رمضان 2026: افطار کے رش میں محفوظ ڈرائیونگ کے لیے اہم مشورے

16

جیسے جیسے رمضان قریب آ رہا ہے، پاکستان بھر میں ٹریفک کے پیٹرن تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں، خاص طور پر افطار سے پہلے کے آخری گھنٹے میں، جب رش عروج پر ہوتا ہے اور معمولی حادثات میں عام طور پر اضافہ ہو جاتا ہے۔

دفاتر کے اوقات میں تبدیلی، مصروف بازاروں اور ڈیلیوری کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بڑے شہروں کی سڑکوں پر معمول سے زیادہ دباؤ دیکھا جاتا ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر میٹروپولیٹن علاقوں کی بڑی شاہراہوں پر اس دوران سگنل کی خلاف ورزی، ڈبل پارکنگ اور لین کی جارحانہ تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔

رمضان صبر اور ضبط نفس کا درس دیتا ہے۔ اسی نظم و ضبط کو روزمرہ کے سفر پر لاگو کرنے سے بچاؤ کے قابل حادثات کو کم کرنے اور پہلے سے پرہجوم سڑکوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاک ویلز  کی جانب سے افطار کے وقت ٹریفک کے دباؤ سے بچنے اور محفوظ سفر کے لیے خصوصی ہدایات درج ذیل ہیں:

افطار سے پہلے ٹریفک جام کی بڑی وجوہات

مغرب سے تقریباً 60 سے 90 منٹ پہلے سڑکوں پر سب سے زیادہ رش ہوتا ہے، جس کی وجوہات یہ ہیں:

  • دفاتر کی بیک وقت چھٹی اور ملازمین کی گھر واپسی۔

  • افطاری کی خریداری کے لیے بازاروں میں رش۔

  • ڈیلیوری رائیڈرز کی جانب سے آرڈرز پہنچانے کی جلدی۔

  • اشارہ توڑنا اور غلط لین میں ڈرائیونگ کرنا۔

محفوظ سفر کے لیے اہم مشورے

1. سفر کی پہلے سے منصوبہ بندی کریں

  • رش کے اوقات شروع ہونے سے پہلے گھر سے نکلیں۔

  • سودا سلف اور بیکری کے کام دوپہر میں ہی مکمل کر لیں۔

  • رش سے بچنے کے لیے متبادل راستوں اور گوگل میپس کا استعمال کریں۔

2. ٹریفک قوانین کی پابندی

  • سگنل ہرگز نہ توڑیں: افطار میں چند منٹ کی تاخیر کسی بڑے حادثے سے بہتر ہے۔

  • لین ڈسپلن: اپنی مخصوص لین میں رہیں اور بلا ضرورت اوور ٹیکنگ سے گریز کریں۔

  • فاصلہ برقرار رکھیں: اچانک بریک لگنے کی صورت میں ٹکر سے بچنے کے لیے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔

3. ڈبل پارکنگ سے گریز

  • رمضان بازاروں کے باہر غلط پارکنگ سڑک کو تنگ کر دیتی ہے، جس سے طویل ٹریفک جام ہوتا ہے۔ ہمیشہ صحیح جگہ پر پارکنگ کریں چاہے تھوڑا پیدل چلنا پڑے۔

4. اگر راستے میں روزہ کھل جائے

  • گاڑی میں پانی اور کھجوریں لازمی رکھیں تاکہ اگر آپ ٹریفک میں پھنس جائیں تو سکون سے روزہ افطار کر سکیں۔ افطاری کے لیے گاڑی کو سڑک کے بیچ میں روکنے کے بجائے کسی محفوظ جگہ پر سائیڈ میں کھڑی کریں۔

موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں کے لیے ہدایت

  • ون وے کی خلاف ورزی نہ کریں: وقت بچانے کے چکر میں غلط سمت سے آنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

  • فٹ پاتھ پر ڈرائیونگ نہ کریں: یہ پیدل چلنے والوں کے لیے خطرناک ہے۔

  • ہیلمٹ کا استعمال لازمی کریں اور اشاروں کا بروقت استعمال کریں۔

حاصلِ کلام

رمضان صبر اور تحمل کا مہینہ ہے۔ سڑکوں پر بد نظمی کی بڑی وجہ ہماری انفرادی جلد بازی ہوتی ہے۔ اگر ہر شہری نظم و ضبط اور صبر کا مظاہرہ کرے تو افطار کا وقت سب کے لیے پرسکون اور محفوظ بن سکتا ہے۔

فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel