رینج روور اسپورٹ الیکٹرک ایس یو وی (Range Rover Sport Electric SUV) کا پروٹو ٹائپ متعارف کروا دیا گیا

26

الٹرا لگژری الیکٹرک ایس یو وی (SUVs) کا دور باقاعدہ طور پر اپنے اگلے باب میں داخل ہو چکا ہے۔ جیگوار لینڈ روور (JLR) نے یوکے (UK) میں منعقدہ ‘2026 گڈ ووڈ فیسٹیول آف اسپیڈ’ میں اپنے انتہائی متوقع رینج روور اسپورٹ الیکٹرک پروٹو ٹائپ سے پردہ اٹھایا ہے۔ فلیگ شپ رینج روور الیکٹرک کے ساتھ برانڈ کی دوسری مخصوص الیکٹرک گاڑی کے طور پر، یہ پرفارمنس پر مبنی ایس یو وی جدید لگژری اور الیکٹرک صلاحیتوں کو نئے سرے سے روشناس کرانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

جہاں آٹوموٹو کی دنیا اس کے عالمی ٹیسٹنگ فیز پر نظریں جمائے ہوئے ہے، وہیں یہ پیش رفت دنیا بھر میں لگژری کاروں کے شوقین افراد کے لیے، بشمول پاکستان کی پریمیم آٹوموٹو مارکیٹ کے، بہت اہمیت رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: زیکر 8X (Zeekr 8X) باضابطہ طور پر متعارف: رینج روور کو نشانہ بنانے والا ایک ہائبرڈ جائنٹ – پاک ویلز بلاگ

800V ٹیکنالوجی کے ساتھ کلاسک ڈیزائن کا امتزاج

ظاہری طور پر، رینج روور اسپورٹ الیکٹرک اپنے انٹرنل کمبشن انجن (ICE) یعنی پیٹرول/ڈیزل والے ماڈلز کی روایتی اور مضبوط بناوٹ کو برقرار رکھتی ہے۔ ظاہری تبدیلیاں جان بوجھ کر معمولی رکھی گئی ہیں، جو کہ ایروڈائینامکس کے لیے ایک اسٹائلش، بند فرنٹ گرل پینل اور پچھلے حصے سے ایگزاسٹ پائپوں کے واضح خاتمے تک محدود ہیں۔

اس دلکش ڈیزائن کے نیچے جے ایل آر (JLR) کا اپنا تیار کردہ انتہائی جدید الیکٹرک پاور ٹرین موجود ہے:

  • ڈوئل-موٹر AWD: دونوں ایکسلز پر ایک ایک الیکٹرک موٹر نصب ہے، جو متوازن 50:50 پاور فراہم کرتی ہے۔

  • V8 انجن کا مقابلہ کرنے والی پرفارمنس: اندازہ ہے کہ یہ سیٹ اپ 542 ہارس پاور (404 کلو واٹ) اور 850 نیوٹن میٹر کا فوری ٹارک پیدا کرے گا، جس سے یہ پیٹرول سے چلنے والے ٹوئن-ٹربو V8 ماڈلز کی رفتار کو چیلنج کر سکے گا۔

  • اگلی نسل کی چارجنگ: یہ گاڑی جدید 800-وولٹ آرکیٹیکچر پر بنائی گئی ہے، جو 350 کلو واٹ تک کی ڈی سی (DC) فاسٹ چارجنگ کو سپورٹ کرتی ہے۔

  • وسیع بیٹری گنجائش: ایک ڈبل اسٹیکڈ 118.5 کلو واٹ آور (kWh) کی قابلِ استعمال بیٹری ایک بار چارج کرنے پر تقریباً 300 میل (تقریباً 530 کلومیٹر) کی حقیقی ڈرائیونگ رینج فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹیر بائے وائر (Steer-by-Wire) کے ساتھ رینج روور سے متاثر ایکس پینگ GX ایس یو وی متعارف – پاک ویلز بلاگ

بین الاقوامی خصوصیات پر ایک نظر (تخمینہ):

خصوصیت تفصیلات (تخمینہ)
پاور ٹرین ڈوئل-موٹر آل-ویل ڈرائیو (AWD)
کل پاور آؤٹ پٹ 542 ہارس پاور
کل ٹارک 850 نیوٹن میٹر
بیٹری کا سائز 118.5 کلو واٹ آور (قابلِ استعمال گنجائش)
چارجنگ آرکیٹیکچر 800V (350 کلو واٹ تک ڈی سی فاسٹ چارجنگ)
ڈرائیونگ رینج تقریباً 530 کلومیٹر (WLTP بیس)

 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستانی مارکیٹ کا رخ: حقیقت بمقابلہ انفراسٹرکچر

پاکستان میں رینج روور اسپورٹ کا نام ایک لیجنڈری حیثیت رکھتا ہے۔ اسے ملک کے بڑے شہری مراکز جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اشرافیہ، کاروباری شخصیات اور اعلیٰ عہدے دار سیاست دانوں کے درمیان اسٹیٹس سمبل (عزت و مرتبہ کی علامت) سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ اس وقت پاکستان میں سستی چینی الیکٹرک گاڑیاں اور مقامی طور پر اسمبل شدہ ہائبرڈ کاریں ماحول دوست منتقلی پر حاوی ہیں، لیکن الٹرا لگژری سیگمنٹ مکمل طور پر مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔

اس الیکٹرک گاڑی کے منتظر پاکستانی خریداروں کے لیے، زمینی حقیقت کچھ یوں ہے:

  • سرکاری ذرائع: ملک میں جیگوار لینڈ روور گاڑیوں کی آفیشل ڈسٹری بیوشن اور فروخت کے بعد کی خدمات (after-sales support) کو باقاعدہ طور پر سگما موٹرز لمیٹڈ (Sigma Motors Limited) مینیج کرتی ہے۔ اگرچہ یہ مجاز کارپوریٹ چینل پاکستان میں مینوفیکچرر پائپ لائن اور علاقائی وارنٹیوں کی دیکھ بھال کرتا ہے، لیکن پریمیم ایس یو ویز کا ایک بڑا حصہ پرائیویٹ امپورٹ مارکیٹ کے ذریعے ملک میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں دنیا بھر میں ویٹنگ لسٹیں کھل رہی ہیں، وہیں پاکستان میں آفیشل امپورٹس عالمی پروڈکشن ٹائم لائنز کے تابع ہوں گی، جس کے باعث شو رومز پر ان کی آمد ممکنہ طور پر 2027 کے آخر تک ملتوی ہو سکتی ہے۔

  • امپورٹ ڈیوٹی کا عنصر: ایک مکمل طور پر تیار شدہ (CBU) لگژری گاڑی اور 118.5 کلو واٹ آور کی بڑی بیٹری ہونے کی وجہ سے، اس پر بھاری لگژری کسٹمز ڈیوٹیز اور ٹیکس لگیں گے، جس سے اس کی مقامی قیمت آسانی سے کئی کروڑوں روپے تک پہنچ جائے گی۔

  • چارجنگ کی محدودیت: رینج روور اسپورٹ ای وی (EV) کے 800-وولٹ آرکیٹیکچر کو تیزی سے چارج کرنے کے لیے 350 کلو واٹ کی اعلیٰ صلاحیت والے ڈی سی فاسٹ چارجرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان کا موجودہ پبلک چارجنگ انفراسٹرکچر بڑی حد تک 30 سے 60 کلو واٹ کے چارجرز تک محدود ہے جو چھوٹی گاڑیوں کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے مقامی مالکان کو تقریباً مکمل طور پر اپنی نجی رہائش گاہوں پر نصب کردہ خصوصی، ہیوی ڈیوٹی اے سی (AC) وال-باکس چارجرز پر انحصار کرنا پڑے گا، جو کہ خود ایک بڑی سرمایہ کاری ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ سے چوری ہونے والی رینج روور کراچی سے برآمد، کسٹمز کے قوانین کی خامیاں بے نقاب – پاک ویلز بلاگ

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا ایک الیکٹرک موٹر کی خاموش اور فوری پاور اس کلاسک، دھاڑتے ہوئے انجن کی شخصیت کا مقابلہ کر پائے گی جسے پاکستانی رینج روور کے چاہنے والے پسند کرتے ہیں؟ کیا آپ روایتی V8 کے مقابلے میں اس کا انتخاب کریں گے؟

항상 باخبر رہیں! آنے والی پریمیم گاڑیوں، مقامی مارکیٹ کے تجزیے اور آٹوموٹو کی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے ابھی پاک ویلز کے بلاگ سیکشن کا وزٹ کریں!

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel