تیل کی بڑھتی قیمتیں: سرکاری گاڑیوں کے اخراجات میں بڑے اضافے کا خدشہ

24

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سرکاری گاڑیوں کے فیول بل میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔ اس صورتحال سے سرکاری ٹرانسپورٹ پر ہونے والے عوامی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوگا، جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار بجٹ پر مزید بوجھ بڑھے گا۔

حکام کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے اخراجات، جو فی الحال سالانہ 60 سے 70 ارب روپے کے درمیان ہیں، اس میں تقریباً 25 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اخراجات میں یہ بھاری اضافہ حیران کن ہے کیونکہ حکومت نے پہلے اپنے افسران کو ایندھن کے استعمال میں 40 فیصد کمی لانے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ بچت کے بجائے بل بڑھنے کی دو بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں: ایک عالمی سطح پر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور دوسرا اعلیٰ حکام کی جانب سے بڑی اور پرتعیش ایس یو وی (SUVs) گاڑیوں کا مسلسل استعمال۔

ہزاروں سرکاری گاڑیاں فیول بل میں اضافے کی وجہ

وفاقی اور صوبائی محکموں میں ہزاروں سرکاری گاڑیاں چل رہی ہیں، جس کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر کافی زیادہ ہونے کی توقع ہے۔

صرف پنجاب میں تقریباً 30,000 سرکاری گاڑیاں زیر استعمال ہیں، جن کے ایندھن پر سالانہ تقریباً 20 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ وفاقی محکمے 12,000 سے 15,000 گاڑیاں چلا رہے ہیں، جن کا سالانہ ایندھن کا خرچہ تقریباً 9 ارب روپے ہے۔

دیگر صوبوں کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ سندھ میں تقریباً 20,000 سرکاری گاڑیاں ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بالترتیب 12,000 اور 8,000 سے زیادہ گاڑیاں چلا رہے ہیں، جو ہر سال مجموعی طور پر اربوں روپے کا ایندھن استعمال کرتی ہیں۔

اخراجات کنٹرول کرنے کے اقدامات پر غور

حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایندھن کی کھپت اور سرکاری ٹرانسپورٹ کے استعمال کو کنٹرول نہیں کیا جاتا، حکومت کے اخراجات آنے والے مہینوں میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔

کئی ماہرین اب “مانیٹائزیشن” (monetization) پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افسران کو مفت پیٹرول کا “بلینک چیک” دینے کے بجائے سفر کے لیے رقم کی ایک مقررہ مقدار دی جائے۔

اس تبدیلی سے ہر کوئی اپنی ڈرائیونگ اور ایندھن کے استعمال میں زیادہ احتیاط برتنے پر مجبور ہو جائے گا، حالانکہ ابھی تک ایسی کسی باقاعدہ پالیسی پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف حکومت کے اخراجات بڑھا سکتا ہے بلکہ پوری معیشت میں مہنگائی کے دباؤ کو بھی تیز کر سکتا ہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel