سندھ کابینہ نے گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کے لیے “ایجنٹ کلچر” اور دستی معائنے (Manual Inspection) کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب گاڑیوں کی فٹنس کا فیصلہ یورپی معیار کی مشینیں کریں گی، جو سات بنیادی نکات پر گاڑی کی جانچ کریں گی۔
نئے نظام میں کیا ٹیسٹ ہوگا؟
اب صرف ظاہری حالت دیکھ کر فٹنس اسٹیمپ نہیں لگے گی، بلکہ درج ذیل ٹیسٹ لازمی ہوں گے:
-
بریک کی کارکردگی: آٹومیٹڈ مشینوں کے ذریعے بریک پاور کی جانچ۔
-
وہیل الائنمنٹ اور سسپنشن: سینسرز کے ذریعے یہ یقینی بنانا کہ گاڑی کا ڈھانچہ مضبوط ہے۔
-
دھویں کا اخراج (Emissions): کراچی میں سموگ اور فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت چیکنگ۔
-
ہیڈلائٹ اور شور کا معیار: رات کے وقت سامنے والے ڈرائیور کی حفاظت اور سائلنسر کے شور کی حد کا معائنہ۔
انسپکشن مراکز کہاں ہوں گے؟
حکومت نے پورے صوبے کو کور کرنے کے لیے درج ذیل مقامات پر مراکز کا فیصلہ کیا ہے:
-
کراچی: 5 مراکز (ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا مرکز ہونے کی وجہ سے)۔
-
دیگر شہر: حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ (شہید بینظیر آباد)، سکھر اور لاڑکانہ میں ایک ایک مرکز۔
-
موبائل یونٹس: دور دراز علاقوں اور ہائی ویز پر اچانک چیکنگ کے لیے 10 موبائل ٹیسٹنگ یونٹس بھی تعینات کیے جائیں گے۔
اہم ڈیڈ لائن: 30 جون 2026
سندھ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ 30 جون 2026 کے بعد تمام دستی (Manual) فٹنس سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد صرف وہی کمرشل گاڑیاں سڑک پر چل سکیں گی جن کے پاس ان جدید مراکز سے جاری کردہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ ہوگا۔
پاک ویلز بصیرت: یہ اقدام خاص طور پر بھاری گاڑیوں (ٹرکوں اور بسوں) کے لیے ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوگا۔ شاہراہِ فیصل اور M-9 موٹروے پر اکثر حادثات بریک فیل ہونے یا خراب ٹائروں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اگر یہ نظام شفاف طریقے سے کام کرتا ہے، تو سڑکوں پر صرف وہی گاڑیاں نظر آئیں گی جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

تبصرے بند ہیں.