مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب ٹریفک پولیس نے 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جوینائل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کر دیا۔ فیس، قوانین اور ضروری کاغذات کی تفصیل۔
View this post on Instagram
رمٹ کی تفصیلات اور اہلیت
حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق، اس پرمٹ کا فریم ورک درج ذیل ہے:
-
عمر کی حد: 16 سے 18 سال۔
-
پرمٹ فیس: 500 روپے (یہ پرمٹ 1 سال کے لیے کارآمد ہوگا)۔
-
مجاز گاڑیاں (Allowed Vehicles): صرف 125-cc تک کے موٹر سائیکلز اور اسکوٹرز/اسکوٹیز۔
ضروری دستاویزات
جوینائل ڈرائیونگ پرمٹ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل دستاویزات کا ہونا لازمی ہے:
-
بی-فارم (B-Form) یا اسمارٹ کارڈ: سرکاری طور پر عمر کی تصدیق کے لیے۔
-
والدین/سرپرست کا حلف نامہ (Affidavit): جس میں والدین کی رضامندی اور بچے کی سڑک پر حفاظت و ذمہ داری کا اقرار شامل ہو۔
سخت قوانین جن کی پابندی لازمی ہے
ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ پرمٹ کسی رعایت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ نوعمر رائڈرز پر بھاری ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ پرمٹ ہولڈرز کے لیے درج ذیل قوانین پر عمل کرنا لازمی ہوگا:
-
موٹر سائیکل یا اسکوٹی چلاتے وقت ہیلمٹ کا استعمال لازمی ہے۔
-
ٹریفک کے تمام قوانین، لین ڈسپلن اور اسپیڈ لمٹس کی سخت پابندی کرنی ہوگی۔
-
خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف پرمٹ منسوخ کیا جا سکتا ہے بلکہ والدین کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔
پاک ویلز کا حتمی فیصلہ
برسوں سے پاکستان میں نوعمر بچوں کے لیے کوئی قانونی لائسنسنگ آپشن موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے طلباء کو اسکول یا کالج جانے کے لیے مجبوراََ غیر قانونی طور پر بائیک چلانی پڑتی تھی۔ پاک ویلز ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ صرف چالان یا سزائیں بڑھانا حل نہیں ہے، بلکہ نوجوانوں کو ایک قانونی راستہ اور سیفٹی ٹریننگ دینا زیادہ ضروری ہے۔
یہ نیا پرمٹ بلاشبہ ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے، جو ایک زمینی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے والدین کو بھی حلف نامے کے ذریعے جوابدہ بناتا ہے۔ اب یہ نوجوان رائڈرز اور ان کے والدین کا فرض ہے کہ وہ سڑکوں پر ذمہ داری کا ثبوت دیں۔
پنجاب ٹریفک پولیس کے لائسنسنگ سینٹرز اور آن لائن اپلائی کرنے کے طریقے کی لائیو اپڈیٹس کے لیے پاک ویلز بلاگ کے ساتھ جڑے رہیں۔

تبصرے بند ہیں.