لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے الیکٹرک بسوں کی خریداری کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ واپس لینے کے بعد کیس باضابطہ طور پر بند کر دیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے اب 100 ماحول دوست بسوں کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جو صوبے میں اسموگ پر قابو پانے اور ایندھن کے اخراجات کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ (بشکریہ: ڈان نیوز)
حکومت کا معاہدہ منسوخی کا فیصلہ واپس
حالیہ سماعت کے دوران، پنجاب حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس نے وہ خط واپس لے لیا ہے جس کے ذریعے اربوں روپے کا یہ معاہدہ پہلے منسوخ کیا گیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے سے نجی سپلائر ‘یونیورسل موٹرز’ کے ساتھ معاہدہ بحال ہو گیا ہے، جس سے منصوبے کو اصل منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھانے کی اجازت مل گئی ہے۔
عدالتی کارروائی کا اختتام
معاہدہ بحال ہونے پر جسٹس جواد حسن نے قانونی درخواست کو “مزید غیر ضروری” قرار دیتے ہوئے کارروائی باضابطہ طور پر ختم کر دی۔ اس سے قبل عدالت نے معاہدے کی منسوخی کے حکومتی فیصلے کو قانونی بنیاد نہ ہونے پر معطل کر دیا تھا۔
پسِ منظر: ایک قانونی جنگ
یہ پیش رفت اس قانونی لڑائی کے بعد سامنے آئی ہے جہاں عدالت نے حکومت کے 4.58 ارب روپے کے معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش روک دی تھی۔ سپلائر نے اس منصوبے پر پہلے ہی نمایاں کام مکمل کر رکھا تھا، جس میں شامل ہیں:
-
بس کے ابتدائی نمونے کی تیاری اور منظوری۔
-
458 ملین روپے سے زائد کی سیکیورٹی بانڈ کی ادائیگی۔
-
کام شروع کرنے کے لیے ابتدائی ادائیگیوں کی وصولی۔
اثرات: پنجاب کا الیکٹرک بس منصوبہ دوبارہ پٹڑی پر
معاہدے کی بحالی کے ساتھ ہی پنجاب 100 الیکٹرک بسوں کے تعارف کے قریب پہنچ گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ بسیں لاہور سمیت بڑے شہروں میں ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی کریں گی اور فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ یہ منصوبہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک ماڈل بن سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.