وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راولپنڈی کے کچہری چوک ری ماڈلنگ منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے، جس کا نام اب تبدیل کر کے ‘معرکہِ حق اسکوائر’ رکھ دیا گیا ہے۔ اس پورے کوریڈور کو سگنل فری روٹ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں دو فلائی اوورز، تین انڈر پاسز اور پیدل چلنے والوں کے لیے اسٹیل کے دو پل شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 19 ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ راولپنڈی کے مصروف ترین جنکشنز میں سے ایک پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوریڈور روزانہ 2 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی نقل و حرکت میں مدد دے گا، جس سے مال روڈ، راشد منہاس روڈ، اولڈ ایئرپورٹ روڈ، صدر اور ملحقہ علاقوں کے درمیان رابطہ آسان ہو جائے گا۔
راولپنڈی کے ڈرائیوروں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
کچہری چوک طویل عرصے سے راولپنڈی کا سب سے زیادہ پرہجوم مقام رہا ہے، خاص طور پر دفتر، عدالت اور اسکول کے اوقات میں یہاں شدید رش ہوتا تھا۔ فلائی اوورز اور انڈر پاسز کے ذریعے ٹریفک کو تقسیم کر کے سگنل پر ہونے والی تاخیر، گاڑیوں کے رکنے کے وقت اور روزانہ کے ازدحام کو کم کرنا اس منصوبے کا اصل ہدف ہے۔
ڈرائیوروں کے لیے اس کا فائدہ صرف علامتی نہیں بلکہ عملی ہے: سفر میں روانی، کم سٹاپس اور ٹریفک میں پھنسے رہنے کی وجہ سے ضائع ہونے والے ایندھن کی بچت۔ ایک ایسے شہر میں جہاں دیکھ بھال کے اخراجات اور ایندھن کی قیمتیں روزمرہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، وہاں ٹریفک کے رش میں معمولی کمی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔
اہم ٹریفک لنکس
-
فلائی اوور: چار لین والا فلائی اوور مال روڈ کو راشد منہاس روڈ سے ملاتا ہے۔
-
انڈر پاس 1: اولڈ ایئرپورٹ روڈ کو صدر سے جوڑتا ہے۔
-
انڈر پاس 2: کچہری چوک سے مشتاق بیگ شہید روڈ تک۔
-
انڈر پاس 3: دو لین والا انڈر پاس جو افتخار جنجوعہ روڈ کو کچہری چوک سے ملاتا ہے۔
یہ لنکس اس لیے اہم ہیں کیونکہ کچہری چوک صرف ایک محلے کے لیے نہیں، بلکہ کنٹونمنٹ ایریاز، عدالتوں، تجارتی مراکز اور شہر کے اہم راستوں کے درمیان ایک مرکزی دباؤ کے نقطے کے طور پر کام کرتا ہے۔
پیدل چلنے والوں کی حفاظت: اصل امتحان
منصوبے میں پیدل چلنے والوں کے لیے جدید پل بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ سگنل فری کوریڈور گاڑیوں کے لیے تو تیز ہوتے ہیں لیکن پیدل چلنے والوں کے لیے سڑک عبور کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ اگر ان پلوں کا استعمال صحیح طریقے سے کیا جائے تو یہ حفاظت میں بہتری لائیں گے، ورنہ سڑک کی سطح پر پیدل چلنے والوں کی موجودگی حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
ڈرائیوروں کے لیے مشورہ
چونکہ کوریڈور کا ڈیزائن بدل چکا ہے، اس لیے ڈرائیوروں کو نئے راستوں، انڈر پاس کے داخلی راستوں اور فلائی اوور کے پوائنٹس سے مانوس ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔
-
لین مارکنگ کی پیروی کریں۔
-
انڈر پاس کے قریب اچانک گاڑی موڑنے سے گریز کریں۔
-
پرانی یادداشت کے بجائے نئے سائن بورڈز پر بھروسہ کریں۔
-
پیدل چلنے والے سڑک کے بیچ سے گزرنے کے بجائے پل استعمال کریں کیونکہ تیز رفتار ٹریفک میں سڑک عبور کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
پاک ویلز کی رائے
معرکہِ حق اسکوائر شہری ٹریفک کے انتظام کے لیے فلائی اوورز اور انڈر پاسز پر ہمارے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے منصوبے پرہجوم چوراہوں پر فوری ریلیف تو دیتے ہیں، لیکن ان کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار ٹریفک قوانین کے نفاذ، سروس روڈز کی مینجمنٹ، پارکنگ کنٹرول اور پیدل چلنے والوں کے ڈسپلن پر ہوتا ہے۔
راولپنڈی کے لیے اس کا افتتاح ایک بڑی خبر ہے۔ اصل نتیجہ تب معلوم ہوگا جب یہ کوریڈور رش کے اوقات میں اپنی کارکردگی ثابت کرے گا۔ ایک کامیاب منصوبہ وہ ہے جو صرف افتتاح کے دن اچھا نہ لگے، بلکہ روزانہ خاموشی سے لوگوں کا وقت بچائے۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.