سندھ : گاڑی کی نمبر پلیٹ اب مالک کے شناختی کارڈ سے منسلک

29

سندھ حکومت نے موٹر وہیکل ترمیمی ایکٹ 2024 نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اب گاڑیوں کی نمبر پلیٹس گاڑی کے بجائے مالک کے CNIC (شناختی کارڈ) کے نام جاری کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ رجسٹریشن کے نظام کو جدید بنانے اور دھوکہ دہی روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

نئے نظام کی اہم خصوصیات

  • پلیٹ اب مالک کی ملکیت ہے: جب آپ گاڑی فروخت کریں گے، تو نمبر پلیٹ آپ کے پاس ہی رہے گی۔ آپ اسے اپنے نام پر رجسٹرڈ کسی دوسری گاڑی پر لگا سکیں گے۔

  • ایک سال کی مہلت: اگر آپ گاڑی بیچ دیتے ہیں، تو آپ اپنی پرانی نمبر پلیٹ کو ایک سال تک “ڈی ایکٹیویٹ” حالت میں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

  • پہلے کیا تھا؟ اس سے پہلے نمبر پلیٹ گاڑی کے ساتھ ہی رہتی تھی، چاہے مالک بدل جائے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

گاڑیوں کی نئی کیٹیگریز

نئے قانون کے تحت گاڑیوں کی درجہ بندی کو سادہ کر دیا گیا ہے:

  1. پہلی کیٹیگری: موٹر سائیکل اور رکشہ۔

  2. دوسری کیٹیگری: تمام چار پہیہ گاڑیاں (کار، جیپ وغیرہ)۔

  • کمرشل اور پرائیویٹ کا فرق ختم کر دیا گیا ہے، اب تمام چار پہیہ گاڑیاں ایک ہی کیٹیگری میں ہوں گی۔

فیس اور ڈیزائن

  • معیاری پلیٹس: شناختی کارڈ پر مبنی سادہ پلیٹس کی کوئی اضافی فیس نہیں ہوگی۔

  • اجرک ڈیزائن پلیٹس: اجرک تھیم والی پلیٹس کو ٹرانسفر کیس کے طور پر لیا جائے گا اور ان پر متعلقہ فیس لاگو ہوگی۔

  • موجودہ نمبر پلیٹس: جو پلیٹس اس قانون سے پہلے جاری ہوئیں، انہیں اب خود بخود “پرسنلائزڈ” (شخصی) نمبر تسلیم کیا جائے گا۔

مقصد اور فائدہ

اس “مالک مرکوز” ماڈل کا مقصد گاڑیوں کے ریکارڈ کو شفاف بنانا ہے، تاکہ کسی بھی جرم یا حادثے کی صورت میں گاڑی کے بجائے اصل مالک تک پہنچنا آسان ہو۔ یہ سسٹم اسلام آباد اور دیگر صوبوں کے نقشِ قدم پر تیار کیا گیا ہے۔

فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel