گاڑیوں کے لیے بینک لون مارچ 2023 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (State Bank of Pakistan) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں آٹو فنانسنگ (گاڑیوں کے لیے بینک سے لون لینے) کے رجحان میں اپریل 2026 کے دوران بھی تیزی برقرار رہی، اور اس میں سالانہ بنیادوں پر 36.6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے ڈیٹا کے مطابق، اپریل 2026 میں آٹو فنانسنگ کا حجم 360 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اپریل 2025 میں یہ حجم 263 ارب روپے تھا۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی اضافہ جاری
اگر ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو آٹو فنانسنگ میں 4.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مارچ 2026 میں آٹو فنانسنگ کا حجم 345 ارب روپے تھا، جس کا مطلب ہے کہ بینکوں نے صرف اپریل کے ایک مہینے میں گاڑیوں کے لیے تقریباً 15 ارب روپے کے نئے قرضے جاری کیے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق، مارچ 2023 کے بعد سے اب تک کے ماہانہ رجحان میں آٹو فنانسنگ کی یہ بلند ترین سطح ہے۔
آٹو فنانسنگ کیا ہے؟
آٹو فنانسنگ سے مراد وہ بینک لون یا قرضے ہیں جو بینک اور مالیاتی ادارے صارفین کو کاریں اور دیگر گاڑیاں خریدنے کے لیے فراہم کرتے ہیں، جنہیں خریدار بعد میں آسان ماہانہ اقساط کی صورت میں واپس کرتے ہیں۔
جب ملک میں آٹو فنانسنگ بڑھتی ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ صارفین بینکوں کے ذریعے گاڑیاں خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں خریداروں کے اعتماد، قرضوں کے حصول میں آسانی اور آٹو مارکیٹ میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کا پتا چلتا ہے۔
پاکستانی آٹو سیکٹر کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
آٹو فنانسنگ میں یہ مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں لوگ ایک بار پھر گاڑیاں خریدنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
ملک کی آٹو انڈسٹری کے لیے یہ ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند نشانی ہے۔ فنانسنگ بڑھنے سے کاروں کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے اور شورومز پر کاروباری سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں۔ تاہم، گاڑیوں کی موجودہ اونچی قیمتوں اور مہنگائی کے باعث، عام خریدار کے لیے سکت (Affordability) اب بھی ایک بڑا چیلنج رہے گی۔
آٹو مارکیٹ اور بینکنگ سیکٹر کی مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں۔


تبصرے بند ہیں.