مشہور ترین ہائبرڈ ہونڈا وِزل 2016 کا تفصیلی جائزہ

1.1.0.02.

ہونڈا وزل (Vezel) پانچ دروازوں والی چھوٹی SUV ہے جسے گاڑیاں تیار کرنے والے جاپانی ادارے ہونڈا (Honda) نے سال 2013 میں متعارف کروایا۔ بعد ازاں اسے دیگر ممالک میں ہونڈا HR-V کے نام سے بھی پیش کیا گیا۔ گو کہ وزل کا نام نیا تھا لیکن ہونڈا کی جانب سے HR-V پہلے بھی کامیابی سے استعمال کیا جاچکا تھا۔ وزل کے نام سے پیش کی جانے والی اکثر گاڑیاں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ 7-اسپیڈ ڈیول کلچ گیئر کی بھی حامل تھیں جبکہ HR-V کے نام سے متعارف کروائی جانی والی گاڑیوں کی اکثریت میں ہائبرڈ-ٹیکنالوجی شامل نہ تھی اور ان میں ہونڈا CVT گیئر باکس لگایا گیا تھا۔خصوصیات کے اعتبار سے ہونڈا وزل کا تعلق کسی حد تک ہونڈا فِٹ (Honda Fit) سے بھی بنتا ہے۔

ہونڈا وزل کا نام دراصل انگریزی لفظ بِزل (bezel) کی طرز پر رکھا گیا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ bezel کی ادائیگی میں ‘ب’ کی جگہ ‘و’ استعمال گیا ہے۔ میں نے چند لوگوں کو اسے ‘وی-زال’ پکارتے ہوئے بھی سنا جو کہ بالکل غلط تلفظ ہے۔ یقین جانیے کہ اس گاڑی کا Weasel نامی جانور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2013 Honda Vezel At Toyko Motor Show

میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ہونڈا وزل 2016 پر تبصرہ لکھنے سے قبل اسے چلانے کا موقع ملا جس کی قیمت 37 لاکھ روپے ہے۔ تاہم مختصر وقت کی وجہ سے میں زیادہ تفصیل سے اس گاڑی کا معائنہ نہ کرسکا اس لیے ممکن ہے قارئین کو اس میں کچھ باتوں کی کمی محسوس ہو۔ بہرحال، جو ہونڈا وزل مجھے تبصرہ کے لیے دستیاب ہوئی وہ ایک رات قبل ہی مری موٹرز اسلام آباد کی جانب سے پاکستان منگوائی گئی تھی۔ میں ان کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے اس گاڑی کو چلانے کا موقع دیا بلکہ مکمل جائزے اور تصاویر لینے کی بھی اجازت دی۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ وزل کی بنیادی طور پر چار اقسام RU1، RU2، RU3 اور RU4 ہیں۔ اگلے پہیوں کی قوت سے چلنے والی RU1 اور چاروں پہیوں کی قوت سے چلنے والی RU2 دونوں ہی CVT گیئر کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں جبکہ اگلے پہیوں کی قوت سے چلنے والی RU3 اور چاروں پہیوں کی قوت سے چلنے والی RU4 میں انجن کے ساتھ 7-اسپیڈ ڈیول کلچ آٹومیٹک گیئر منسلک کیا جاتا ہے۔ مری موٹرز اسلام آباد کی جانب سے ہمیں جو گاڑی فراہم کی گئی وہ ہونڈا وزل ہائبرڈ Z تھی کہ جس میں ڈیول کلچ 7-اسپیڈ گیئر باکس (RU3) شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا HR-V پاکستان میں متعارف کروادی گئی

ظاہری انداز (Exterior)

پہلی نظر ڈالنے پر یہ گاڑی کافی چھوٹی نظر آتی ہے تاہم اس کے ظاہری انداز سے ہر گز دھوکہ مت کھائیے گا۔ اس کے اندر کافی گنجائش موجود ہے جس کا ہم آگے چل کر ذکر کریں گے تاہم باہر سے یہ گاڑی کافی چھوٹی اور مناسب سائز کی معلوم ہوتی ہے۔ اس گاڑی کا مجموعی وزن تقریباً 1330 کلو گرام ہے جبکہ اس کی لمبائی4294 ملی میٹر (تقریباً 14 فٹ) ہے۔ لمبائی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے آپ اس کا سِوک سے موازنہ کرسکتے ہیں کہ جو لمبائی میں 4540 ملی میٹر (تقریباً 15 فٹ) ہے۔ لیکن چونکہ ہونڈا وزل میں پچھلی جانب ڈگی نہیں ہے اس لیے وزل میں سِوک سے زیادہ گنجائش (بشمول لیگ روم) ہے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(71a)

گاڑی کا مجموعی انداز بیان کرنا قدرے مشکل کام ہےکیونکہ ڈیزائن کے معاملے میں ہر ایک کی پسند اور ناپسند الگ الگ ہوسکتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس پر تنقید یا تعریف کیے بغیر ہی بیان کردوں۔ ہونڈا وزل کے باہری حصے پر آپ کو کافی گہری سطور (lines) نظر آئیں گی تو گاڑی کے اگلے حصے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اگلی جانب ان سطور سے پتلی ہیڈ لائٹس جڑی ہیں جو گاڑی کا کافی جذباتی انداز دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگلی جانب بمپر کے نیچے خاصی جگہ موجود ہے جبکہ دائیں اور بائیں جانب دھند میں قابل استعمال تیز روشنیاں (fog lights) دی گئی ہیں۔ ایئر اسپلٹرز کی موجودگی سے بھی گاڑی کا انداز خاصہ اسپورٹی اور جذباتی ہوگیا ہے۔ اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ہونڈا وزل کا انداز سب سے منفرد ہے اور اس جیسی کوئی دوسری گاڑی اب تک دستیاب نہیں ہے۔

ہونڈا وزل کے اگلے حصے کے برعکس پچھلا حصہ قدرےنیچے ہے۔پیچھے کی جانب چھت نیچی ہونے کی وجہ سے جہاں پچھلا دروازہ خاصہ چھوٹا ہوگیا ہے وہیں پچھلی نشستوں کے مسافروں کے لیے ہیڈ روم میں بھی کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ پچھلی جانب خاصی بڑی اسٹاپ لائٹس دی گئی ہے جو نہ صرف گاڑی کی باڈی بلکہ پچھلے دروازہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے درمیان موجود ہونڈا مونوگرام کے نیچے ہی پچھلا دروازہ کھولنے کے لیے چھوٹا سا بٹن بھی دیا گیا ہے۔ اگلی جانب سے شروع ہونے والی گہری سطور دائیں اور بائیں جانب سے ہوتی ہوئی پچھلے حصے میں آ کر ملتی ہیں۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(70a)

گاڑی کے ویل آرکس کافی بڑے ہیں جس سے بہت بڑی گاڑی ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ تاہم یہ بات جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ وزل کے ویل آرکس (1772 ملی میٹر) سِوک (1755 ملی میٹر)سے بہت زیادہ بڑے نہیں ہیں۔ اس مضمون میں وزل کی پیمائش کا سِوک سے موازنہ کرنے کا مقصد قارئین کو سمجھنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ چونکہ سِوک مقامی تیار شدہ مشہور سیڈان ہے اس لیے لوگوں کی نظروں میں بھی زیادہ رہتی ہے۔ اس کے علاوہ وزل اور سِوک دو مختلف طرز کی گاڑیاں ہونے کے باوجود پیمائش میں ایک دوسرے سے کافی ملتی جلتی بھی ہیں۔

ہونڈا وزل کا دروازہ کھولنے کے لیے کسی قسم کی کوئی چابی دستیاب نہیں بلکہ اس کی جگہ ایک ریموٹ (key fob) موجود ہے جس میں دروازہ کھولنے اور بند کرنے کے لیے بٹن دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح گاڑی اسٹارٹ کرنے کے لیے بھی کسی چابی کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کام بھی صرف ایک بٹن (push-start) سے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ بٹن صرف اسی وقت کام کرے گا کہ جب آپ کے پاس گاڑی کے دروازے کھولنے اور بند کرنے والا ریموٹ موجود ہوگا۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ اگر ریموٹ پر موجود دروازہ لاک کرنے کے بٹن کو کچھ سیکنڈ تک دبائے رکھا جائے تو اس سے سائڈ مررز بھی ازخود بند ہوجاتے ہیں۔

اندرونی حصہ (Interior)

ہونڈا وزل کے اندر داخل ہوتے ہوئے آپ کا سامنا متعدد بٹن اور کنٹرولز سے ہوگا لیکن انہیں دیکھ کر پریشان گھبرانے کی بات بالکل بھی نہیں ہے۔ مجموعی طور پر کہا جائے تو ہونڈا وزل کے اندر بیٹھنا واقعی ایک اچھا تجربہ رہا۔ دو رنگوں پر مشتمل چمڑے سے تیار کردہ ڈیش بورڈ اور دروازے کے پینلز دیکھ کر کافی عمدہ احساس ہوتا ہے۔ بس ایک بات کا خیال رہے کہ کہیں آپ کے شرارتی بچے اس چمڑے پر پین یا پینسل سے نقش و نگار نہ بنادیں کیوں کہ ہلکے رنگ میں ہونے کی وجہ سے اس پر دھبے جلد نمایاں ہوجاتے ہیں۔ البتہ ڈیش بورڈ کے اوپر استعمال ہونے والے سیاہ پلاسٹ کا معیار بہت خراب ہے۔ پاکستانی کارخانوں میں بننے والے سستے کھلونوں کے پلاسٹک کا معیار پھر ان سے بہتر ہوگا۔ سچ پوچھیں تو اتنی مہنگی گاڑی میں مجھے اس قسم کے خراب پلاسٹک کے استعمال پر یقین ہی نہیں آیا۔ لیکن جب میں نے تصدیق کے لیے اپنے ناخن سے اس پر لکیر کھینچی تو اس پر سفید سطور انتہائی واضح ہوگئیں جس سے مجھے یقین ہو ہی گیا۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(8)

ڈرائیور کے ساتھ موجود پیسنجر سیٹ کے سامنے کا ڈیش بورڈ بہت سادہ اور صاف ستھرا ہے۔ یہاں صرف A/C وینٹ اور ایک مناسب سائز کا کمپارٹنمنٹ دیا گیا ہے۔ البتہ درمیان اور ڈرائیور کے سامنے کی طرف جائیں تو ڈیش بورڈ یکسر مختلف ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے جس چیز کی کمی مجھے محسوس ہوئی وہ head unit تھا۔ جب میں نے اس حوالے سے معلوم کیا تو شوروم کے نمائندے نے بتایا کہ اب نئی درآمد شدہ گاڑیوں میں ہیڈ یونٹ شامل نہیں ہوتا۔ اس کی جگہ تقریباً دوگنے سائز کی خالی جگہ ڈیش بورڈ پر دی گئی ہے اور اس کے بالکل نیچے AC کنٹرول دیئے گئے ہیں۔ شروع مین آپ کو AC کنٹرول شاید کچھ منفرد اور مشکل لگیں لیکن وقت کے ساتھ آپ انہیں بہتر طور پر سمجھ جائیں گے۔ ان کنٹرولز کی مدد سے آپ دائیں اور بائیں دونوں طرف کا درجہ حرارت الگ الگ رکھ سکتے ہیں۔

گاڑی کے چاروں دروازوں میں ایک، ایک اسپیکر دیا گیا ہے لیکن ہیڈ یونٹ کی عدم شمولیت کے بعد یہ کس کام آئیں گے اور ان کا معیار کیسا ہوگا، اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔البتہ دروازوں کی بناوٹ اور معیار بہت اچھا ہے۔ سفید دھاگوں سے کپڑے اور چمڑے کے امتزاج کو خوبصورتی سے پرویا گیا ہے۔ گاڑی کے اندر بیٹھ کر باہری شور شرابے سے پاک ایک پرسکون احساس ہوتا ہے۔ اور جب گاڑی بیٹری پر چل رہی ہو تو یہ احساس اور بھی پرلطف ہوجاتا ہے۔ البتہ رفتار بڑھانے پر 1500cc انجن اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلاتا ہے۔

اگلی نشستیں کافی اسپورٹی انداز کی حامل ہے جس پر ڈرائیور اور پیسنجر دونوں ہی کی گرفت اچھی رہتی ہے۔ خاص طور پر تیز رفتاری کے دوران موڑ کاٹتے ہوئے نشست سے کھسکنے یا گرنے کا احساس نہیں ہوتا۔ تمام ہی نشستیں چمڑے اور کپڑے سے تیار کی گئی ہیں۔ پاکستان کے اکثر شہروں کا درجہ حرارت مدنظر رکھا جائے تو یہ ایک مثبت نکتہ ہے۔ اگر نشستیں صرف چمڑے سے تیار کی جاتیں تو اس سے ڈرائیور اور پیسنجر کو جلد گرماہٹ کا احساس ہوتا جس سے طویل سفر میں مشکل پیش آسکتی تھی۔ میں نے تقریباً تمام ہی دن اس گاڑی میں سفر کیا اور ایک مرتبہ بھی نشستوں کے گرم یا بے آرام ہونے کا احساس نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھی وزل کے اندرونی حصے میں آپ کو ہلکے رنگ کاچمڑے اور کپڑے کا استعمال نظر آئے گا جسے سفید دھاگے سے جوڑا گیا ہے۔ ان کا معیار بہت اچھا ہے اور گاڑی سے بالکل میل کھاتا ہے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(22)

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(23)

ہونڈا وزل میں قدرے چھوٹا لیکن معیاری اسٹیئرنگ دیا گیا ہے۔ اسٹیئرنگ ویل تھوڑا جھکا ہوا (tilt) ضرور ہے تاہم telescopic ہر گز نہیں ہے۔ اگر اس پر 10:10 (گھڑی کی سوئیوں) کی طرز پر ہاتھ رکھے جائیں تو یہ نہایت آرامدے رہتا ہے اور گرفت بھی اچھی رہتی ہے۔ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان بھی عمدہ ہے حتی کہ گرمی کے موسم میں بھی اسے تھامے رکھنے پر بے آرامی کا احساس نہیں ہوتا۔ اسٹیئرنگ ویل پر بہت سے بٹنز دیئے گئے ہیں جن میں دائیں جانب آڈیو کنٹرولز اور بائیں جانب کروز کنٹرول کے بٹنز شامل ہیں۔ آپ کروز کنٹرول کے لیے دیئے گئے بٹنز سے کروزنگ کی رفتار بڑھانے یا گھٹانے کے علاوہ مکمل طور پر بند بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کروز کنٹرول بٹن کے بالکل نیچے انفارمیشن سسٹم کا بٹن (i) موجود ہے جس سے انسٹرومنٹ پینل پر نظر آنے والی معلومات تبدیل کی جاسکتی ہیں۔ ان بٹنز کی مدد سے انسٹرومنٹ پینل پر مائلیج، ہائبرڈ کی معلومات، گیئر حتی کہ G-Meter بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ گاڑی میں ایندھن بچانے کی صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے لیے یہی تجویز کیا جاتا ہے کہ غیر ضروری تیز رفتاری اور اچانک بریک لگانے سے پرہیز کریں۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(13)

گاڑی میں سامان رکھنے کے لیے چھوٹی چھوٹی کافی جگہیں دی گئی ہیں۔ سینٹر کنسول (center console) کی اونچائی زیادہ ہونے کی وجہ اس کے نیچے بھی کافی جگہ دستیاب ہوگئی ہے۔ سینٹر کنسول کا ذکر آیا ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہاں USB، HDMI اور ایک 12V کی پاور آؤٹلٹ بھی دی گئی ہے۔ کنسول کا ظاہری حصہ چمکدار پلاسٹک سے تیار کیا گیا ہے جسے استعمال کرنے کے بعد انگلیوں کے نشانات بہت واضح نظر آجاتے ہیں۔ اگر آرم –ریسٹ کو پچھلی جانب کھسکا دیں تو سینٹر کنسول میں دو کپ ہولڈرز سے بھی مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف حصوں میں جیبیں بھی بنائی گئی ہیں جہاں ہلکا پھلکا سامان رکھا جاسکتا ہے۔ پچھلی نشستیں بینچ نما ہیں یعنی حسب ضرورت ان کے نیچے بھی سامان رکھا جاسکتا ہے۔

جدید سہولیات کی بات کریں تو ہونڈا وزل میں ہر وہ خصوصیت شامل ہے کہ جسے آپ سوچ سکتے ہیں۔ پاور ونڈوز، پاور مررز، ریموٹ کنٹرول، اسٹارٹ-اسٹاپ بٹن، ایکو موڈ، ایل ای ڈی لائٹ، AC ٹچ کنٹرول، ای پی ایس سمیت بہت سی قابل ذکر چیزیں اس کا حصہ ہیں۔ ڈرائیور اور پیسنجر کو براہ راست دھوپ کی روشنی سے بچانے کے لیے sun visors دیئے گئے ہیں جن کے ساتھ آئینہ اور لائٹس دونوں ہی دی گئی ہیں۔ برقی ہینڈ بریک کے علاوہ بریک ہولڈ بھی وزل میں شامل ہے جس سے اونچائی پر سفر کرنے میں کافی سہولت میسر آتی ہے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(21)

ہونڈا وزل کا گیئر لیور دیکھنے میں کافی چھوٹا لگتا ہے لیکن اس کی جگہ اور کارکردگی دیکھتے ہوئے اسے مناسب کہا جاسکتا ہے۔ میرے خیال سے مستقبل کی گاڑیوں میں اسی طرز کا گیئر لیور استعمال کیا جائے گا جو پرانے زمانے کی گاڑیوں سے بالکل مختلف ہوگا۔ گیئر لیور میں چار آپشنز دیئے گئے ہیں۔ اگر اسے پچھلی جانب لے جائیں تو یہ گاڑی کو نچلے گیئر پر منتقل کرے گا جبکہ دائیں جانب کرنے پر reverse، neutral یا پھر drive گیئر کو استعمال کرسکتے ہیں۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(15)

کارکردگی (Performance)

ہونڈا وزل میں 1500cc ارتھ ڈریم انجن کے ساتھ ایک برقی موٹر بھی شامل ہے۔ یہ برقی موٹر گاڑی کے پچھلے حصے میں لگائی گئی ہے جہاں عام طور پر اضافی (spare) ٹائر رکھا جاتا ہے۔ ایک چیز جو مجھے اس حصے میں خاصی عجیب معلوم ہوئی وہ یہ کہ بیٹری کو نصب کرنے کے لیے ویلڈنگ کی گئی تھی اور اس کے نشانات بہت واضح تھے۔ مجھے نہیں پتہ کہ دیگر وزل کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہوگا یا پھر صرف اسی وزل میں یہ داغ بہت نمایاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا وزل اور ہونڈا HR-V کے درمیان فرق جانیئے

ہونڈا وزل میں شامل انٹرنل کومبسشن انجن (ICE) تقریباً 130 بریک ہارس پاور جبکہ برقی موٹر 30 بریک ہارس پاور فراہم کرسکتی ہے۔ ہونڈا موٹر جاپان کے مطابق یہ دونوں مجموعی طور پر 150 بریک ہارس پاور فراہم کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں پیش کی جانے والی HR-V صرف 128 بریک ہارس پاور فراہم کرسکتی ہے۔ ٹارک کی بات کریں تو وزل کا انجن 156 نیوٹن میٹر ٹارک اور برقی موٹر 160 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتی ہے۔ یہاں آپ کو ایک اور دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ پاکستانی ہونڈا سِوک 2016 میں استعمال ہونے والے ٹربو انجن ہی کو وزل میں بھی معمولی تبدیلیوں کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(33)

2014-Honda-Vezel-Engine

وزل میں موجود ہائبرڈ سسٹم کو پیرالل ہائبرڈ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم میں برقی موٹر، جو جنریٹر کا بھی کام کرتی ہے، کو انجن اور گیئر باکس کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ ہونڈا نے وزل میں ڈیول کلچ 7-اسپیڈ آٹومیٹک گیئر فراہم کیے ہیں جو میرے خیال سے بہت مناسب فیصلہ ہے۔ وزل میں آپ کو تین ڈرائیونگ موڈز میسر ہیں:
٭ ایکون (Econ)
٭ نارمل (Normal)
٭ اسپورٹس (Sports)

ایکون یعنی اکانومی موڈ میں گاڑی کا زیادہ تر انحصار برقی موٹر پر رہتا ہے اور وہ انجن بہت کم استعمال کرتی ہے۔ میں نے گاڑی چلاتے ہوئے جب ایکون موڈ کو ایکٹویٹ کیا تو مجھے گاڑی کے برتاؤ میں واضح فرق محسوس ہوا۔ سب سے پہلے جو چیز کم ہوتی محسوس ہوئی وہ انجن کی آواز تھی۔ اس کے علاوہ گیئر تبدیل کرنے کی رفتار میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوا جبکہ AC کی کارکردگی تھوڑی کم ہوگئی۔ وزل کا 40 لیٹر فیول ٹینک مکمل بھروا نے کے بعد گاڑی کو ایکون موڈ میں رکھتے ہوئے سفر کریں تو یہ سینکڑوں کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ اس موڈ کا مقصد ہی کم سے کم ایندھن میں زیادہ سے زیادہ سفر کی سہولت فراہم کرنا ہے اور وزل کا یہ سسٹم اپنا کام بخوبی انجام دے رہا ہے۔

honda-vezel-hybrid-z-honda-sensing-2016

نارمل موڈ ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، وزل عام گاڑیوں ہی کی طرح سفر کرتی ہے۔ گاڑی کو نارمل موڈ میں رکھنے کے لیے کسی قسم کا بٹن میسر نہیں بلکہ ایکون موڈ کو بند کرتے ہی وزل ازخود نارمل موڈ میں چلی جاتی ہے۔ اس دوران گاڑی کا انحصار انجن اور برقی موٹر دونوں ہی پر ہوتا ہے۔

گیئر لیور کے ساتھ موجود ہی اسپورٹس موڈ کا بٹن موجود ہے جسے دباتے ہی آپ کو انجن کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اسپیڈومیٹر کا درمیانی ڈائل بھی سرخ رنگ کا ہوجاتا ہے اور انجن کی رفتار بھی تیزی سے تبدیل ہونے لگتی ہے۔ اسپورٹس موڈ ایکٹیو کرنے پر مجھے AC کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی محسوس ہوئی۔ اس موڈ میں آپ گاڑی کو برق رفتار سے دوڑا سکتے ہیں اور اس دوران گیئر اپنی زیادہ سے زیادہ قوت استعمال ہونے کے بعد ہی تبدیل ہوتا ہے۔ اسپورٹس موڈ میں گاڑی صرف زیادہ سے زیادہ رفتار فراہم کرتی ہے چاہے اس کے لیے انجن سے مدد لینی پڑے یا پھر برقی موٹر کا سہارا لینا پڑے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(48)

ایک بات جو مجھے وزل چلاتے ہوئے بہت زیادہ محسوس ہوئی وہ انجن اور ٹرانسمیشن کے برتاؤ کا فرق تھا۔ یہ سفر کی صورتحال کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور میں اس تبدیلی کی وجوہات یا طریقہ کار جاننے سے قاصر رہا۔ میرے خیال سے شاید یہ معاملہ دور جدید کی تمام ہی برقی گاڑیوں کے ساتھ ہے۔ آپ کو ہر بار گاڑی میں بیٹھ کر اور اس میں سفر کرتے ہوئے ایک علیحدہ تجربے سے گزرنا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گاڑی بھی قدرے مختلف برتاؤ کرتی ہے۔ یہ تبدیلی اندرون شہر یا چھوٹے موٹے سفر کے دوران تو زیادہ پریشان نہیں کرتی تاہم طویل سفر کے دوران یہ چیز ڈرائیور صاحبان کو الجھن میں مبتلا کرسکتی ہے۔ چونکہ یہ انجن اور گیئر کے برتاؤ میں تبدیلی بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہے اس لیے بہت سے لوگ تو اسے محسوس بھی نہیں کرپاتے۔

جب جب میں نے گاڑی کو رفتار دینے کی کوشش کی مجھے احساس ہوا کہ گاڑی رفتار پکڑتے ہوئے تھوڑے وقفے سے کام لے رہی ہے۔ گو کہ یہ وقفہ زیادہ نہیں لیکن مجھے ایسا محسوس ہوا کہ پیڈل دبانے اور گاڑی کو رفتار پکڑنے میں تقریباً نصف سیکنڈ کا وقفہ آرہا ہے۔ بہرحال، اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کیں تو علم ہوا کہ وزل میں موجود انفارمیشن سیکشن سے آپ اسے بہتر طور پر کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو اسٹیئرنگ ویل پر موجود انگریزی حرف i کا بٹن دبانا پڑے گا جس سے انسٹرومنٹ پینل پراس حوالے سے معلومات ظاہر ہوجائیں گی۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(29)

ایک بات کا اعتراف کرتا چلوں کہ اسپورٹس موڈ پر گاڑی چلانے کا مزہ ہی اور ہے۔ اس میں گاڑی جلد رفتار پکڑتی ہے البتہ اسٹیئرنگ کے پیچھے موجود شفٹ پیڈلز کی سختی سے کچھ لوگوں کو پیڈلز استعمال کرتے ہوئے مشکل پیش آسکتی ہے۔ میں نے بھی اسے بارہا استعمال کرنے کی کوشش کی تاہم گیئر بروقت تبدیل نہ کرسکا۔ مجھے معلوم نہیں کہ آیا میرا طریقہ کار غلط تھا یا پھر وزل چلانے والوں کے لیے یہ عام بات ہے۔ میں نے انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے بھی گیئر جلدی جلدی تبدیل کرنے کی کوشش کی تاہم ناکام رہا۔ اس کے باوجود یہ بتانا چاہوں گا کہ 0 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پکڑنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

ایندھن بچانے کی صلاحیت سے متعلق بات کریں تو ہونڈا وزل چلانے والے ایک لیٹر میں 20 کلومیٹر تک سفر کرنے کا بیان کرتے ہیں۔ جبکہ ہونڈا کا دعوی ہے کہ وزل باآسانی ایک لیٹر میں 24 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ البتہ میں وزل چلاتے ہوئے ایک لیٹر میں زیادہ سے زیادہ 15 کلومیٹر ہی سفر کرپایا۔ اب چونکہ میں تو گاڑی کو ہر طرح سے جانچنے کی کوشش کر رہا تھا اس لیے کئی بار ایکو موڈ کے ساتھ اور بغیر بھی گاڑی میں سفر کیا۔ ہوسکتا ہے کہ ایکو موڈ ایکٹویٹ رکھنے پر وزل ایک لیٹر ایندھن میں 20 کلومیٹر تک بھی سفر کرسکے۔ لیکن ہونڈا وزل کے مالکان کی اکثریت 15 سے 17 کلومیٹر کی مائلیج ہی بیان کرتی ہے جو کہ گاڑی کے سائز اور انداز کو دیکھتے ہوئے مجھے بالکل ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔

Honda Vezel Motor Layout

اور اگر بات کریں وزل کے بریکس کی تو یہ ان چیزوں میں شامل ہیں کہ جنہوں نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ وزل میں 4-ویل ڈسک بریکس دیئے گئے ہیں جو ہر طرز کے ٹریک پر گاڑی کو روکنے کے لیے بہترین ہیں۔ چونکہ وزل میں ریجنریٹنگ بریکنگ سسٹم بھی ہے اس لیے ریس پیڈل سے پیر ہٹاتے ہی وہ ازخود رفتار کم کرنا شروع کردیتی ہے۔ اس دوران گاڑی کی بیٹریز چارج ہوتی ہیں جس سے برقی موٹر کو قوت فراہم ہوتی ہے۔ یہ نظام تقریباً سب ہی ہائبرڈ گاڑیوں میں شامل ہوتا ہے۔ میں نے ایک بار تیز رفتار سے موڑ کاٹتے ہوئے بھی اچانک بریک لگا کر دیکھے اور یقین جانیئے کہ گاڑی رکنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگی۔

ایک چیز جس نے مجھے کافی مایوس کیا وہ وزل کا AC ہے۔ جس دن میں نے تجزیئے کے لیے گاڑی چلائی درجہ حرارت تقریباً 42 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ اس موسم میں عام گاڑیوں کا AC بہتر کام کرتا ہے لیکن وزل کے معاملے میں میری توقعات پوری نہ ہوئیں۔ اس حوالے سے جب میں نے اور لوگوں کی رائے لی تو ان کا یہی کہنا تھا کہ وزل کا AC مناسب سا ہے لیکن مجھے ذاتی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ یہ گاڑی کو ٹھنڈا کرنے سے قاصر ہے۔ پھر اگر آپ ایکون موڈ ایکٹویٹ کرلیں تو یہی AC بالکل ایک پنکھے کی طرح کام کرتا ہے جس سے ہوا تو آتی ہے مگر ٹھنڈک کا احساس نہیں ہوتا۔ ایکون موڈ بند کرنے پر کچھ بہتری آتی ہے لیکن وہ بھی تسلی بخش نہیں کہی جاسکتی۔

سفر کا لطف اور گاڑی پر گرفت (Comfort and Handling)

جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ہونڈا وزل ظاہری طور پر ایک چھوٹی اور ہلکے وزن والی گاڑی لگتی ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ گاڑی میں بیٹریز کو پچھلی جانب لگایا جاتا ہے کہ جہاں عام طور پر اضافی ٹائرز رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ برقی موٹر بھی گاڑی میں شامل ہے جو ہائبرڈ / جنریٹر کا کام کرتی ہے۔ ان تمام چیزوں کو ملا کر وزل کا وزن مقامی تیار شدہ HR-V سے کہیں زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس اضافی وزن کو سنبھالنے کے لیے وزل میں 215 چوڑے ٹائرز لگائے گئے ہیں جنہیں 17 انچ الائے سے ڈھانپہ گیا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں گاڑی کو سنبھالنے میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ہونڈا نے وزل کے سسپنشن کو بھی بہتر بنایا ہے اور اب وہ خاصہ اسپورٹی احساس فراہم کرتے ہیں۔ اسٹیئرنگ پر گرفت بھی اچھی ہے جس سے آپ اعتماد کے ساتھ گاڑی چلا سکتے ہیں۔ موٹر وے پر تیز رفتاری سے چلاتے ہوئے میں نے گاڑی کو اچانک موڑنے کی کوشش کی اور ہر بار یہ میرے مکمل کنٹرول ہی میں رہی۔

عام گاڑیوں کی نسبت بڑے ہونے کی وجہ سے اس میں کافی گنجائش موجود ہے۔ اگلی نشستوں کو بالکل پیچھے کردینے کے باوجود پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والوں کے لیے کافی مناسب لیگ روم رہتا ہے۔ ہماری جانچ کے لیے اگلی نشستوں کو 6 فٹ قد والے فرد کے لیے سیٹ رکھا گیا تھا جبکہ پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے مسافروں اور اگلی نشست کی پشت کے درمیان 6 انچ سے بھی زیادہ فاصلہ تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو گاڑی میں بیٹھ کر لیگ روم کا مسئلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ البتہ پچھلی نشستوں پر تین افراد کو بٹھانے کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وزل کی چوڑائی 1772 ملی میٹر ہے جبکہ نویں جنریشن ہونڈا سِوک کی چوڑائی 1755 ملی میٹر ہے۔ اس کے باوجود آپ سِوک میں تین افراد باآسانی بٹھا سکتے ہیں تاہم وزل میں قدرے پریشانی لاحق ہوسکتی ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ وزل کا اندرونی حصہ (interior) ہے۔ گاڑی کو باہر کے شور شرابے سے محفوظ رکھنے اور دیگر اہم وجوہات پر ہونڈا نے اندرونی حصے میں کافی موٹی تہہ بنائی ہے جو دروازوں کے پینلز میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ پچھلی نشستوں کے وسط میں ایک گانٹھ (bump) بھی موجود ہے جس کی وجہ سے درمیان میں کسی بڑے فرد کا بیٹھنا قدرے مشکل ہے۔ ان چیزوں کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے یہ گاڑی چار افراد اور ایک نونہال کے ساتھ سفر کرنے کے لیے بہترین ہے کیوں کہ اگر پچھلی نشستوں پر تین افراد کو بٹھایا جائے تو انہیں تمام سفر میں شدید تنگی کا احساس ہوتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ہونڈا وِزل کی زبردست کامیابی کا راز

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(7)

ہونڈا وزل کو باہر سے دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلی جانب اس کی چھت کافی نیچے کی طرف ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سفر کے دوران ہوا کے دباؤ کو کم سے کم کرنا ہے۔ لیکن اس سے ہوا یہ کہ پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے افراد کے لیے ہیڈروم میں بھی کمی واقع ہوگئی۔ اگر آپ کا قد 6 فٹ سے تھوڑا بھی زیادہ ہے تو پچھلی نشستوں پر بیٹھنے کی صورت میں آپ کا سر گاڑی کی چھت سے ٹکرا سکتا ہے۔

ڈگی میں دستیاب جگہ بھی مناسب ہے البتہ اس میں کوئی بہت بڑے اور بھاری بھرم سوٹ گیس نہیں رکھے جاسکتے۔ ہونڈا کا دعوی ہے کہ نشستوں کو سیدھا رکھا جائے تو سامان رکھنے کی گنجائش 450 لیٹر رہتی ہے۔ یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہونڈا سِوک سیڈان کی ڈگی میں سامان رکھنے گنجائش 350 لیٹر بیان کی جاتی ہے۔ چونکہ وزل سیڈان طرز کی نہیں ہے اس لیے ڈگی کی گہرائی سِوک جتنی نہیں ہے لیکن کراس اوور ہونے کی وجہ سے اونچائی میں کافی زیادہ جگہ موجود ہے۔ اور اگر آپ پچھلی نشستوں کو تہہ کر کے بند کردیں تو سامان رکھنے کی جگہ کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اسے صورت میں پوری واشنگ مشین بھی رکھ سکتے ہیں۔ ہونڈا وزل کے ساتھ آپ کو اضافی (spare) ٹائر تو نہیں دیا جاتا البتہ پنکچر لگانے کی پوری کٹ ضرور فراہم کی جاتی ہے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(5)

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(47)

ہونڈا وزل میں 215 چوڑے اور 17 انچ الائے ویلز لگائے گئے ہیں اور گاڑی کی بہتر ہینڈلنگ کے لیے یہ ٹائرز بہت زیادہ مفید ہیں۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ ایک ہلکے وزن والی گاڑی ہے جبکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر گزرا کہ وزل کا مجموعی وزن تقریباً 1300 کلو گرام ہے اور اتنے زیادہ وزن کے باوجود ویل بیس بھی چھوٹا (2610 ملی میٹر) ہونا واقعی ایک پریشان کن امر ہے۔ تاہم غیر روایتی چوڑے اور بڑے ٹائرز کی موجودگی اور ہونڈا کی جانب سے سسپنشن میں بہتری نے اس پریشانی کا خاتمہ کردیا ہے۔ جب میں 37 لاکھ روپے کی ہونڈا وزل 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑا رہا تھا تو میرے ساتھ اس گاڑی کے شوروم کا ایک نمائندہ بھی موجود تھا۔ انتہائی تیز رفتار کے باوجود نہ تو شوروم کا نمائندہ گھبرایا اور نہ ہی گاڑی نے کسی قسم کی لڑکھڑاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران گاڑی کے ٹائرز کئی بار زمین سے اوپر اٹھے لیکن اسٹیئرنگ کے ساتھ ان کا تعلق برقرار رہا ہے اور وہ بالکل درست سمت میں دوبارہ زمین تک پہنچے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(65a)

زیادہ اونچی گاڑیوں میں سفر کرتے بالخصوص موڑ کاٹتے ہوئے اکثر ڈرائیوروں اور مسافروں کے جسم لہراتے رہتے ہیں اور کچھ یہی معاملہ وزل کے ساتھ بھی ہے۔ عام طور پر اندرون شہر سفر کرتے ہوئے تو آپ کو اس کا زیادہ احساس نہیں ہوتا لیکن یاد رہے کہ وزل کراس اوور ہے اس لیے موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی کو غیر معمولی طور پر جھکاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر بھی ہونڈا کے سسپنشن اور چوڑے و بڑے ٹائرز کی وجہ سے وزل ڈرائیور کی گرفت میں رہتی ہے۔ ایک دلچسپ معاملہ یہ ہوا کہ جب میں ایک خطرناک موڑ کاٹنے لگا تو وزل نے ازخود ٹریکشن کنٹرول کو ایکٹویٹ کردیا جو میرے لیے کافی غیر متوقع امر تھا۔ خلاصہ یہ کہ وزل کا اچھی گرفت کا حامل اسٹیئرنگ تھام کر سفر کرنے کا تجربہ کافی دلچسپ رہا اور تمام ہی سفر کے دوران گاڑی مکمل گرفت میں ہی محسوس ہوئی۔

گاڑی میں سفر کے دوران سڑک پر آنے والے ہر اونچے نیچے گڑھے کو محسوس کرسکتے ہیں۔ گو کہ یہ احساس زیادہ پریشان تو نہیں کرتا لیکن آپ کو گاڑی اوپر نیچے لرزش کرتی محسوس ضرور ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا احساس دیگر مسافروں کو زیادہ نہ ہوتا ہو لیکن ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اسے بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اب کچھ لوگوں کے لیے جہاں یہ تجربہ دلچسپ ہوگا تو دوسری جانب ایسے بھی لوگ ہیں کہ جو 37 لاکھ کی گاڑی کو شور شرابے سے پاک اور زیادہ آرامدے ہونے کی توقع رکھتے ہوں گے۔

تیز رفتاری کے دوران موڑ کاٹتے ہوئے بھی گاڑی کی کارکردگی دیگر سے بہت بہتر رہی۔ ایک بار بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ گاڑی کے ٹائر ہوا میں تیر رہے رہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ خطرناک موڑ کاٹنے کے باوجود گاڑی بہت جلد سیدھی ہوکر اپنی جگہ پر واپس آگئی۔ اس دوران اسٹیئرنگ بھی ہلکا پھلکا ہی رہا اور اس کے اٹکنے یا بھاری ہونے کا مسئلہ درپیش نہ ہوا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ہونڈا نے برقی پاور اسٹیئرنگ کو بہت مہارت سے تیار کر کے نصب کیا ہے۔

اگلی نشستوں پر بیٹھ کر سفر کرنا کافی آرامدے ثابت ہوا۔ دونوں اگلی نشستوں کے درمیان ایک لمبا سا سینٹر کنسول موجود ہے جبکہ نشستیں اس سے تھوڑی نیچی رکھی گئی ہیں۔ اس سے ڈرائیور کو گاڑی کنٹرول کرنے میں کافی سہولت پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ نشستیں نیچی ہونے ہی کی وجہ سے آپ کوسڑک سے غیر معمولی اونچائی کا احساس نہیں ہوتا۔ میری ذاتی رائے میں تو وزل چلانے کا اپنا ہی مزہ ہے ۔ گاڑی کا فرش زمین سے تقریباً 7 انچ اوپر ہے اور اس کا ویل بیس بھی کافی چھوٹا ہے۔ اس طرح گاڑی کے نیچے سے رگڑ کھانے کا خطرہ بھی قدرے کم ہوگیا ہے۔

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(49)

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(50)

2016-Honda-Vezel-Detailed-Review--Aref-(51)

حفاظتی سہولیات (Safety)

2016 ہونڈا وزل ہائبرڈ Z میں آٹھ ائیر بیگز دیئے گئے ہیں۔ اگلی جانب دو ایئر بیگز کے علاوہ گاڑی کے تمام ستونوں کے ساتھ بھی ایئر بیگز دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً پوری گاڑی ہی کرمپل زون ہے۔ میرے خیال سے وزل کا شمار پاکستان میں دستیاب محفوظ ترین گاڑیوں میں کیا جانا چاہیے۔ اس گاڑی میں بیٹھ کر آپ عام شاہراہوں پر ہونے والے حادثات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کسی بھی چیز سے ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے وزل میں راڈار سسٹم بھی لگایا گیا ہے۔ اگر اس سسٹم کو ایکٹویٹ رکھا جائے تو یہ گاڑی کے سامنے آجانے والی چیزوں سے ڈرائیور کو باخبر کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ازخود گاڑی کی رفتار کم کردیتی ہے۔ مصیبت کسی سے پوچھ کر نہیں آتی اور ہمارے یہاں ہونے والے ٹریفک حادثات میں اضافہ بھی اس بات کی اہمیت پر زور دیتا ہے کہ گاڑیوں میں اس قسم کی سہولیات لازمی ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر کسی دوسرے کی معمولی غلطی سے آپ کی لاکھوں روپے کی گاڑی نقصان کا شکار ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ وزل میں دیگر حفاظتی سہولیات بھی شامل ہیں جن میں ABS اور EBD بھی قابل ذکر ہیں۔ اور جیسا کہ پہلے ذکر گزرا کہ گاڑی میں ٹریکشن کنٹرول بھی موجود ہے تو اگر آپ چاہیں تو اسے بھی حفاظتی سہولیات میں شامل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا HR-V یا ہونڈا BR-V: پاکستان کے لیے کونسی گاڑی زیادہ موزوں ہے؟

honda-vezel-hybrid-z-honda-sensing-2016

حتمی رائے (Verdict)

اگر آپ کا خاندان کم و بیش چار افراد پر مشتمل ہے اور آپ ایک جدید گاڑی رکھنے کے خواہش مند ہیں جو خوبصورت ہو، لمبے سفر کے لیے بہترین ہو، ایندھن بچانے کی بھی صلاحیت رکھتی ہو تو آپ کے لیے وزل ایک بہترین گاڑی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ روز مرہ استعمال کے لیے کوئی متبادل گاڑی لینا چاہتے ہیں جس میں بچوں کو اسکول چھوڑنے کے علاوہ سودا سلف لانے کے بھی استعمال کرسکیں تو بھی ہونڈا وزل بہترین ہے۔

قیمت کی اگر بات کریں تو میرے خیال سے وزل اس معیار پر بھی پورا اترتی ہے۔ جس گاڑی کا میں نے جائزہ پیش کیا وہ 2016 کا ماڈل اور 9000 کلومیٹر چلی ہوئی ہے جبکہ اس کی قیمت 37 لاکھ روپے ہے۔ پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں زیادہ فرق ان کی مجموعی حالت اور آکشن شیٹ گریڈ کے باعث آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو پاکستان میں ہونڈا وزل کے مختلف ماڈلز 30 لاکھ سے 40 لاکھ روپے کی قیمت میں مل جائیں گے۔ لہٰذا اگر آپ وزل لینے کے خواہش مند ہیں تو اس بجٹ کو ضرور ذہن میں رکھیے۔

ہونڈا وزل میں بے شمار ایسی خصوصیات شامل ہیں کہ جو یہاں دستیاب کسی اور گاڑی میں موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے 37 لاکھ روپے کی قیمت بالکل مناسب لگتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستان میں نئی ہونڈا HR-V کی قیمت بھی 36 لاکھ روپے ہے۔گو کہ استعمال شدہ وزل اور نئی HR-V کی قیمت میں زیادہ فرق نہیں تاہم خصوصیات کے اعتبار سے ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ رہی بات اس کے پرزوں کی تو چونکہ ہونڈا ایٹلس پاکستان نے HR-V یہاں متعارف کروائی ہے اس لیے وزل کے بھی اکثر پرزے باآسانی ہونڈا ڈیلرشپس پر مل جانے چاہئیں۔

چند ایک چیزیں ایسی بھی ہیں کہ جو میرے خیال سے پاکستان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزل میں تبدیل کی جاسکتی ہیں۔ سب سے پہلی یہ کہ اس میں 17 انچ الائے استعمال کرنے کے بجائے 16 انچ الائے استعمال کرنے چاہئیں۔ اور وزل کے چند ایک ماڈلز میں 16 انچ ویلز استعمال کیے بھی گئے ہیں۔ اس تجویز کی وجہ پاکستان میں سڑکوں کی ابتر صورتحال ہے جس کی وجہ سے زیادہ ربڑ والے ٹائر بہتر رہتے ہیں۔ خاص کر وہ لوگ جو اپنے گاؤں وغیرہ تک سفر کرتے ہیں انہیں اس بات کا اور بھی خیال رکھنا چاہیے کہ زیادہ ربڑ والے ٹائرز استعمال کریں اور اپنے سفر کو آرامدے بنائیں۔

اس کے علاوہ پچھلی نشستوں میں تین افراد کے آرامدے سفر کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔ اس وقت وزل کی پچھلی نشستوں پر دو افراد بیٹھ کر مزے سے سفر کرسکتے ہیں تاہم درمیان میں bump کی وجہ سے تیسرے فرد کا سفر آرامدے نہیں رہتا۔ اگر اسے مزید بہتر بنایا جائے تو مجھے یقین ہے کہ بہت سے خاندان ہونڈا وزل ہی خریدنا پسند کریں گے۔

آخر میں ہونڈا جاپان کے لیے ایک اور تجویز ہے کہ وزل کی بڑھتی ہوئی درآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا ہدایت نامہ جاپانی کے ساتھ انگریزی میں بھی فراہم کرنا شروع کردے۔ ہوسکتا ہے بہت سے لوگ اسے پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے ہی نہ ہوں لیکن جو اس گاڑی کو مکمل طور پر سمجھنا چاہتے ہیں اس سے انہیں بہت زیادہ آسانی ہوجائے گی۔

Top