ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ٹرانسپورٹ نے موٹر ٹرانسپورٹ (MT) ونگ کو ان قوانین پر فوری عمل درآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ افسران کے رینک، گاڑی کی پاور اور پٹرول کی حد کا مکمل بریک ڈاؤن کلاسک پاک ویلز بلاگ ٹیبل میں درج ذیل ہے:
| پولیس افسر کا رینک (Rank) | آفیشل ڈیوٹی گاڑی (Engine cc) | ماہانہ پٹرول کوٹہ (آفیشل) | ذاتی استعمال کی گاڑی اور پٹرول |
| انسپکٹر جنرل (IG) پنجاب | 2,800 cc (فارچیونر / ریوو) | 500 لیٹر | 1,800 cc گاڑی + 300 لیٹر پٹرول |
| آئی جی پنجاب (آؤٹ آف اسٹیشن) | 4,700 cc (لینڈ کروزر V8) | ضرورت کے مطابق (Actual) | — |
| ایڈیشنل آئی جیز (گریڈ 21) | 2,800 cc گاڑی | بجٹ کے مطابق | 1,800 cc گاڑی + 250 لیٹر پٹرول |
| ڈی آئی جیز (DIGs) (گریڈ 20) | 1,500 cc (یاقوت / سٹی / السوین) | 250 لیٹر | — |
| ایس ایس پیز (SSPs) (گریڈ 18) | 1,500 cc گاڑی | 200 لیٹر | — |
| RPOs، DPOs اور DSPs | مخصوص بجٹ کے مطابق | محکمہ فنانس کی حد | متعلقہ اٹیچڈ اسٹرکچر کے مطابق |
اضافی گاڑیاں فوری واپس کرنے کا حکم
اس نئی پالیسی کے تحت تمام پولیس افسران کو سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں یا دفاتر میں موجود ایسی تمام سرکاری گاڑیاں فوری طور پر سرینڈر (واپس) کر دیں جو ان کے نئے مقرر کردہ کوٹے سے زیادہ ہیں۔
مزید برآں، مختلف ‘محکمانہ پروجیکٹس’ کے نام پر دوسرے محکموں سے عاریتاً لی گئی (ادھار مانگی گئی) تمام گاڑیاں بھی واپس چھین کر ان کے اصل پیرنٹ محکموں کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
پاک ویلز کا حتمی فیصلہ (The PakWheels Take)
ایک ایسے وقت میں جب پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام پاکستانی شہری کے ماہانہ بجٹ کے لیے ایک مستقل عذاب بنی ہوئی ہیں، سرکاری سطح پر پٹرول کے استعمال اور بڑی گاڑیوں کے انجن سائز کو محدود کرنا ایک انتہائی خوش آئند اور درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔
افسران کے اس پروٹوکول اسکواڈ کو اسٹینڈرڈائز (محدود) کرنے سے نہ صرف قومی خزانے کے اربوں روپے بچیں گے، بلکہ مہنگی اور بھاری امپورٹڈ یا لوکل لگژری کروزرز (جیسے فورچیونر اور وی ایٹ) کے بے جا اور ذاتی استعمال کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ اب اصل امتحان اس پالیسی پر سختی سے اور بغیر کسی استثنا کے عمل درآمد کروانا ہے۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں، سرکاری فلیٹ مینیجمنٹ کے ٹینڈرز اور آٹو انڈسٹری کی لائیو خبروں کے لیے پاک ویلز بلاگ مانیٹر کرتے رہیں۔
تبصرے بند ہیں.