فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کی زیرِ نگرانی بننے والا یہ 47 ارب روپے کا منصوبہ جی ٹی روڈ پر بانٹھ کے مقام کو ایم 2 موٹروے (تھلیاں انٹرچینج) سے جوڑے گا۔ بھاری انجینئرنگ اور پلوں کی تعمیر کا بڑا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، لیکن بظاہر چھوٹا نظر آنے والا آخری 10 فیصد کام دراصل سب سے اہم ہے:
-
مین لائن کارپیٹنگ: روڈ کا زیادہ تر حصہ تیار ہے، لیکن تقریباً 8 کلومیٹر کے حصے پر اسفالٹ (Carpeting) کی آخری تہیں بچھانا ابھی باقی ہے۔
-
حفاظتی ڈھانچے (Safety Barriers): سڑک کے دونوں اطراف حفاظتی جنگلے، لائٹنگ، اور سائن بورڈز لگانے کا کام جاری ہے۔
-
ٹیکنیکل توثیق (Engineering Validation): ایف ڈبلیو او کی طرف سے سڑک مکمل ہونے کے بعد بھی، صوبائی حکام ہائی اسپیڈ ٹریفک کھولنے سے پہلے ایک تھرڈ پارٹی سے دو ماہ کا سیکیورٹی اور اسٹرکچرل آڈٹ کروائیں گے تاکہ سڑک کی مضبوطی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
روٹ آرکیٹیکچر اور اہم انٹرچینجز
انجینئرنگ کے لحاظ سے یہ روڈ ایک 6 لین کنٹرولڈ ایکسیس ہائی وے ہے، جہاں گاڑیوں کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک مقرر کی جا سکے گی۔ اس روٹ پر 2 بڑے ندی کے پل، 12 نالہ کراسنگ اور 11 اوور پاسز بنائے گئے ہیں۔ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے 5 اسٹریٹجک انٹرچینج دیے گئے ہیں:
| انٹرچینج | کنکشن اور مقصد | موجودہ اسٹیٹس |
| بانٹھ (Baanth) | جی ٹی روڈ (G.T. Road) سے بلاواسطہ رابطہ | مرکزی ڈھانچہ مکمل |
| میرا مہرہ (Maira Mohra) | علاقائی ٹریفک کو بائی پاس تک رسائی دینا | آخری اسٹرکچرل ٹچز جاری |
| خسالہ (Khasala) | مرکزی ٹرانزٹ پوائنٹ | سیفٹی انسٹالیشن کا کام جاری |
| چنی شیر عالم | زرعی اور صنعتی سامان کی نقل و حمل کا مرکز | ڈرینیج (نکاسی آب) کا کام جاری |
| تھلیاں (Thalian) | ایم 2 موٹروے (M-2 Motorway) سے براہِ راست لنک | فائنل لنک پر کام جاری |
سیاسی اتار چڑھاؤ اور روٹ میں تبدیلیاں
راولپنڈی رنگ روڈ طویل عرصے تک سیاسی کھینچا تانی کا شکار رہی ہے۔ تحریک انصاف (PTI) کے دور میں اسے 68 کلومیٹر طویل لوپ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن الائنمنٹ کے تنازعات اور مبینہ زمین کے اسکینڈلز کی وجہ سے یہ منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا۔
بعد ازاں، حکومت کی تبدیلی اور مارچ 2022 میں تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے اگست 2023 میں روات کے مقام پر اس کا دوبارہ سنگِ بنیاد رکھا، اور منصوبے کو لاگت کم کرنے کے لیے موجودہ 38.3 کلومیٹر کے آپٹمائزڈ روٹ پر محدود کر دیا گیا۔
پاک ویلز حتمی فیصلہ
سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزرنے کے بعد، راولپنڈی رنگ روڈ کا 90 فیصد تک مکمل ہو جانا جڑواں شہروں کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اگرچہ عوام کو اس پر باقاعدہ سفر کرنے کے لیے چند ماہ کا مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن اب یہ منصوبہ مکمل طور پر ایک مادی حقیقت بن چکا ہے۔
اس روڈ کے باقاعدہ فعال ہونے سے بھاری کمرشل ٹریفک (ٹرک اور کنٹینرز) شہر کے اندر داخل ہوئے بغیر باہر سے ہی نکل جائیں گے، جس سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی اندرونی ٹریفک اور لاجسٹکس کا نظام مستقل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.