سندھ ایکسائز نے گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی (ٹرانسفر) کے لیے فروخت کنندہ (سیلر) کی نادرا بائیومیٹرک تصدیق کی لازمی شرط میں 30 جون 2026 تک عارضی طور پر نرمی کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس کا نوٹیفکیشن سندھ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 6 مئی 2026 کو جاری کیا گیا۔ اس رعایت کے تحت، گاڑیوں کے خریدار اس استثنیٰ کی مدت کے دوران فروخت کنندہ کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق کے بغیر ٹرانسفر کے کیسز مکمل کر سکتے ہیں۔
سندھ حکومت نے قانون میں نرمی کیوں کی؟
اس اقدام کا مقصد عوام کے لیے گاڑیوں کی منتقلی میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنا نظر آتا ہے۔
استعمال شدہ گاڑیوں (used cars) کے بہت سے کیسز میں خریداروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ سابقہ مالک یا تو دستیاب نہیں ہوتا، ملک سے باہر ہوتا ہے، وفات پا چکا ہوتا ہے، تعاون نہیں کر رہا ہوتا یا اسے تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے جنہوں نے گاڑیاں تو خرید لی ہیں لیکن سیلر کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفر کا عمل مکمل نہیں کر پاتے۔
یہ عارضی استثنیٰ خریداروں کو 30 جون کی ڈیڈ لائن سے پہلے زیرِ التواء ٹرانسفر کیسز نمٹانے کے لیے اضافی وقت فراہم کرتا ہے۔
سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوگا؟
اس نرمی سے درج ذیل افراد کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا:
-
استعمال شدہ گاڑیوں کے وہ خریدار جن کے ٹرانسفر کیسز زیرِ التواء ہیں۔
-
وہ ڈیلرز جو پرانی یا تاخیر کا شکار فائلز پر کام کر رہے ہیں۔
-
وہ خریدار جنہوں نے ایسی گاڑیاں خریدیں جن کے مالکان اب دستیاب نہیں ہیں۔
-
وہ خاندان جو وراثت میں ملی یا پرانی گاڑیوں کی ملکیت کے مسائل کا شکار ہیں۔
-
ایسی گاڑیوں کے مالکان جو اب بھی کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔
کراچی اور سندھ کی استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ کے لیے یہ ایک بڑا سہولتی قدم ہے کیونکہ ٹرانسفر میں تاخیر یہاں ایک عام مسئلہ ہے، جو قانونی، ٹیکس اور چالان سے متعلق پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
گاڑی ٹرانسفر کروانا اب بھی کیوں ضروری ہے؟
اس نرمی کے باوجود، خریداروں کو ٹرانسفر کے عمل کو اختیاری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر گاڑی سابقہ مالک کے نام پر رجسٹرڈ رہے تو درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
-
ٹریفک چالان۔
-
ٹوکن ٹیکس کا ریکارڈ۔
-
ملکیت کے تنازعات۔
-
فروخت کی تصدیق۔
-
پولیس کی چیکنگ۔
-
مستقبل میں دوبارہ فروخت (resale)۔
-
حادثات یا قانونی ذمہ داری کے کیسز۔
خریدار کے پاس گاڑی کا جسمانی قبضہ تو ہو سکتا ہے، لیکن رجسٹریشن ریکارڈ اب بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عارضی رعایت کے دوران بھی ٹرانسفر مکمل کرنا ضروری ہے۔
خلاصہ کلام
سندھ حکومت کی جانب سے بائیومیٹرک میں نرمی گاڑیوں کے خریداروں، خصوصاً سیلر کی عدم دستیابی کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔
لیکن یہ رعایت عارضی ہے۔ خریداروں کو چاہیے کہ وہ 30 جون 2026 سے پہلے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے زیرِ التواء ٹرانسفرز مکمل کریں بجائے اس کے کہ عمل کو دوبارہ طول دیں۔ سندھ میں رجسٹرڈ استعمال شدہ گاڑی خریدنے والوں کے لیے محفوظ طریقہ یہی ہے: دستاویزات کی تصدیق کریں، واجبات ادا کریں، جلد از جلد ٹرانسفر مکمل کریں اور گاڑی کو زیادہ عرصے تک “اوپن ٹرانسفر” پر رکھنے سے گریز کریں۔

تبصرے بند ہیں.