سندھ میں موٹر وہیکل قانون میں بڑی تبدیلی
اسلام آباد – روڈ سیفٹی کو مضبوط بنانے اور حادثات کے متاثرین کے مالی تحفظ کے لیے ایک بڑی پالیسی تبدیلی لاتے ہوئے، حکومت سندھ نے صوبائی موٹر وہیکل قانون میں ترمیم کر دی ہے۔ اب تمام رجسٹرڈ گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی وہیکل انشورنس لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
اس اقدام سے ایک سخت ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جو صوبے بھر کے گاڑیوں کے مالکان پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت، حکام نے ایک نئی دفعہ شامل کی ہے جس کے مطابق کسی بھی گاڑی کی رجسٹریشن، ٹرانسفر، یا سالانہ ٹوکن ٹیکس کے اجراء کے لیے درست تھرڈ پارٹی لیبلٹی انشورنس ہونا ضروری ہے۔ اس پیشرفت کے ساتھ سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے ایک مضبوط قانونی فریم ورک کے ذریعے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کو لازمی نافذ کیا ہے۔
تھرڈ پارٹی وہیکل انشورنس کیا ہے؟
تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس ایک ایسی پالیسی ہے جو سڑک حادثے کی صورت میں کسی دوسرے شخص یا اس کی جائیداد کو پہنچنے والے نقصان کی مالی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ ڈرائیور کی اپنی گاڑی کے نقصان کا احاطہ نہیں کرتی، بلکہ حادثے کے متاثرین کو مالی نقصان سے بچاتی ہے۔
اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ متاثرین کو طویل قانونی تنازعات کے بغیر معاوضہ مل سکے۔
نئے قانون کی اہم خصوصیات
-
سندھ میں رجسٹرڈ تمام گاڑیوں کے لیے انشورنس لازمی ہے۔
-
درست انشورنس پالیسی کے بغیر گاڑی کی رجسٹریشن، ٹرانسفر یا ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی نہیں ہوگی۔
-
حادثے کے متاثرین کے لیے معاوضے کا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔
-
انشورنس کی تصدیق کو سینٹرل موٹر انشورنس ریپوزٹری (MIR) کے ذریعے ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔
سڑک حادثات کے متاثرین کے لیے معاوضہ
ترمیمی قانون میں ‘نو فالٹ’ (بغیر کسی غلطی کی بحث) کی بنیاد پر معاوضے کی حد مقرر کی گئی ہے، یعنی متاثرین طویل عدالتی کارروائی کے بغیر مالی ریلیف حاصل کر سکتے ہیں:
-
اموات کی صورت میں: 700,000 روپے معاوضہ
-
مستقل معذوری کی صورت میں: 500,000 روپے معاوضہ
یہ ادائیگیاں اس انشورنس کمپنی کی جانب سے کی جائیں گی جس سے گاڑی کا بیمہ کرایا گیا ہوگا۔
یہ تبدیلی کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں ہر سال بڑی تعداد میں سڑک حادثات ہوتے ہیں، جس سے متاثرین یا ان کے خاندان اکثر طبی اور مالی بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ تھرڈ پارٹی انشورنس کا مقصد مالی ذمہ داری کو بانٹنا اور متاثرین کو فوری معاوضے کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
خلاصہ
حکومت سندھ کا نیا قانون پاکستان کے وہیکل انشورنس فریم ورک کو جدید بنانے اور سڑک استعمال کرنے والوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اگرچہ یہ گاڑیوں کے مالکان کے لیے ایک اضافی قانونی ضرورت ہے، لیکن اس پالیسی کا مقصد سڑکوں پر ایک محفوظ اور مالی طور پر جوابدہ نظام بنانا ہے۔
پاکستان اور بین الاقوامی آٹوموٹیو خبروں سے باخبر رہنے کے لیے پاک وہیلز بلاگ، گوگل نیوز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے جڑے رہیں۔

تبصرے بند ہیں.