حالیہ انڈسٹری ڈیٹا کے مطابق، اس وقت پاکستان کے پاس قابلِ استعمال پیٹرول کا کل ذخیرہ تقریباً 379,442 ٹن ہے۔ بظاہر یہ ایک بہت بڑی مقدار لگتی ہے، لیکن موجودہ ملکی کھپت کے حساب سے یہ صرف 14 سے 15 دن کے لیے کافی ہے۔
جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں پیٹرول کی کھپت میں غیر متوقع طور پر تیز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں روزانہ اوسطاً 25,000 ٹن پیٹرول استعمال ہو رہا ہے۔ یہ کھپت حکومت کے لگائے گئے تخمینوں سے 16 فیصد اور گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔
کھپت میں اچانک اضافے کی وجہ؟
یہ پاکستانی مارکیٹ کا ایک روایتی ردِعمل ہے یعنی “قیمتیں بڑھنے کا خوف”۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بحیرہ احمر و آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں شپنگ کے مسائل کے باعث مقامی سطح پر قیمتوں میں بھاری اضافے کی افواہیں گرم ہوئیں، جس نے صارفین کو وقت سے پہلے پمپس پر جا کر ٹینک فل کروانے (Panic Buying) پر مجبور کر دیا۔
بحران کی 4 بنیادی وجوہات (The Structural Red Flags)
یہ مسئلہ صرف کھپت بڑھنے کا نہیں ہے، بلکہ سپلائی چین کے بیک اینڈ پر چند بڑے انتظامی اور مالیاتی مسائل موجود ہیں:
-
66.7 ارب روپے کا مالیاتی بحران (Liquidity Choke): حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے پرائس ڈفرنشل کلیمز (PDCs) کی مد میں 66.7 ارب روپے دبا رکھے ہیں۔ رقم پھنس جانے کی وجہ سے کمپنیوں کے پاس کیش فلو کا شدید بحران ہے اور وہ مہنگا تیل امپورٹ کرنے سے قاصر ہیں۔
-
امپورٹ کارگوز کی منسوخی: گزشتہ ماہ کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے 37,000 ٹن کا ایک بحری جہاز امپورٹ کی منظوری حاصل نہ کر سکا، جبکہ 4 بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مشترکہ کارگوز بھی منسوخ ہو چکے ہیں۔
-
کسٹمز اور وی بوک (WeBOC) کا سست نظام: جو ایندھن بندرگاہ پر پہنچ بھی رہا ہے، وہ کسٹمز کے سست ترین ‘WeBOC’ کلیئرنس سسٹم کے باعث پورٹ سے ریلیز ہونے میں تاخیر کا شکار ہے، جس سے ملک کے بالائی علاقوں تک ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
-
او سی اے سی (OCAC) کا ہنگامی خط: آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے پیٹرولیم منسٹر کو ایک ہنگامی خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں فوری فروخت کے لیے دستیاب انوینٹری خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔
ڈیزل کا کیا بنے گا؟ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کے حوالے سے صورتحال فی الحال اطمینان بخش ہے کیونکہ مقامی ریفائنریز کی بدولت ملک میں 500,000 ٹن ڈیزل کا اسٹاک موجود ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول نایاب ہوا تو عوام کی جانب سے ڈیزل گاڑیوں پر دباؤ اور ڈیلرز کی ذخیرہ اندوزی اس سیگمنٹ کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
پاک ویلز کا حتمی فیصلہ (The PakWheels Take)
اب گیند پوری طرح حکومت اور اوگرا (OGRA) کے کورٹ میں ہے۔ کسٹمز کے معاملات کو فوری طور پر حل کرنا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے واجب الادا بقایا جات جاری کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ ملک کا پہیہ چلتا رہے۔
صارفین کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ پینک بائینگ (گھبراہٹ میں خریداری) سے بچیں، رش سے بچنے کے لیے رات گئے یا صبح سویرے فیول اپ کریں، اور اگر کوئی پیٹرول پمپ مالکن جان بوجھ کر سپلائی روک کر ذخیرہ اندوزی کر رہا ہو تو اس کی شکایت فوری طور پر ضلعی انتظامیہ یا اوگرا کی ہیلپ لائن پر درج کروائیں۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں، اوگرا کے ایکشنز اور روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی دستیابی کی رپورٹس کے لیے پاک ویلز بلاگ مانیٹر کرتے رہیں۔

تبصرے بند ہیں.