پنجاب میں پہیہ جام ہڑتال: ٹرانسپورٹرز کا ٹریفک آرڈیننس 2025 واپس لینے کا مطالبہ

202

لاہور— پورے پنجاب میں آج ٹرانسپورٹ کا نظام تھم گیا ہے، کیونکہ ہزاروں ڈرائیوروں نے نئے ٹریفک آرڈیننس 2025 کے خلاف ‘پہیہ جام’ ہڑتال شروع کر دی ہے۔ اس نئے آرڈیننس میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر عائد جرمانے بہت زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں۔

جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا، ٹرانسپورٹرز نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر آرڈیننس واپس نہ لیا گیا تو وہ 8 دسمبر کو صوبہ بھر میں ہڑتال کریں گے۔

پاکستان ٹرانسپورٹ یونائیٹڈ ایکشن کمیٹی (PTUAC) کی قیادت میں ہونے والی اس ہڑتال نے انٹرسٹی بسیں، سٹی وینز، مال بردار ٹرک، رکشے، اور لوڈرز کو روک دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں اور شہروں میں ترسیل کا عمل شدید متاثر ہوا ہے۔

PTUAC کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ “یہ نئے جرمانے ہماری قوتِ خرید سے باہر ہیں، اور انہیں بغیر کسی مشاورت کے نافذ کیا گیا ہے۔”

اسلام آباد – راولپنڈی بھی احتجاج میں شامل

یہ ہڑتال صرف لاہور، فیصل آباد اور ملتان تک محدود نہیں ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مقامی پبلک ٹرانسپورٹرز نے بھی 8 دسمبر کو پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی ہے، اور احتجاج کو ملتوی کرنے کی مقامی حکام کی اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے۔

ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندوں کے مطابق، نئے ٹریفک قوانین کے تحت جرمانے میں اضافے سے بڑے  گاڑیوں کے آپریٹرز شدید متاثر ہو رہے ہیں، جس سے وسیع مالی دباؤ پڑ رہا ہے۔ جڑواں شہروں میں مال بردار اور فریٹ کیریئرز نے ہڑتال کی مکمل حمایت کا عہد کیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق تمام بڑے ٹرانسپورٹ اڈے بند ہیں۔

بات چیت تعطل کا شکار — دوسری ملاقات آج دوپہر 2 بجے

ٹرانسپورٹرز اور پنجاب حکومت کے درمیان بات چیت کا ایک سابقہ دور کسی حل پر پہنچے بغیر ناکام ہو گیا۔ ایک دوسری ملاقات آج دوپہر 2:00 بجے طے شدہ ہے۔

تاحال، حکام نے قانون کو مؤخر یا معطل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پنجاب کے آئی جی پی ڈاکٹر عثمان انور نے ہڑتال کو “بلیک میلنگ” قرار دیا ہے اور سڑکوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے نئے جرمانوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع کیا ہے۔

انہوں نے کہا، “لائسنس کے بغیر گاڑی چلانا تباہی کو دعوت دیتا ہے۔ ہم سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”

ٹرانسپورٹرز احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

ٹریفک آرڈیننس 2025 کے تحت ان خلاف ورزیوں کے جرمانے میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے:

  • بغیر لائسنس گاڑی چلانا

  • مال یا مسافروں کی اوور لوڈنگ

  • روٹ پرمٹ کے بغیر چلانا

  • تیز رفتاری یا ٹریفک سگنل توڑنا

ٹرانسپورٹرز، بالخصوص چھوٹے پیمانے کے ڈرائیورز، کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی دباؤ کے پیش نظر یہ جرمانے بہت سخت ہیں۔

ہڑتال سے پنجاب کیسے متاثر ہو رہا ہے؟

اس ہڑتال کا اثر وسیع ہے:

  • مسافر پھنسے: لاہور، فیصل آباد، جڑواں شہروں اور ملتان جیسے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ خدمات سڑکوں سے غائب ہیں۔

  • سامان میں تاخیر: تقسیم  کے تمام راستوں پر خوراک، ایندھن، اور صنعتی سامان کی ترسیل سست پڑ گئی ہے۔

  • مارکیٹ متاثر: پرچون فروشوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہڑتال جاری رہی تو قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

PTUAC کے رہنماؤں نے خبردار کیا، “اگر آج کی بات چیت ناکام ہوئی، تو ہم اس کو ملک گیر ہڑتال میں بدل دیں گے۔”

ان کا کہنا ہے کہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت نئے آرڈیننس کو واپس نہیں لے لیتی یا اس میں ترمیم نہیں کرتی۔

اب آگے کیا ہوگا؟

تمام نظریں اب 2:00 بجے کی ملاقات پر ہیں۔ اگر بات چیت کامیاب ہوتی ہے، تو خدمات جلد بحال ہو سکتی ہیں۔ اگر نہیں، تو پنجاب کو مزید بڑے تعطل یا ملک گیر احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آٹوموٹو خبروں، ٹرانسپورٹ پالیسیوں اور پاکستان میں کار لانچز کی تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے پاک ویلز بلاگز پر جائیں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel