وزیراعظم کا کفایت شعاری منصوبہ: سرکاری گاڑیوں اور پیٹرول میں بڑی کٹوتی

27

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے ایک نئے پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کے واضح ترین اقدامات سرکاری ٹرانسپورٹ سے متعلق ہیں۔

آٹو سیکٹر (گاڑیوں کی صنعت) کے لیے اس کا اہم پیغام براہِ راست اور فوری ہے: حکومت سرکاری گاڑیوں کی نقل و حرکت میں کمی کر رہی ہے، ایندھن کے کوٹے میں آدھی کمی کر دی گئی ہے، اور سرکاری شعبے میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔

اعلان کردہ اقدامات کے مطابق، اگلے دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں کو ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ اسی مدت کے دوران وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کی 60 فیصد گاڑیاں سڑکوں پر نہیں آئیں گی۔ حکومت نے اس بات کی بھی توثیق کی ہے کہ ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر موجودہ پابندی جون 2026 تک برقرار رہے گی اور اس میں کوئی استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔

دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کٹوتی

اس پیکیج کا گاڑیوں پر سب سے نمایاں اثر سرکاری استعمال پر پابندی ہے۔ یہ اقدامات تمام وفاقی حکومتی اداروں بشمول وزارتوں، ڈویژنز، محکموں، خود مختار اداروں، آئینی حکام، سرکاری ملکیتی اداروں، مقننہ، دفاعی اداروں اور عدلیہ پر لاگو ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں سے بھی اسی پالیسی کو اپنانے کی درخواست کی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ تک کھڑی رہیں گی۔ حکومت ایندھن کی کھپت کو مزید کم کرنے کے لیے ‘کار پولنگ’ (ایک ہی گاڑی میں مل کر سفر کرنے) کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔ تاہم، آپریشنل گاڑیاں جیسے کہ بسیں، ایمبولینسیں اور موٹر سائیکلیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گی۔

ایندھن کے کوٹے میں پچاس فیصد کمی

ایک اور بڑا قدم اگلے دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی بچت کو اب فوری ترجیح کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ عملی طور پر اس اقدام سے سرکاری دوروں میں کمی، گاڑیوں کی نقل و حرکت میں محدودیت اور عوامی شعبے کے اداروں میں ٹرانسپورٹ کے استعمال میں سختی آنے کی توقع ہے۔

نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی برقرار

یہ پیکیج مستقبل قریب کے لیے حکومت کو نئی گاڑیوں کی مارکیٹ سے باہر رکھے گا۔ سرکاری مراسلے کے مطابق تمام نئی گاڑیوں کی خریداری پر موجودہ پابندی جون 2026 تک بلا استثنیٰ نافذ رہے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ سرکاری ادارے نئی گاڑیوں کے حصول کے لیے مارکیٹ کا رخ نہیں کریں گے۔

اس مرحلے پر یہ اعلان نجی گاڑیوں کی فروخت پر کسی وسیع پابندی کی تجویز نہیں دیتا۔ تاہم، یہ ایک ایسے وقت میں سرکاری خریداری کی حدود کو تقویت دیتا ہے جب آٹو مارکیٹ پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

رفتار کی حد میں بھی کمی

کفایت شعاری پیکیج میں ایندھن بچانے کے اقدامات کے طور پر رفتار کی حد (speed limits) میں کمی بھی شامل ہے۔ اعلان کردہ منصوبے کے تحت:

  • موٹروے پر رفتار کی حد: 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کم کی جائے گی۔

  • ہائی ویز پر رفتار کی حد: 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کم کی جائے گی۔

نجی گاڑی مالکان کے لیے یہ اس پیکیج کے ان چند حصوں میں سے ایک ہے جو براہِ راست روزمرہ کے سڑک کے استعمال کو متاثر کرتا ہے۔ ابھی یہ واضح ہونا باقی ہے کہ ان حدود کا نفاذ کیسے کیا جائے گا اور کیا مختلف راستوں پر عمل درآمد میں فرق ہوگا۔

آٹو انڈسٹری کے لیے اہم نکات

فی الوقت سب سے واضح اثر سرکاری ٹرانسپورٹ اور اداروں کی خریداری پر پڑے گا۔ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر مسلسل پابندی کا مطلب ہے کہ جون 2026 تک سرکاری شعبے کی مانگ کم رہے گی۔

ابھی مزید رپورٹنگ کی ضرورت ہے کہ آیا جاری ٹینڈرز متاثر ہوں گے، کیا مقامی اسمبلرز یا ڈیلرز اس پابندی کے اثرات محسوس کریں گے، اور رفتار کی نئی حدود پر کتنی سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بعد میں ایسا ڈیٹا جاری کرے گی جس سے معلوم ہو سکے کہ ان اقدامات سے اصل میں کتنا ایندھن بچایا گیا۔

مجموعی طور پر کفایت شعاری پیکیج کئی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، لیکن آٹو سیکٹر پر اس کے اثرات واضح ہیں: سڑکوں پر کم سرکاری گاڑیاں، ایندھن کا کم استعمال، اور فی الحال نئی سرکاری گاڑیوں کی کوئی خریداری نہیں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel