حکومتِ پنجاب نے 150cc تک کی موٹر سائیکلوں کے لیے ٹرانسفر فیس (تبدیلیِ ملکیت کی فیس) ختم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں پٹرول کی قیمت 414 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اس ریلیف کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کا مقصد ان عام صارفین پر بوجھ کم کرنا ہے جو روزانہ کی آمد و رفت کے لیے 70cc، 100cc، 125cc اور 150cc موٹر سائیکلوں پر انحصار کرتے ہیں۔
عوامی وزیر اعلیٰ کا احسن اقدام!
ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف کیلئے 150 cc تک کی موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس ختم کرنے کا فیصلہ۔ pic.twitter.com/diXs5c5nTE
— PMLN (@pmln_org) May 11, 2026
ریلیف کا وقت اور پٹرول کی قیمتیں
یہ ریلیف وفاقی حکومت کی جانب سے 9 مئی 2026 کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔
-
پٹرول: 14.92 روپے اضافے کے بعد اب 414.78 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے۔
-
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 15 روپے اضافے کے بعد اب 414.58 روپے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔
یہ ریلیف کیوں اہم ہے؟
پنجاب میں موٹر سائیکل کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے سواری کا واحد سہارا ہے۔ طلبہ، دفتری ملازمین، مزدور اور ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے بائیک ہی سب سے سستا ذریعہ معاش ہے۔ ٹرانسفر فیس کے خاتمے سے:
-
پرانی بائیک خریدنا تھوڑا آسان ہو جائے گا۔
-
لوگ بائیک کو قانونی طور پر اپنے نام کروانے کی ترغیب پائیں گے۔
-
قانونی پیچیدگیوں، چالان اور دوبارہ فروخت میں آسانی ہوگی۔
عوامی ردعمل: “ہمیں فیس نہیں، سستا پٹرول چاہیے”
اگرچہ فیس کا خاتمہ ایک اچھا قدم ہے، لیکن عوامی حلقوں میں اسے ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل دباؤ ٹرانسفر فیس نہیں بلکہ پٹرول کی قیمت ہے۔
-
ون ٹائم بمقابلہ روزانہ کا خرچ: ٹرانسفر فیس ایک بار ادا کرنی پڑتی ہے، جبکہ پٹرول کا خرچہ روزانہ کا ہے جو ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
-
مطالبہ: سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو انتظامی فیسوں میں کٹوتی کے بجائے پٹرول کی قیمت کم کرنی چاہیے تاکہ براہِ راست ریلیف مل سکے۔
پاک ویلز کی رائے
پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ عملی لیکن محدود ہے۔ 150cc تک کی بائیکس کے لیے فیس ختم کرنا ایک اچھا قدم ہے، جس سے قانونی دستاویزات کی تکمیل میں بہتری آئے گی۔
تاہم، اسے ایک “بڑا ریلیف” کہنا مبالغہ آرائی ہوگی۔ جب پٹرول 414.78 روپے پر ہو، تو موٹر سائیکل مالکان کو کاغذات کی بچت سے زیادہ سستے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اقدام صرف جزوی مدد فراہم کرتا ہے، عوام کا غم و غصہ تبھی کم ہوگا جب ایندھن کی قیمتیں مستحکم ہوں گی یا پٹرول پر ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.