پنجاب کے محکمہ داخلہ نے ٹریفک جرمانوں میں کمی کی سمری منظور کر لی ہے، جس کا مقصد روزانہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے اور موٹر سائیکل سواروں پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل یہ جرمانے 200 روپے سے بڑھا کر 2,000 روپے تک کر دیے گئے تھے، جس پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا تھا۔
جرمانوں کا نیا ڈھانچہ (مجوزہ):
| خلاف ورزی کی قسم | موجودہ جرمانہ (روپے) | نیا مجوزہ جرمانہ (روپے) | کمی (روپے) |
| بغیر ہیلمٹ (موٹر سائیکل) | 2,000 | 1,000 | 1,000 |
| سگنل توڑنا / اوور لوڈنگ | 3,000 | 1,000 | 2,000 |
| ون وے / غلط راستہ | 2,000 | 1,200 | 800 |
| تیز رفتاری (کار) | 2,500 | 1,500 | 1,000 |
| کم عمری میں ڈرائیونگ | 5,000 | 2,500 | 2,500 |
شہریوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
پنجاب کے شہریوں کے لیے یہ فیصلہ کسی بڑی نعمت سے کم نہیں، کیونکہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گاڑیوں کے دیکھ بھال کے اخراجات نے پہلے ہی عوام کا بجٹ متاثر کر رکھا تھا۔
-
موٹر سائیکل سواروں کو فائدہ: سب سے زیادہ ہونے والا “ہیلمٹ چالان” اب آدھا کر دیا گیا ہے۔
-
ڈیجیٹل مانیٹرنگ: جرمانے کم ہونے کے باوجود ای چالان اور مصنوعی ذہانت (AI) والے کیمروں کے ذریعے نگرانی کا عمل پہلے کی طرح جاری رہے گا۔
پاک ویلز بصیرت: اگرچہ جرمانے کم ہو رہے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی جائے۔ ایک ہزار روپے کا چالان بھی آپ کی جیب پر غیر ضروری بوجھ ہے۔ ڈرائیورز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا ای چالان اسٹیٹس باقاعدگی سے چیک کریں اور اپنے تمام دستاویزات ڈیجیٹل سسٹم (DLIMS) میں اپ ڈیٹ رکھیں۔

تبصرے بند ہیں.