لاہور ملتان موٹرے اپریل 2018ء میں کھول دیا جائے گا

0 130

ملک میں آمد و رفت کو تیز اور آسان بنانے کے لیے دنیا بھر کی حکومتیں ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتی ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال پاک چین اقتصادی راہداری ہے جس سے ایک یا دو نہیں، بلکہ کئی ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گی۔ حکومت پاکستان نے بھی ملکی معیشت میں شاہراہوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کئی اس ضمن میں کئی اہم فیصلے کیے جن میں بڑے شہروں کو آپس میں ملانے کے لیے سڑکوں کے وسیع جال پھیلانا بھی شامل ہے۔

کچھ روز قبل وفاقی وزیر برائے مواصلات حافظ عبدالکریم نے لاہور– ملتان موٹروے پر جاری تعمیراتی کام کا معائنہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس موٹروے کو آئندہ سال اپریل کے پہلے ہفتے میں عوام کے لیے کھولا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل یہ منصوبہ اگست 2018ء میں مکمل کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے ٹھیکیداروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت پر کام مکمل نہ کرنے والے ٹھیکیداروں کو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سربراہ شاہد اشرف تارڑ نے وفاقی وزیر کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ خانیوال – ملتان موٹروے سیکشن کو مکمل کرلیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت 13 موٹرویز کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں سے تین مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 9 ابھی زیر تعمیر ہیں۔

اس وقت اگر آپ لاہور سے ملتان کی طرف روانہ ہوں تو یہ فاصلہ لگ بھگ پانچ گھنٹوں میں طے کرپائیں گے۔ تاہم مذکورہ موٹروے کی تعمیر کے بعد دونوں شہروں کے درمیان سفر صرف تین گھنٹوں میں ممکن ہوجائے گا۔

مزید برآں، لاہور – سیالکوٹ موٹروے بھی زیر تعمیر ہے اور اسے آئندہ سال اگست میں مکمل کرلیا جائے گا۔

کیا آپ موٹرویز کے جال بچھانے کے حکومتی اقدامات کو مثبت سمجھتے ہیں؟ ہمیں تبصرے کے ذریعے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.