عالمی منڈی میں ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سپلائی اور ترسیل کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے عالمی بحری تیل کی تجارت کا تقریباً 27 سے 29 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے اس راستے میں معمولی سی رکاوٹ بھی ملک میں درآمدی لاگت اور قیمتوں میں فوری اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستان میں اس ہفتے کیا تبدیلیاں ہوئیں؟
حکومت نے یکم مارچ 2026 سے قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ کر دیا ہے:
-
پیٹرول: 8 روپے اضافے کے بعد 266.17 روپے فی لیٹر۔
-
ڈیزل (HSD): 5.16 روپے اضافے کے بعد 280.86 روپے فی لیٹر۔
کیا قلت کا خطرہ ہے یا صرف قیمتیں بڑھیں گی؟
اوگرا کے ترجمان اور حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 25 سے 28 دن کا اسٹاک موجود ہے۔
-
قلیل مدتی تعطل (چند دن سے 2 ہفتے): اس صورت میں پمپ خالی ہونے کے بجائے قیمتیں بڑھنے کا زیادہ امکان ہے، کیونکہ موجودہ اسٹاک فوری ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔
-
طویل مدتی تعطل : اگر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو انشورنس اخراجات اور عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات بار بار مہنگی ہو سکتی ہیں۔
ڈیزل کی قیمت آپ پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
اگرچہ آپ پیٹرول استعمال کرتے ہوں، لیکن ڈیزل کی قیمت میں اضافہ آپ کی جیب پر اثر ڈالتا ہے۔ ڈیزل مال برداری کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو:
-
روزمرہ کی اشیاء، خوراک اور تعمیراتی سامان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
-
ٹرانسپورٹ گروپوں کی ہڑتال کی دھمکی (جیسا کہ انہوں نے عید کے بعد کا کہا ہے) سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
تو، کیا آپ کو ابھی ٹینک فل کروانا چاہیے؟
موجودہ حالات میں خوف و ہراس کے بجائے سمجھداری سے کام لیں:
-
کب ری فل کروائیں؟ اگر آپ کی گاڑی کا ٹینک آدھا یا اس سے کم ہے، تو اسے بھروا لینا ایک معقول فیصلہ ہے، کیونکہ عالمی حالات غیر یقینی ہیں۔
-
کب ضرورت نہیں؟ اگر آپ کا ٹینک تقریباً بھرا ہوا ہے، تو دوبارہ “میکس آؤٹ” کرنے کی ضرورت نہیں۔
کیا نہ کریں:
-
ذخیرہ اندوزی نہ کریں: گھروں میں کین یا بوتلوں میں پیٹرول جمع کرنا خطرناک ہے اور اس سے مقامی طور پر مصنوعی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
-
پینک بائینگ سے بچیں: جب ہر کوئی ایک ساتھ پمپ کا رخ کرتا ہے تو قومی اسٹاک موجود ہونے کے باوجود پمپوں پر لائنیں لگ جاتی ہیں۔
حتمی مشورہ
آنے والے چند ہفتوں کے لیے اپنی گاڑی کا ٹینک آدھے سے اوپر رکھیں، رش کے اوقات کے علاوہ فیول ڈلوائیں اور حکومت کے پندرہ روزہ ریویو پر نظر رکھیں۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔
تبصرے بند ہیں.