ایک بار ٹینک فل کروانے پر دو ہزار آٹھ سو کلومیٹر کا سفر
جہاں آج کل دنیا برقی گاڑیوں (ای وی) کی بات کر رہی ہے، وہیں ڈیزل انجن نے ایک ایسی واپسی کی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ایسکودا سپرب (Škoda Superb) نے ایک ہی ٹینک پر دو ہزار آٹھ سو اکتیس (2,831) کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ کتنا بڑا ریکارڈ ہے؟
اگر آپ اس گاڑی کا ٹینک کراچی میں فل کروائیں، تو یہ آپ کو پاکستان کے جنوبی سرے سے لے کر شمالی سرحد (خنجراب پاس) تک لے جا سکتی ہے اور اس کے بعد بھی ٹینک میں چار لیٹر سے زائد ایندھن باقی بچے گا۔ کراچی سے خنجراب کا فاصلہ تقریباً دو ہزار تین سو تہتر کلومیٹر ہے، جو اس گاڑی کی کل رینج سے چار سو اٹھاون کلومیٹر کم ہے۔
یہ کیسے ممکن ہوا؟
ایسکودا سپرب 2.0 ٹی ڈی آئی (150 ہارس پاور) نے یہ ریکارڈ محض اتفاقاً نہیں بنایا بلکہ اس کے پیچھے بہترین انجینئرنگ کا ہاتھ ہے:
-
ایئرو ڈائنامکس: گاڑی کے ڈیزائن کو ایسا بنایا گیا ہے کہ ہوا کا دباؤ کم سے کم ہو، جس کے لیے اسے پندرہ ملی میٹر نیچے کیا گیا تھا۔
-
فعال گرل شٹرز: جب انجن کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہ ہو تو یہ خود بخود بند ہو جاتے ہیں تاکہ ہوا کی مزاحمت کم ہو۔
-
ماہرانہ ڈرائیونگ: پولش ریلی چیمپیئن میکو مارکزیک نے اسے اسی کلومیٹر فی گھنٹہ کی مستقل رفتار پر چلایا تاکہ ایندھن کی بچت کو انتہا تک پہنچایا جا سکے۔
کیا ڈیزل انجن اب بھی بادشاہ ہے؟
الیکٹرک گاڑیوں میں اکثر ‘رینج کی فکر’ (Range Anxiety) رہتی ہے، لیکن اس ریکارڈ نے ثابت کر دیا کہ طویل سفر کے لیے جدید ڈیزل انجن آج بھی ایک شاہکار ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایندھن کی قیمتیں ہمیشہ تشویش کا باعث رہتی ہیں، ایسی گاڑی ایک خواب سے کم نہیں۔

تبصرے بند ہیں.