سوزوکی فرونکس اوونر ریویو: حقیقی اپ گریڈ یا صرف ایک مہنگی سوئفٹ؟
اگر آپ حال ہی میں سوشل میڈیا اسکرول کر رہے ہیں، تو آپ نے ایک شاندار اور جارحانہ لُک والی گاڑی دیکھی ہوگی اور سوچا ہوگا، “کیا یہ واقعی سوزوکی کی گاڑی ہے؟” ہم نے لاہور میں ڈیلیور ہونے والی پہلی سوزوکی فرونکس کے مالک کو ڈھونڈ نکالا ہے، جن کی گاڑی سنگل ٹون بلیک رنگ میں ہے۔ آئیے ان سے جانتے ہیں کہ سوزوکی کی یہ نئی “XUV” (کمپیکٹ کراس اوور) پاکستانی خریداروں کے لیے ایک حقیقی اپ گریڈ ہے یا یہ صرف سوئفٹ کو اونچا کر کے ایک مہنگی قیمت پر پیش کر دیا گیا ہے؟
آئیے براہِ راست اس تفصیلی اور ایماندارانہ اوونر ریویو میں چلتے ہیں!
“مرڈرڈ آؤٹ” لُک: کسٹم تبدیلیاں
شو روم سے نکلتے ہی اس فرونکس کی ظاہری شکل کو بدلنے کے لیے کچھ تبدیلیاں کی گئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی کار شائقین کو گاڑیوں پر لگی ضرورت سے زیادہ چمکدار کروم پسند نہیں ہوتی:
-
فل ڈی-کروم: گاڑی کے مالک نے فوری طور پر فرنٹ گرل، بمپر پلیٹس، سائیڈ اسکرٹس اور یہاں تک کہ سوزوکی کے لوگوز کو بھی مکمل بلیک آؤٹ (کالا) کر دیا۔
-
مضبوط سٹانس: فیکٹری سے آنے والے گڈ ائیر کے ٹائروں (195/60/R16) کو ہٹا کر چوڑے اور پریمیم کانٹی نینٹل ٹائرز (205/55/R16) لگا دیے گئے۔
-
رم کا مسئلہ: مالک کے مطابق، گاڑی کے بڑے وہیل آرچز کے سامنے 16 انچ کے الائے رمز تھوڑے چھوٹے لگتے ہیں۔ مستقبل میں اسے 17 انچ پر اپ گریڈ کرنے اور میٹ پی پی ایف (PPF) ریپ کرنے کا پلان ہے۔
پہلا تاثر: “جب میں نے اسے پہلی بار بلیک آؤٹ لک میں دیکھا، تو میں پہچان ہی نہیں سکا کہ یہ سوزوکی ہے۔ پہلی نظر میں اس کی بلڈ کوالٹی اتنی شاندار ہے کہ یہ جاپانی امپورٹڈ گاڑی کا احساس دیتی ہے۔”
سوئفٹ سے فرونکس کا سفر: کیا یہ واقعی ایک اپ گریڈ ہے؟
گاڑی کے مالک سوزوکی کے پرانے کسٹمر ہیں اور 2010 سے پاک ویلز کمیونٹی کے سرگرم ممبر ہیں۔ فرونکس خریدنے سے پہلے وہ موجودہ جنریشن کی سوزوکی سوئفٹ GLX AW استعمال کر رہے تھے (جسے انہوں نے 6 ماہ میں 7,000 کلومیٹر چلایا)۔
تو سوئفٹ سے فرونکس کا یہ اچانک سودا کیسے ہوا؟
“میں اپنی سوئفٹ کا آئل چینج کروانے سوزوکی کی ڈیلرشپ پر گیا تھا۔ وہاں شو روم فلور پر سنگل ٹون بلیک فرونکس کھڑی دیکھی اور مجھے اس سے پیار ہو گیا۔ میں نے اسی وقت اپنی سوئفٹ وہاں ٹریڈ ان کر دی اور فرونکس لے لی۔”
پہلے 300 کلومیٹر چلانے کے بعد سوئفٹ کے مقابلے میں فرونکس کا موازنہ درج ذیل ہے:
-
سسپنشن اور رائیڈ کوالٹی: سوئفٹ کا سسپنشن پاکستانی شہروں کی ٹوٹی سڑکوں پر کافی سخت اور تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، فرونکس کا سسپنشن بہت نرم ہے۔ یہ سڑک کے گڑھوں اور اسپیڈ بریکرز سے انتہائی نرمی سے گزرتی ہے اور کیبن میں جھٹکا محسوس نہیں ہونے دیتی۔
-
کیبن کی جگہ اور آرام: اگرچہ یہ کوئی بہت بڑی ایس یو وی نہیں ہے، لیکن فرونکس سوئفٹ کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ چوڑی اور کشادہ محسوس ہوتی ہے۔ سیٹوں کی کشننگ بہت نرم ہے۔ اگلی سیٹ کو مکمل پیچھے کرنے کے باوجود پچھلے مسافروں کے لیے گھٹنوں کی کافی جگہ بچتی ہے، جو سوئفٹ میں ممکن نہیں تھا۔
-
کیبن کا شور: سڑک اور ٹریفک کے شور کو روکنے کا نظام بہترین ہے۔ سوزوکی کی دیگر گاڑیوں کے مقابلے میں اس کا کیبن بہت پرسکون ہے۔
مارکیٹ کا مقابلہ: Kia Stonic اور Hyundai Elantra
تقریباً 63 سے 64 لاکھ روپے کی ایکس-فیکٹری قیمت (اور فائلر کے ٹیکسز ملا کر تقریباً 64.2 لاکھ روپے) کے ساتھ یہ گاڑی ایک ایسے بجٹ میں آتی ہے جہاں دیگر آپشنز بھی موجود ہیں:
-
بمقابلہ کیا اسٹونک: اسٹونک اس کا سب سے قریبی اور براہِ راست مقابلہ ہے۔ اگرچہ اسٹونک میں سن روف موجود ہے، لیکن مالک کے مطابق روزمرہ شہری استعمال میں سن روف کا کوئی خاص کام نہیں ہوتا۔ ان کے لیے فرونکس کا جدید ڈیزائن اور کشادہ کیبن زیادہ بہتر ثابت ہوا۔
-
بمقابلہ ہنڈائی ایلینٹرا 1.6 (Special Edition): ہنڈائی نے حال ہی میں اسی بجٹ (64.5 لاکھ روپے) میں ایلینٹرا 1.6 کا اسپیشل ایڈیشن لانچ کیا ہے۔ تاہم، مالک کا ماننا ہے کہ یہ انتخاب آپ کے لائف اسٹائل پر منحصر ہے:
“ایلینٹرا ایک روایتی اور پریمیم سیڈان کار ہے۔ اگر کسی کے پاس گھر میں سیڈان نہیں ہے تو وہ اسے لے سکتا ہے۔ لیکن روزمرہ شہری استعمال کے لیے، فرونکس کی اونچی سیٹنگ پوزیشن اور بہترین گراؤنڈ کلیئرنس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔”
“اسمارٹ ہائبرڈ” کی حقیقت: مارکیٹنگ بمقابلہ حقیقت
سوزوکی نے اس گاڑی کے پیچھے “Smart Hybrid” کا بیج تو لگا دیا ہے، لیکن یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ ٹویوٹا پریوس یا ایکوا کی طرح کی مکمل ہائبرڈ گاڑی نہیں ہے۔ یہ صرف الیکٹرک پاور پر نہیں چل سکتی۔
یہ بنیادی طور پر ایک ایڈوانس ایکو-آئڈلنگ سسٹم ہے، جو اس طرح کام کرتا ہے:
-
جب آپ ٹریفک سگنل پر گاڑی مکمل روکتے ہیں، تو پٹرول بچانے کے لیے انجن خود بخود بند ہو جاتا ہے۔
-
گاڑی کی اسکرین، ہیڈلائٹس اور ڈیش بورڈ لائٹس ایک چھوٹی لیتھیم آئن بیٹری پر چلتی رہتی ہیں۔
-
سب سے اہم بات: انجن بند ہوتے ہی اے سی (AC) کا کمپریسر بھی بند ہو جاتا ہے اور صرف پنکھا (Fan) چلتا ہے۔ جیسے ہی آپ بریک سے پیر ہٹاتے ہیں، انجن دوبارہ اسٹارٹ ہو جاتا ہے۔ لاہور اور پنجاب کی گرمی میں سگنل پر کھڑے ہوتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
پرفارمنس اور ڈرائیو کا احساس
اس گاڑی میں 1.5 لیٹر کا 4 سلنڈر انجن دیا گیا ہے جو کہ ایک بہترین 6-اسپیڈ آٹو میٹک ٹرانسمیشن (CVT نہیں ہے) کے ساتھ آتا ہے۔ مالک نے اسے لاہور رنگ روڈ پر ٹیسٹ کیا اور بتایا کہ اس کا الیکٹرک سسٹم گیئر تبدیل ہوتے وقت انجن کے لیگ (Lag) کو ختم کرتا ہے جس سے بہترین پک اپ ملتا ہے۔ ہائی وے پر اوور ٹیکنگ کے لیے اس کی پاور لاجواب ہے۔
اسپیئر پارٹس کی قیمتیں: ایک بڑا انکشاف!
اگر آپ سوزوکی فرونکس خریدنے کا پلان بنا رہے ہیں، تو شو روم سے نکلنے سے پہلے اس کی انشورنس لازمی کروا لیں:
“میں نے گاڑی کی ڈیلیوری لینے سے پہلے اس کے اسپیئر پارٹس کی قیمتیں چیک کیں۔ فرنٹ بمپر میں لگی ایک سنگل لوئر ایل ای ڈی ہیڈلائٹ اسمبلی کی قیمت تقریباً 3.5 لاکھ روپے (350,000 PKR) ہے۔ صرف ایک ہیڈلائٹ! اگر ٹریفک جام میں کوئی آپ کی گاڑی کو ہٹ کر دے، تو یہ آپ کی جیب پر بہت بھاری پڑے گا۔ اسی لیے میں نے سڑک پر ٹائر رکھنے سے پہلے ہی انشورنس لاک کر لی تھی۔”
گاڑی کے فیچرز: خوبیاں اور خامیاں
| خوبیاں | خامیاں |
| شاندار 9 انچ انفوٹینمنٹ: وائرلیس اینڈرائیڈ آٹو اور ایپل کار پلے بغیر کسی لیگ (Lag) کے چلتا ہے۔ | کمزور ہیڈلائٹ تھرو: ہیڈلائٹ ایڈجسٹمنٹ کو فل اوپر کرنے کے باوجود رات کے وقت اندھیری سڑکوں پر روشنی کم محسوس ہوتی ہے۔ |
| بہترین ڈگی کی جگہ: سامان رکھنے کے لیے گہری اور کافی جگہ موجود ہے، اور پچھلی سیٹیں 60-40 اسپلٹ کے ساتھ بالکل فلیٹ فولڈ ہو جاتی ہیں۔ | نو ہیڈز-اپ ڈسپلے (HUD): یہ بہترین فیچر بین الاقوامی ماڈلز میں دستیاب ہے لیکن پاکستان ایڈیشن سے نکال دیا گیا ہے۔ |
| پچھلی نشستوں کی سہولیات: پچھلے مسافروں کے لیے اے سی وینٹس اور یو ایس بی چارجنگ پورٹس اسے ایک بہترین فیملی کار بناتے ہیں۔ | مینوئل ٹیل گیٹ: ڈگی کا دروازہ کافی بھاری ہے اور اسے بند کرنے کے لیے کافی طاقت لگانی پڑتی ہے۔ |
حتمی فیصلہ: کیا یہ گاڑی مہنگی ہے؟
گاڑی کے مالک اور فرونکس اوونرز کے فورمز کا ماننا ہے کہ یہ گاڑی اپنی اصل قیمت سے تقریباً 5 لاکھ روپے مہنگی ہے۔ اگر اس کی قیمت 60 لاکھ روپے کے اندر رکھی جاتی تو یہ پاکستان کی مارکیٹ میں بلا مقابلہ کنگ) ہوتی۔
تاہم، اس پریمیم قیمت کے باوجود بھی گاڑی کے مالک اس سے انتہائی مطمئن ہیں اور وہ عید پر اس گاڑی کو ٹیسٹ کرنے کے لیے سکردو کے پہاڑی سفر پر جانے کا پلان بنا رہے ہیں۔ اگر آپ سوزوکی کلٹس یا سوئفٹ سے ایک اونچی، مضبوط بلڈ کوالٹی، نرم سسپنشن اور مقامی ڈیلرشپ کی سپورٹ والی گاڑی پر شفٹ ہونا چاہتے ہیں، تو سوزوکی فرونکس ایک بہترین اور جاندار آپشن ہے۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.