گاڑیاں بنانے والے دو اداروں کو براؤن فیلڈ درجے سے نوازا گیا

auto-plantjp_20140212143324309

آٹوپالیسی 2016-21ء کے مطابق حکومت مقامی اور آنے والے غیر ملکی برانڈز کو کافی فوائد دے چکی ہے۔ اپنے ایک گزشتہ مضمون میں ہم نے ان اداروں کا ذکر کیا تھا کہ جنہیں متعلقہ اداروں کی جانب سے گرین فیلڈ سرمایہ کاری درجہ مل چکا ہے۔ اسی طرح اس تحریر میں ہم قارئین کو ان اداروں کے بارے میں بتائیں گے جنہیں براؤن فیلڈ درجہ مل چکا ہے۔

ہماری تحقیق کے مطابق اب تک گاڑیاں بنانے والے دو اداروں کو حکومت کی جانب سے براؤن فیلڈ سرمایہ کاری درجہ ملا ہے، جو یہ ہیں:

  • گندھارا نسان
  • دیوان موٹرز

گندھارا نسان:

براؤن فیلڈ درجہ ملنے کے بعد ادارے نے اعلان کیا کہ وہ ملک میں ڈاٹسن کاریں لائے گا اور اس عمل میں کئی ملین کی سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔ مزید برآں وہ رینو (رینالٹ) ٹرک SAS کے ساتھ درآمدی معاہدے پر بھی دستخط کرچکا ہے تاکہ پاکستان میں ہیوی ڈیوٹی ٹرک درآمد کر سکے۔

مزید برآں، ادارہ آئندہ دنوں میں ڈبل کیبن پک اپ JAC T6 بھی درآمد کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ ہم نے آفیشل ڈیلرز میں سے ایک سے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ اس نے اپنے چینی شراکت دار JAC  موٹرز کے تعاون سے مقامی سطح پر JAC X2000 کی اسمبلنگ بھی شروع کردی ہے۔

JAC T6 PakWheels (4)

دیوان موٹرز:

دیوان موٹرز BMW کاروں کا مقامی درآمد کنندہ ہے اور ملک کا ایک معروف برانڈ ہے۔ ادارے نے گندھارا نسان سے پہلے براؤن فیلڈ اسٹیٹس حاصل کیا تھا۔ وہ ڈائیہان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ڈائیہان شہہ زور پک اپ لانچ کر چکا ہے جو 2600cc کے نیچرلی ایسپائریٹڈ 4-سلینڈر SOHC 8-والو ڈیزل انجیکشن انجن سے لیس ہے۔

ڈائیہان شہ زور کی قیمت 18،49،000 ہے۔

دیکھتے ہیں کہ دونوں ادارے مستقبل میں اور کون سی مصنوعات سامنے لاتے ہیں۔

Daehan Shehzore Bookings PakWheels

براؤن فیلڈ درجہ کیا ہے؟

براؤن فیلڈ سرمایہ کاری سے مراد ایسے موجودہ اسمبلی اور/یا مینوفیکچرنگ تنصیبات کی بحالی ہے، جو یکم جولائی 2013ء کو یا اس سے پہلے بند ہو چکی ہوں اور پاکستان میں پیداوار نہ کر رہی ہوں۔ یہ بحالی یا تو آزادانہ طور پر اصل مالکان کی جانب سے کی جا رہی ہو یا کسی غیر ملکی ادارے کے ساتھ نئے جوائنٹ وینچر منصوبے کے تحت یا پھر کسی غیر ملکی ادارے کی جانب سے پلانٹ خرید کر آزادانہ طور پر کی جا رہی ہو۔

فوائد:

  • غیر مقامی پرزہ جات کی درآمد 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی پر اور کاروں اور LCVs کی تیاری کے لیے مقامی پرزہ جات پر تین سال تک 25 فیصد ڈیوٹی پر۔
  • تمام پرزہ جات (مقامی اور غیر مقامی) رائج کسٹمز ڈیوٹی پر تین سال کے لیے جو ٹرکوں، بسوں اور بڑی گاڑیوں کی تیاری میں غیر مقامی پرزہ جات پر لاگو ہوگی۔

یہ ہماری تحقیق ہے، اگر آپ بھی اس میں کچھ شامل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے تبصرہ کیجیے۔ تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top