سفر مہنگا ہو گیا: ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں بھاری اضافہ

32

پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد کرایوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ملک بھر کے ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے مسافر اور مال بردار کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

انٹر سٹی بسوں، ٹیکسیوں اور گڈز ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہ تبدیلی روزمرہ کے سفر اور لاجسٹکس کے اخراجات میں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ توقع ہے کہ نظر ثانی شدہ کرایوں کا اطلاق ملک بھر کے متعدد روٹس پر فوری طور پر ہوگا۔

انٹر سٹی بسوں کے کرایوں میں اضافہ

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کئی بڑے بس روٹس پر کرائے پہلے ہی ایڈجسٹ کیے جا چکے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق نظر ثانی شدہ کرائے کچھ یوں ہیں:

روٹ پرانا کرایہ نیا کرایہ
اسلام آباد تا لاہور (سکائی ویز اور دیگر نارمل سروسز) 1,700 روپے 2,100 روپے
اسلام آباد تا لاہور (فیصل موورز) 2,050 روپے 2,600 روپے
اسلام آباد تا پشاور 800 روپے 1,000 روپے
اسلام آباد تا مظفر آباد 750 روپے 900 روپے
کراچی کے طویل فاصلے والے روٹس 7,000 روپے 7,500 روپے

ٹرانسپورٹ آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے نے آپریٹنگ اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس کی وجہ سے کمپنیاں ٹکٹوں کی قیمتوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں چلنے والی پرائیویٹ ٹیکسیوں اور رکشہ ڈرائیوروں نے بھی اپنے کرایوں میں 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

مال برداری (Freight) کے چارجز میں بھی اضافہ

اس کا اثر صرف مسافروں کی نقل و حمل تک محدود نہیں ہے۔ پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے بھی ڈیزل کی قیمتوں اور گاڑیوں کی دیکھ بھال و اسپیئر پارٹس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے مال برداری کے نرخوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ مال برداری کے زیادہ اخراجات اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ٹرین اور ہوائی سفر بھی مہنگا

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ریل اور فضائی سفر کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ پاکستان ریلوے نے مختلف کیٹیگریز کے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے:

  • ایکانومی کلاس: کرایوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ۔

  • اے سی کلاس: کرایوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ۔

ریلوے کے ان نظر ثانی شدہ کرایوں کا اطلاق 9 مارچ 2026 سے متوقع ہے۔ اسی دوران، ایوی ایشن فیول کی قیمتوں میں اضافے کے جواب میں ایئر لائنز نے بھی ٹکٹوں کی قیمتیں ایڈجسٹ کرنا شروع کر دی ہیں، جس سے سڑک، ریل اور فضائی سفر سبھی مہنگے ہو گئے ہیں۔

مسافروں پر دباؤ

کرایوں میں حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بہت سے گھرانے پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عید قریب ہونے کی وجہ سے، مسافر اور ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والے ملازمین اس کا اثر زیادہ شدت سے محسوس کر سکتے ہیں۔

ٹرانسپورٹ آپریٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں بلند رہیں تو کرایوں میں مزید تبدیلی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم، مزید اضافے کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال، یہ حالیہ ایڈجسٹمنٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کس طرح پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel