تیل کی بادشاہت اب الیکٹرک پر منتقل—سعودی عرب کے فیصلے کا پاکستان کے لیے پیغام
سعودی عرب کا ای وی انڈسٹری میں کودنا کوئی جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی معاشی چال ہے۔ اس کے دو بڑے ستون درج ذیل ہیں:
1. لوسیڈ موٹرز (Lucid Motors) میں $9.5 ارب کی سرمایہ کاری
لوسیڈ اس وقت دنیا کی سب سے لمبی رینج (516 میل فی چارج) دینے والی لگژری ای وی بناتی ہے۔ سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) 2019 سے اس کمپنی کا 60% شیئر ہولڈر ہے۔
-
لوکل فیکٹری: سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اکنامک سٹی (KAEC) میں لوسیڈ کا اسمبلنگ پلانٹ (AMP-2) باقاعدہ کام شروع کر چکا ہے۔
-
سرکاری معاہدہ: سعودی حکومت اگلے 10 سالوں میں لوسیڈ سے 1 لاکھ گاڑیاں خریدنے کی پابند ہے۔
-
اوبر (Uber) کا ساتھ: اپریل 2026 میں، اوبر نے گلوبل روبوٹیکسی (Robotaxi) نیٹ ورک کے لیے لوسیڈ سے 35 ہزار گاڑیاں خریدنے کا بڑا معاہدہ کیا ہے۔
2. ‘سیر’ (Ceer): سعودی عرب کا اپنا ای وی برانڈ
سعودی عرب نے صرف غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار نہیں کیا بلکہ اپنا ہوم برانڈ سیر (Ceer) لانچ کر دیا ہے۔ یہ پراجیکٹ تائیوان کی فاکس کون (Foxconn) کے ساتھ جوائنٹ وینچر ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے بڑے نام شامل ہیں:
-
BMW: جرمن جائنٹ نے سیر کو اپنی الیکٹرک پاور ٹرین ٹیکنالوجی کے لائسنس دیے ہیں۔
-
Hyundai Transys: ماس مارکیٹ ماڈلز کے لیے 2.18 ارب ڈالر کا ڈرائیو سسٹم کا معاہدہ۔
-
Rimac: ہائی پرفارمنس فلیگ شپ گاڑیوں کے لیے الیکٹرک سسٹم فراہم کرے گی۔
سعودی عرب کا ہدف 2030 تک سالانہ 5 لاکھ ای وی گاڑیاں مقامی طور پر تیار کرنا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا تیل بیچنے والا ملک ایسا کیوں کر رہا ہے؟
سعودی عرب کے اس اقدام کے پیچھے تین بڑی وجوہات ہیں، اور ان کا ماحولیات سے کوئی تعلق نہیں ہے:
-
وژن 2030 (Vision 2030): تیل کی معیشت پر انحصار ختم کرنا اور دنیا کے پٹرول سے شفٹ ہونے سے پہلے متبادل انڈسٹریل ریونیو کھڑا کرنا۔
-
اپنا تیل بچا کر باہر بیچنا: اگر سعودی عرب کے اپنے شہری الیکٹرک کاریں چلائیں گے، تو ملک کا خام تیل اندرونی استعمال میں ضائع ہونے کے بجائے دوسرے ممالک کو مہنگے داموں ایکسپورٹ کے لیے دستیاب ہوگا جہاں ابھی پٹرول انجن چل رہے ہیں۔
-
مستقبل کی سپلائی چین پر قبضہ: آنے والا دور انرجی ایکسپورٹ سے زیادہ ای وی ٹیکنالوجی اور بیٹری مینوفیکچرنگ کا ہے۔ سعودی عرب اس گلوبل پاور ہاؤس کی ٹیبل پر اہم سیٹ چاہتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
پاکستان کوئی اپنا ای وی برانڈ نہیں بنا رہا، لیکن سعودی عرب کا یہ شفٹ ہمارے لیے ڈو اور ڈائی (Do or Die) کی صورتحال ہے۔ پاکستان نے اپنے مجموعی امپورٹ بل کا ایک بہت بڑا حصہ (اربوں ڈالر) صرف پٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ پر خرچ کیا۔ ہماری ٹرانسپورٹ انڈسٹری ملک کا 79% پٹرول ہضم کر جاتی ہے۔ روپے کی گراوٹ اور پٹرول کا مہنگا ہونا اسی تیل کی غلامی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نیشنل ای وی پالیسی 2025-2030 کے اہداف
| انڈیکیٹر / میٹرک | موجودہ صورتحال اور ہدف |
| ای وی رجسٹریشنز (2021) | صرف 567 گاڑیاں |
| ای وی رجسٹریشنز (مڈ 2025) | 80,000 سے زائد (زیادہ تر 2 اور 3 وہیلرز) |
| 2030 تک سیلز کا ہدف | ملک میں بکنے والی تمام نئی گاڑیوں کا 30 فیصد الیکٹرک یا ہائبرڈ ہونا ضروری ہے۔ |
| چارجنگ اسٹیشنز کا ہدف | 2030 تک ملک بھر میں 3,000 چارجرز (مالی سال 2026 تک 240 چارجرز کا ہدف)۔ |
| پاور گرڈ کی گنجائش | پاکستان کا بجلی کا نیٹ ورک اپنی صلاحیت سے صرف 50% پر چل رہا ہے۔ یعنی اضافی بجلی موجود ہے جسے ای وی چارجنگ کے لیے استعمال کر کے امپورٹڈ پٹرول کا بل بچایا جا سکتا ہے۔ |
چیلنجز اور پاک ویلز کا حتمی فیصلہ
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ہے۔ 2019 کی ای وی پالیسی فور وہیلرز (کار مارکیٹ) میں بری طرح ناکام رہی کیونکہ حکومت نے اس پر مستقل مزاجی سے کام نہیں کیا۔ اب بھی ایک طرف حکومت ای وی لانے کے دعوے کرتی ہے تو دوسری طرف استعمال شدہ کاروں کی امپورٹ پر بھاری ڈیوٹیز لگا کر مارکیٹ میں متضاد سگنلز بھیجتی ہے، جس سے لوکل اور بین الاقوامی سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاک ویلز فائنل ورڈکٹ: جب دنیا کا سب سے بڑا تیل بیچنے والا ملک اپنے ہی پروڈکٹ کے خلاف ساڑھے 9 ارب ڈالر کا جوا کھیل رہا ہے، تو پاکستان جیسے پٹرول کے محتاج ملک کے پالیسی سازوں کے لیے اب یہ سوال ہی نہیں بچتا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے یا نہیں۔ ہمیں مڈ-2026 کے بعد اب ہنگامی بنیادوں پر لوکل ای وی اسمبلی پلانٹس اور چارجنگ نیٹ ورک کو سپورٹ کرنا ہوگا، اس سے پہلے کہ مقامی انڈسٹری بنانے کا یہ سنہری موقع ہمارے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے۔ آٹو انڈسٹری کی عالمی اور مقامی لائیو اپڈیٹس کے لیے پاک ویلز کو گوگل نیوز پر فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.