چین کی جدید بس میں ٹریفک روانی متاثر کیے بغیر بیک وقت 1400 افراد سفر کرسکیں گے


جہاں ایک طرف حکومتِ پنجاب رواں سال کے اختتام تک لاہور میں اورنج لائن منصوبہ مکمل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے وہیں مغربی دنیا میں ہائپر لوپ (Hyperloop) کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایسے میں چین کی جانب سے بھی عوامی ٹرانسپورٹ کا ایک بڑا نظام متعارف کروایا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پڑوسی ملک بھی ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے متبادل نظام کی تیاری میں مصروف ہے۔

بڑے شہروں میں آبادی کے ساتھ گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے شہروں میں ٹریفک کے غیر معمولی بھاؤ سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل پر قابو پانے کے لیے ریل اور بسوں کا نیٹ ورک بچھایا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں ایک چینی ادارے ٹرانزٹ ایکسپور بس (TEB) نے ایک جدید بس کا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں بیک وقت 1400 افراد سفر کرسکیں گے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ “لینڈ ایئر بس” عام شاہراہ سے ساڑھے چھ فٹ اوپر سفر کرے گی یوں اس سے عام گاڑیوں کی آمد و رفت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: لمز کے طالب علم ہائپرلوپ ڈیزائن پیش کریں گے

land_airbus

گزشتہ روز بیجنگ میں جاری انٹرنیشنل ہائی ٹیک ایکسپو میں TEB نے اس نظام کا ایک مختصر نمونہ پیش کیا۔ یہ ایئر بس دراصل ریل اور عام بس کا امتزاج ہے جو سڑک کے دائیں اور بائیں جانب ٹریکس پر چلے گی۔ بجلی سے چلنے والی یہ ایئربس شاہراہوں پر نصب لائٹس کی مدد سے توانائی حاصل کرے گی۔ اس کی مجموعی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس میں 40 عام بسوں کے مساوی گنجائش موجود ہوگی۔

ٹرانزٹ ایکسپلور بس (TEB) کے مطابق اس جدید نظام کے ذریعے سالانہ 800 ٹن ایندھن کی بچت ممکن ہوسکے گی جبکہ شہر کو ڈھائی ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی محفوظ رکھا جاسکے گا۔ علاوہ ازیں زیر زمین گزر گاہوں کے مقابلے میں لینڈ ایئر بس کی تعمیر پر انتہائی کم اخراجات آئیں گے اور وقت بھی کم خرچ ہوگا۔ چینی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ شمالی چین کے شہر چینہوانگداو میں جولائی یا اگست کے دوران لینڈ ایئر بس کی پہلی آزمائش کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چینی ادارے لینڈ ایئر بس کو زیادہ لمبی گاڑیوں، ٹرکوں اور پُلوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا حکمت عملی تیار کرتا ہے۔


Google App Store App Store
Adan Ali

Adan is a Rising Journalism Sophomore at Northwestern University, with an inclination towards non-political investigative journalism and advertising. He is currently serving as a Research Assistant for the Arab World’s first media museum, The Media Majlis and an Admissions Diplomat at NU-Q. Adan comes with an experience of almost three years in the field of media creation, alongside Dawn, Parhlo, PakWheels, and The Daily Q occupying the roles of an Intern, Guest Writer, and Staff Reporter. Formerly, Adan has served as a Founder and CEO of The Nixor Times, a media and advertising company, besides which, he has offered his services as a Member of Board at Nixor Corporate. He tweets @adanali12 and runs a channel on YouTube.

Top