سندھ حکومت کی ‏15,000‎ سے زیادہ گاڑیاں بغیر آفیشل نمبر پلیٹ کے


سندھ حکومت کی 15,000 سے زیادہ گاڑیاں آفیشل نمبر پلیٹ کے بغیر چل رہی ہیں۔ کیونکہ آفیشل نمبر پلیٹیں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ میں ہی پڑی ہیں۔ تقریباً 8,000 سے 15,000 گاڑیاں تو صرف سندھ پولیس کی ہیں جو صوبے بھر میں ان گاڑیوں کو دھڑلّے سے استعمال کر رہی ہے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ جب حکومت کے محکمے ہی قانون کے پابند نہیں تو شہری کس طرح قانون کی پیروی کریں گے۔ 

یہ تمام گاڑیاں عموماً چار سال پہلے تک کی رجسٹرڈ ہیں بلکہ چند تو اس سے بھی پہلے کی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گاڑیاں 2015ء سے 2018ء کے دوران ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں رجسٹرڈ ہوئیں۔ البتہ سرکاری ادارے ایکسائز ڈپارٹمنٹ سے نمبر پلیٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے وزیر مکیش کمار نے سندھ اسمبلی میں بتایا کہ سرکاری اداروں اور شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ سے آفیشل نمبر پلیٹ حاصل کریں۔ 

پولیس کے علاوہ ریلوے، ایوی ایشن اور پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی وہ محکمے ہیں کہ کہ جن کی گاڑیاں صوبے بھر میں اوریجنل نمبر پلیٹوں کے بغیر گھوم رہی ہیں۔ عارضی نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں بیوروکریٹس تک کے استعمال میں ہیں۔ آفیشل نمبر پلیٹ کے بغیر گاڑیاں چلانے والے حکومت سندھ کے دیگر یہ ہیں:

محکمہ ثقافت 

محکمہ صحت 

محکمہ کالج تعلیم 

محکمہ قانون

محکمہ انسدادِ بدعنوانی

سندھ لیبر ڈپارٹمنٹ

محکمہ تعلیم و خواندگی

سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق ان کے پاس تقریباً 70,000 نمبر پلیٹیں ہیں کہ جن کو وصول نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ غیر سرکاری نمبر پلیٹ کا استعمال قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ 

اس بارے میں اپنی رائے نیچے تبصروں میں دیجیے اور ہمیں بتائیں کہ سرکاری اداروں کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی پر آپ کیا کہتے ہیں۔ مزید معلوماتی تحاریر کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔


Google App Store App Store

Top