کو بدل کر اسے روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔

اس تجویز پر وزیرِ اعظم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اہم اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کی۔

عالمی سطح پر توانائی کی بے یقینی اور قیمتوں کے خدشات

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ کمیٹی کا کام اب مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے دوبارہ بند ہونے اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی کے باعث حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔

مشاورتی فرم ‘کے پی ایم جی’ (KPMG) کی ایک اسٹڈی کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں بنگلہ دیش، سری لنکا اور ترکیہ کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ انڈیا کی قیمتوں کے تقریباً برابر ہیں۔

کمیٹی نے پٹرولیم قیمتوں کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا اور سفارش کی کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ کی بنیاد پر عالمی مارکیٹ کے ‘پلاٹس بینچ مارک’ (Platts benchmark) کی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنا شروع کرے تاکہ صارفین کو وہ عالمی ریٹس معلوم ہو سکیں جن کی بنیاد پر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کی جاتی ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مجوزہ روزانہ نظام

اگرچہ سرکاری پریس ریلیز میں ان مخصوص ماڈلز کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں جن پر اجلاس میں بحث ہوئی، لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق کے پی ایم جی (KPMG) نے قیمتوں کے تعین کے لیے چار آپشنز پیش کیے تھے:

  1. ماہانہ (Monthly)

  2. پندرہ روزہ (Fortnightly)

  3. ہفتہ وار (Weekly)

  4. روزانہ (Daily)

رپورٹس کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے روزانہ قیمتیں مقرر کرنے کے ماڈل کو سب سے زیادہ پسند کیا ہے۔

اس مجوزہ روزانہ نظام کے تحت کیا تبدیلیاں آئیں گی؟

  • روزانہ قیمت کا تعین: اوگرا (OGRA) روزانہ رات کو پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا حساب لگائے گی، اور یہ نئی قیمتیں اسی رات آدھی رات سے نافذ العمل ہو جایا کریں گی۔

  • منظوری کے عمل میں تبدیلی: نئے سسٹم کے تحت اوگرا خود قیمتیں طے کر کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا کرے گی۔ اس کے لیے پٹرولیم ڈویژن، فنانس ڈویژن اور وزیرِ اعظم کو حتمی منظوری کے لیے سمری بھیجنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

  • کمپنیوں کو آزادی: رپورٹس کے مطابق اس ماڈل کے تحت ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے مارجن اور ڈیلرز کے کمیشن اب حکومت طے نہیں کرے گی۔ ہائی اوکٹین کی طرح آئل مارکیٹنگ کمپنیاں خود ان مارجنز کا تعین کرنے میں آزاد ہوں گی۔

ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا

روزانہ قیمتیں مقرر کرنے کے اس طریقہ کار کی ابھی حتمی منظوری نہیں دی گئی۔ وزیرِ پٹرولیم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اگلے اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل دے، جس کے بعد یہ سمری حتمی فیصلے کے لیے وزیرِ اعظم کو بھیجی جائے گی۔

جب تک اس بارے میں کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا فیصلہ جاری نہیں ہوتا، ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں موجودہ ہفتہ وار نظام کے تحت ہی تبدیل ہوتی رہیں گی۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel