سوزوکی سوِفٹ RS ٹربو 2017 – مفصل جائزہ، خصوصیات و تصاویر

2017 Suzuki Swift PakWheels Review

اس بار ہم آپ کے لیے کچھ مختلف لے کر آئے ہیں۔ جس زبردست گاڑی کے لیے بارے میں ہم بات کرنے جارہے ہیں، وہ مختلف ہی نہیں منفرد بھی ہے۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے میں یہاں سگما موٹرز لاہور کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اس گاڑی کے تفصیلی جائزہ کا موقع فراہم کیا۔ اگر آپ پاکستان میں کوئی گاڑی درآمد کرنا چاہتے ہیں تو ان سے ضرور رابطہ کریں۔ جو گاڑی ہمیں فراہم کی گئی وہ یہاں ساڑھے 18 لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔

سوزوکی سوِفٹ کا نام پہلی مرتبہ 1985ء میں منظر عام پر آیا۔ دنیا بھر میں سوزوکی نے اس چھوٹی ہیچ بیک کو مختلف ناموں سے متعارف کروایا۔ سوزوکی سوِفٹ 2017ء کا تعلق سوِفٹ کی چھٹی جنریشن سے ہے۔ جاپان میں یہ سوِفٹ کی چوتھی جنریشن (یکساں انداز) ہے۔ تاہم عالمی سطح پر یہ چھٹی جنریشن ہی شمار کی جاتی ہے۔ نئی سوِفٹ سوزوکی کے کم وزنی پلیٹ فار “ہیئرٹیکٹ” پر تیار کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں یہ گاڑی مختلف انجن اور منفرد انداز سے پیش کی جارہی ہے۔ جس گاڑی کا ہم جائزہ لے رہے ہیں وہ 1000cc ٹربو چارجڈ انجن کی حامل ہے۔ تو آئیے، گاڑی کی جانب بڑھتے ہیں۔

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

سوزوکی سوِفٹ 2017 کا ظاہری انداز

سوِفٹ 5 دروازوں اور 5 ہی نشستوں والی ہیچ بیک ہے۔ اسے دنیا بھر میں سوِفٹ کی چھٹی جنریشن مانا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سوزوکی پاکستان آج بھی سوِفٹ کی تیسری جنریشن فروخت کر رہا ہے۔ اس کی لمبائی 3890 ملی میٹر، چوڑائی 1735 ملی میٹر جبکہ اونچائی 1500 ملی میٹر ہے۔ اگ پاکستانی سوزوکی سوِفٹ کی پیمائش دیکھی جائے تو اس کی لمبائی 3755 ملی میٹر، چوڑائی 1690 اور اونچائی 1525 ملی میٹر ہے۔ غرض یہ کہ نئی سوِفٹ اونچائی میں کم ہونے کے باوجود لمبائی اور چوڑائی میں مقامی سوِفٹ سے زیادہ بڑی ہے۔ اس کا ویل بیس 2450 ملی میٹر ہے جبکہ پرانی سوِفٹ کا ویل بیس 2390 ملی میٹر ہے۔ فرش سے زمین تک کا فاصلہ (گراؤنڈ کلیئرنس) دیکھیں تو نئی سوِفٹ 120 ملی میٹر اور پاکستانی سوِفٹ 160 ملی میٹر ہے۔

پاکستانی سوزوکی سوِفٹ کے ظاہری انداز پر واضح لکیریں موجود ہے جبکہ چھٹی جنریشن سوِفٹ 2017 کے اکثر حصہ خم دار ہے۔ مجموعی طور پر اس کا اگلا حصہ گاڑی کو بیضوی شکل کا ظاہر کرتا ہے جبکہ پچھلی جانب سے گاڑی بالکل ہموار نظر آتی ہے۔ بظاہر نئی گاڑی کا انداز تیسری جنریشن سوِفٹ سے ملتا جلتا ہے لہٰذا آپ ان دونوں کے درمیان “رشتہ داری” کو محسوس کر سکتے ہیں اور پرانے ماڈل سے 2017 کا ماڈل موازنہ بھی کرسکتے ہیں۔2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

سوزوکی نے نئی سوِفٹ کا پچھلا حصہ تھوڑا جھکا ہوا بنایا ہے تاکہ اس کی ہمواریت اور ایروڈائنماکس اہلیت میں بہتری لائی جاسکے۔ البتہ اگلی جانب نصب گِرل کافی لمبی چوڑی ہے۔ اگلی جانب سے بالکل سیدھ میں گاڑی کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ گاڑی کے چہرے کا زیادہ تر حصہ گِرل ہی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اگلا بمپر بھی بہت بڑا ہے اور گاڑی کی مجموعی انداز پر بہت زیادہ حاوی نظر آتا ہے۔

دلکش سطریں اور ابھار

چونکہ یہ سوزوکی سوِفٹ کا بہترین اسپورٹس ماڈل ہے اس لیے اس کے ظاہری انداز میں دیدہ زیب سطور اور ابھار بہت نمایاں ہیں۔ گاڑی کے اگلے بمپر کے نچلے حصے سے شروع ہونے والی کروم درمیان سے ہوتی ہوئی پیچھے کی جانب جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نصف نیچے ذیلی بمپر میں فوگ لائٹس کے لیے جگہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گِرل پر بھی کروم کی لکیریں آویزاں ہیں جبکہ بالائی نصف حصے پر کیمرہ لگایا گیا ہے۔2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-40

مجموعی طور پر اگلا حصہ، فینڈرز سے بمپر تک بشمول بونٹ، خم دار اور ہموار ابھار سے مزین ہے۔ یوں یہ حصہ تقریباً انڈے جیسا ہی نظر آتا ہے۔ اگلے دونوں فینڈرز کافی شوخ ہیں تاہم یہ اتنے زیادہ بھڑکیلے نظر نہیں آتے کہ جتنے سوزوکی سوِفٹ کی تیسری جنریشن میں موجود تھے۔

پچھلا حصہ

پیچھے والا دروازہ کھول کر دیکھیں گے تو آپ کو چھوٹی سی ڈگی ملے گی۔ لیکن یہیں آپ کو نظر آئے گا کہ پچھلی نشستیں (سیٹس) 60/40 میں تقسیم ہیں۔ آپ انہیں آگے کی جانب خم دے کر سامان رکھنے کی مزید گنجائش بنا سکتے ہیں۔ ڈگی میں بچھے ہوئے پائیدان کے نیچے آپ کو پنکچر لگانے والی کٹ بھی ملے گی کیوں کہ جدید جاپانی درآمد شدہ گاڑیاں اب اضافی ٹائر کے ساتھ نہیں پیش کی جاتیں جس کی بنیادی وجوہات میں دستیاب جگہ کی کمی اور قیمت میں کٹوتی ممکن بنانا شامل ہیں۔2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-34

اس کے علاوہ سوزوکی سوِفٹ 2017ء کا پچھلا حصہ ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک چھوٹی فیملی ہیچ بیک کا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں آپ کو ظاہری انداز میں دلچسپ تقسیم نظر آئے گی۔ پہلے یعنی اوپری حصے میں شیشہ موجود ہے جبکہ درمیان میں دیکھیں تو دونوں اطراف اسٹاپ لائٹس اور بالکل نیچے گاڑی کا پچھلا بمپر نمایاں ہے۔ ہاں، پچھلے شیشے کے اوپر آپ کو اسپائلر بھی نظر آئے گا جو گاڑی میں کچھ اس انداز سے لگایا گیا ہے کہ وہ اس کا حصہ ہی معلوم ہوتا ہے ناکہ بعد میں زبردستی شامل کی جانے والی کوئی چیز۔ اس اسپائلر میں بھی بریک لائٹس لگائی گئی ہیں۔

تین سطحی عقبی حصہ

سوِفٹ 2017ء کا پچھلا حصہ بظاہر مختلف سطح میں بنا ہوا لگتا ہے۔ جب آپ بند دروازے کے ساتھ باہر سے کیبن میں کے اندر جھانکتے ہیں تو یہ کوہان نما نظر آتا ہے۔ لیکن جب آپ شیشے کے درمیان سے جھانکتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف پچھلا حصہ مزید پھیل گیا ہے بلکہ ڈگی میں گنجائش بھی بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح مزید نیچے سے دیکھیں تو یہاں سے گاڑی کا پچھلا حصہ مزید باہر نکلا ہوا لگتا ہے۔2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-15

پچھلے حصے کے کناروں پر بھی آپ کو کروم نظر آئے گی۔ اس کے اوپر ہی آپ کو عقبی کیمرہ اور سوزوکی کا چمکتا ہوا نشان بھی ملے گا۔ دائیں جانب سوِفٹ اور RS کی علامت بھی خاصی نمایاں ہے۔ اسٹاپ لائٹس بالکل سرخ ہیں اور اس کے ساتھ چھوٹی و چوکور نما ریورس لائٹس ہیں جبکہ ان کے درمیان واضح سگنل لائٹس بھی دی گئی ہیں۔

سوزوکی سوِفٹ 2017 کا اندرونی حصہ

مجموعی طور رپ سوزوکی سوِفٹ کا اندرونی حصہ بہت ہی شاندار انداز سے بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل میں ٹویوٹا کرولا گرانڈے 2017 کا بھی تفصیل جائزہ لے چکا ہوں اور بالکل دیانتداری سے کہوں تو مجھے سوزوکی سوِفٹ کے اندرونی حصے کے معیار نے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس حصے میں سیاہ رنگ کا استعمال حاوی نظر آتا ہے جس میں دروازوں کے پینلز، ڈیش بورڈ و دیگر چیزیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں موجود مختلف فریمز اور بٹن میں کروم کے ساتھ ساتھ نقرئی (چاندی) کا رنگ بھی نمایاں نظر آئے گا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ سوِفٹ RS کا باہری حصہ گول مٹول لگتا ہے، لیکن اس کے برعکس اندرونی حصے پر واضح سطریں اور کنارے نظر آتے ہیں۔

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

ڈیش بورڈ کے دائیں جانب آپ کو گاڑی کا انجن اسٹارٹ کرنے کا بٹن نظر آئے گا جو انجن بند کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹریکشن کنٹرول، ریڈار بریکنگ کے ساتھ ساتھ لین کی خلاف ورزی پر اطلاع دینے والے اشارے بھی نمایاں ہیں۔

مسافر کی طرف

ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھے مسافر کی سہولت کے لیے ڈیش بورڈ کو تھوڑا اندر کی جانب دھکیلا گیا ہے۔ ڈیش بورڈ کا درمیانی حصہ بہت حد تک باہر نکلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں آپ کو ایل سی ڈی اسکرین اور ساؤنڈ سسٹم دیے گئے ہیں۔ ایل سی ڈی کے نیچے ایئرکنڈیشن کنٹرول کے علاوہ ایک چھوٹی سی دراز بھی دی گئی ہے جہاں آپ ہلکا پھلا سامان رکھ سکتے ہیں۔ اس کے اوپر 12 والٹ آؤٹ اور یو ایس بی پورٹ بھی شامل ہے۔

2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-28

2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-10

گاڑی میں شور

چونکہ سوزوکی سوِفٹ ٹربو چارجڈ ہے اس لیے آپ توقع کر رہے ہوں گے کہ اس کا انجن کافی گھن گھرج رکھتا ہوگا۔ لیکن، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب آپ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہیں تو انجن بھاری آواز کے ساتھ اسٹارٹ ہوتا ہے مگر جیسے ہی گاڑی سفر پر رواں ہوتی ہے، انجن کی آواز کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ گاڑی کے کیبن میں نہ صرف انجن بلکہ باہر کا شور بھی بہت کم آتا ہے۔ چونکہ اس کا اندرونی حصہ انتہائی مہارت سے جوڑا گیا ہے، اس لیے اونچے نیچے راستوں سے بھی گاڑی بلا چوں چرا گزر جاتی ہے۔

اسٹیئرنگ اور MID

بلاشبہ گاڑی کا یہ حصہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ یہاں ایسے ہر طرح کے بٹن اور سوئچز دیے گئے ہیں جو گاڑی چلانے کے لطف کو دوبالا کردیتے ہیں۔ ڈرائیور کی نشست سنبھالتے ہی سب سے پہلی چیز نوٹس میں آئے گی وہ سوِفٹ RS کا اسٹئیرنگ ویل ہے جس کا سائز چھوٹا ہے نیز اس کا نچلا حصہ بالکل سیدھ میں ہے۔

اسٹیئرنگ کے بائیں آواز تیز یا دھیمی کرنے اور آڈیو سورس منتخب کرنے کے لیے بٹن موجود ہیں۔ آڈیو کنٹرولز کے بالکل نیچے فون کال اور اسپیکر کے بٹن دیے گئے ہیں۔ اسٹیئرنگ کے دائیں جانب ملٹی انفارمیشنل ڈسپلے بٹن شامل ہیں جہاں سے آپ MID اسکرین پر نظر آنے والی معلومات میں حسب ضرورت تبدیلی کرسکتے ہیں۔ انفو نامی بٹن کو دباتے رہے اور آپ کو ڈیش بورڈ پر موجود ڈسپلے میمں مختلف طرز کی معلومات ملتی رہیں گی جن میں جی سینسر سے لے کر ٹارک، رفتار کے لیے پاور میٹر اور بریکنگ گراف کے علاوہ گاڑی میں ایندھن کے استعمال سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہیں۔ اور اسٹیئرنگ کے پیچھے گیئرز بدلنے کے لیے پیڈلز دستیاب ہیں۔

سامان رکھنے کی گنجائش

معیاری جاپانی گاڑیوں کی طرح اس گاڑی میں بھی چھوٹا موٹا سامان رکھنے کی کافی جگہیں دی گئی ہیں۔ ڈیش بورڈ پر موجود سینٹر کنسول میں کلاس رکھنے کے علاوہ دستاویزات رکھنے کی جگہ بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دروازوں کے پینلز میں بھی ان کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ گاڑی کے چاروں دروازوں میں ایک، ایک اسپیکر اور اگلی جانب دو ٹویٹرز بھی شامل ہیں۔

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

  • گیئر لیور

گیئر لیور بہت سادہ ہے۔ اس میں سب سے اوپر P یعنی پارکنگ موجود ہے جبکہ نچلے دائیں جانب M دیا گیا ہے جسے آپ مینوئل گیئر کے ساتھ گاڑی چلانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسٹیئرنگ ویل کے پیچھے موجود پیڈلز کی مدد سے گیئرز با آسانی تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرائیونگ سیٹ کے لیے سیٹ وارمر کی خصوصیت بھی شامل کی گئی ہے۔ اس استعمال کرنے کا بٹن ہینڈ بریک کے دائیں جانب موجود ہے۔

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

پچھلے دروازوں میں دی جانے والی کھڑکی قدرے پتلی اور چھوٹی ہے لہذا آپ کو پچھلی نشستوں پر بیٹھتے ہوئے تنگی کا احساس ستائے گا۔ اسی طرح پچھلے دروازوں کا ہینڈل بھی دیگر گاڑیوں کی طرح درمیان میں نہیں بلکہ دروازے کے بالکل اوپر دیا گیا ہے جو کہ نئے مسافروں کے لیے کافی منفرد بات ہو سکتی ہے۔

2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-20

2017 سوزوکی سوِفٹ کی کارکردگی

  • انجن

اگر مجھ سے کہا جائے کہ گاڑی کے سفر اور کارکردگی کو ایک جملے میں بیان کرو تو میں کہنا چاہوں گا کہ اس گاڑی کو چلانا بہت ہی پُر لطف ہے۔ یہ گاڑی اتنی جلدی رفتار پکڑتی ہے کہ آپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ 3-سلینڈ 1000cc والے انجن کی حامل ہے۔ اسے پھرتیلا راکٹ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ گیئر تبدیلی کا عمل بھی بہت تیز ہے اور جیسے ہی آپ اس کی رفتار بڑھاتے ہیں یہ ہواؤں سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ اس کا کم سے کم ٹربو لیگ گاڑی کو جلد رد عمل دینے کے قابل بناتا ہے۔2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

  • گیئر باکس

ٹربو 2017 سوِفٹ کو سوزوکی کے 1000cc بوسٹر جیٹ پیٹرول انجن (K10C) کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تین سلنڈر والا 996cc انجن ہے جو 110 بریک ہارس پاور اور 150 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے۔ بوسٹر جیٹ کا نام بتاتا ہے کہ یہ ٹربو چارجڈ انجن ہے۔ یہ انجن 6-اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس سے منسلک ہے۔ مجھے اپنے سفر کے دوران ایک بار بھی احساس نہیں ہوا کہ گاڑی میں روایتی گیئر باکس شامل ہے۔ گیئر تبدیل کرنا بہت ہی آسان اور ہموار طرز کا ہے اور اسے ہلکی سی کوشش سے کیا جا سکتا ہے۔ سا‏ئز اور انجن کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ گاڑی بہت تیز ہے۔ سوزوکی کا کہنا ہے کہ سوزوکی سوِفٹ 2017 صرف 10 سیکنڈز میں 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ 1800cc ٹویوٹا کرولا سے زیادہ نہیں تو برابر کی رفتار رکھتی ہے۔

اطلاع: مینوئل گیئر باکس کی حامل سوزوکی سوِفٹ ٹربو اپنے ہی آٹومیٹک گیئر والے ماڈل سے 0.6 سیکنڈز سست رفتار ہے۔

  • ایندھن کی کھپت

سوزوکی سوِفٹ میں 37 لیٹر گنجائش کا حامل فیول ٹینک موجود ہے۔ لیکن گاڑی میں ایندھن کی کھپت، جو کہ 8 کلومیٹر فی لیٹر، کو مد نظر رکھا جائے تو 37 لیٹر بہت زیادہ معلوم نہیں ہوتی۔ سوزوکی جاپان نے دعوی کیا ہے کہ JC08 سائیکل میں یہ گاڑی لگ بھگ 16 کلومیٹر فی لیٹر سفر کر سکتی ہے تاہم حقیقی دنیا میں یہ اعداد و شمار حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مناسب رفتار سے بھی اسے چلایا جائے تو ایک لیٹر میں 12 کلومیٹر سے زیادہ لمبا سفر ممکن نہیں۔ اس گاڑی کے مالک نے ہمیں بتایا کہ اگر بہت ہی احتیاط سے استعمال کیا جائے تو پھر ایک لیٹر میں یہ گاڑی 15 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسے کم یا مناسب رفتار ہی سے چلانا ہے تو پھر ‘پھرتیلا راکٹ’ بنانے کا کیا فائدہ ہو گا۔

  • فلیپی پیڈلز

جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ تھوڑے ہی عرصے پہلے میں نے تفصیلی جائزے کے لیے ٹویوٹا کرولا گرانڈے میں آزمائشی سفر کیا تھا اور اس میں بھی پیڈلز موجود تھے۔ لیکن سوِفٹ RS اور آلٹس گرانڈے کے پیڈلز میں قابل ذکر فرق یہ ہے کہ اس گاڑی کے پیڈل زیادہ تیزی سے کام کرتے ہوئے بنسبت کرولا کے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ سوِفٹ ایک مینوئل گاڑی نہیں ہے اور آپ گیئرز کو فی الفور RPM کی سرخ لکیر تک نہیں پہنچا سکتے۔ میرا خیال ہے کہ یہ امر ان لوگوں کے لیے زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہو گا جو برق رفتاری کے شوقین ہیں کیوں کہ ایسے لوگ گاڑی کی ہر حرکت اپنی گرفت میں رکھنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں گیئر تبدیل کرنے کا عمل بھی اتنا ہی اہم ہے کہ جتنا گاڑی کا معیار سفر۔

  • ایئر کنڈشننگ کی کارکردگی

ایئر کنڈشننگ کو بہت شاندار تو نہیں کہا جا سکتا البتہ مناسب کہ سکتے ہیں۔ برق رفتاری کے دوران ایئر کنڈشننگ از خود کنٹرول کرنے کی بھی اہلیت رکھتا ہے اور فی الفور بند ہو جاتا ہے۔ اس میں سے کچھ آوازیں بھی آتی ہیں۔ لیکن یہ آوازیں گاڑی کے اندر آپ کو زیادہ تنگ نہیں کریں گی البتہ باہر کھڑے ہوں تو آپ کو ایئر کنڈشننگ کے چلنے اور ہلکے یا تیز ہونے کی آواز محسوس ہو گی۔

یہ بات 3 سلنڈر والی گاڑیوں کے لیے یہ بات نئی نہیں ہے۔ ان گاڑیوں میں انجن کی لرزش بھی محسوس ہوتی ہے خاص ایئر کنڈشننگ کے ساتھ اور کبھی اس کے بغیر بھی۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ اگر آپ نے سوزوکی ویگن آر چلائی ہو تو آپ کو اس کا تجربہ ہوا ہو گا لیکن سوزوکی سوِفٹ میں انجن کی آواز بہت کم ہے۔

2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-32

2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-31

اس کا 6-اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس بہت جاندار ہے اور 1000cc گاڑی میں بہترین کام کرتا ہے۔ اس میں آپ کو ‘ربڑ بینڈ آفیکٹ’ کا بھی احساس نہیں ہوتا جو کہ اسی سا‏ئز کی CVT گاڑیوں میں عام بات سمجھی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوزوکی نے اس گاڑی کو بیک وقت گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے بھی موزوں رکھا ہے اور ان لوگوں کے مزاج کے مطابق بھی ڈھالا ہے جو صبح گھر سے دفتر اور شام کو دفتر سے گھر تک کا سفر کرتے ہیں۔ چونکہ گاڑی کا زیادہ تر ٹارک 4000 آر پی ایم کے اندر ہی ہوتا ہے اس لیے آپ کو رفتار بڑھانے کے لیے انجن پر بہت زیادہ یا بار بار دباؤ ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ریس پیڈل پر ہلکا سا دباؤ اور آپ سفر پر رواں دواں۔

  • بریکنگ

 بہترین ڈیزائن والی جاپانی گاڑیوں کی طرح اس گاڑی میں بھی بریکس کمال کے ہیں۔ پیڈل بہت ہلکا محسوس ہوتا ہے مگر کارکردگی میں زبردست ہے۔ اسے دباتے ہوئے ڈرائیور خود سڑک محسوس کر سکتا ہے اور اسی مناسبت سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ بریک کو کتنا زیادہ دبانا ضروری ہے۔ بہت سی نئی گاڑیوں میں یہ خوبی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے گاڑی کا بھر پور لطف حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن سوزوکی سوِفٹ RS کا معاملہ مختلف ہے۔ نہ صرف بریک پیڈل کی وجہ سے گاڑی میں سفر کا لطف بڑھ جاتا ہے بلکہ بہترین اسٹیئرنگ ویل بھی گاڑی پر مکمل گرفت کا احساس دیتا ہے۔ اس میں برقی پاور اسٹیئرنگ دیا گیا ہے۔ اس طرز کے اسٹیئرنگ کے منفی اثرات دیگر گاڑیوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں البتہ سوزوکی سوِفٹ میں یہ موجود تو ہیں مگر قدرے کم۔ بہرحال، یہ اسپورٹس کار نہیں ہے اس لیے آپ یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ یہ پرانی پورشے 911 جیسے اسٹیئرنگ ویل کی حامل ہو گی تاہم اپنی استطاعت کے مطابق سوِفٹ کا اسٹیئرنگ ویل آپ کو مایوس بھی نہیں کرے گا۔

2017 سوزوکی سوِفٹ کی گرفت

گاڑی پر ڈرائیور کی گرفت سے متعلق اپنا احساس بیان کروں تو ایسا لگتا ہے کہ گاڑی ہمہ وقت سڑک سے چپکی ہوئی ہے۔ اسے چلاتے ہوئے کسی بھی قسم کی لچک یا گدگداتا احساس نہیں ہوتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ گاڑی بہت زیادہ بے آرام نہیں ہے۔ ٹوٹے پھوٹے راستوں اور ہموار شاہراہوں دونوں ہی پر اس کا سفر بہت آرامدہ ہیں۔ یہ گاڑی 55 پروفائل ٹائرز کے ساتھ آتی ہے۔ اس طرز کے ٹائرز بہت زیادہ ناہمواری کو برداشت نہیں کر سکتے جیسا کہ دیگر بڑی پروفائل والے ٹا‏ئر فراہم کر سکتے ہیں۔ گو کہ یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ اگر راستہ بہت زیادہ خراب ہو تو آپ کو سفر کے دوران بہت زیادہ ہچکو لے محسوس ہوں گے لیکن مجموعی طور پر سوزوکی سوِفٹ RS بہترین سفری تجربہ فراہم کرتی ہے۔

2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-19

  • ہینڈلنگ

سمت تیزی سے تبدیل کرنا گاڑی کی ہینڈلنگ پر بہت زیادہ اثر نہیں ڈالتا۔ گاڑی کا اگلا حصہ بدستور سڑک سے جڑا رہتا ہے۔ گو کہ میں کسی دیوانے کی طرح گاڑی نہیں چلا رہا تھا لیکن ایک دو مواقع پر میں نے اسٹیئرنگ ویل کا امتحان لے ہی لیا۔ اور تیزی سے گاڑی کی سمت تبدیل کرنے پر اندازہ ہوا کہ گاڑی نے بغیر کسی حیل و حجت اپا رخ تبدیل کرلیا۔ اس میں کسی قسم کا مسئلہ نہیں جس کے لیے اگلے پہیوں کی قوت سے چلنے والی گاڑیاں مشہور ہیں۔

  • ڈگی میں گنجائش

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اس گاڑی کی ڈگی بہت ہی چھوٹی ہے۔ اس میں صرف 264 لیٹر گنجائش ہے۔ ہاں اگر اس کا موازنہ پاکستانی سوِفٹ سے کیا جائے تو یہ بڑی معلوم ہوتی ہے کیوں ہماری سوِفٹ میں 211 لیٹر گنجائش والی ڈگی موجود ہے۔ اس میں صرف دو چھوٹے سا‏ئز والے بیگ ہی رکھے جا سکتے ہیں۔ ہاں اگر آپ اسے ماہانہ سودا سلف کے لیے استعمال کریں تو پھر یہ آپ کی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔ سوِفٹ کی ڈگی ہونڈا فٹ کی ڈگی سے بھی زیادہ چھوٹی ہے۔ پچھلے پہیوں کے فریم کی وجہ سے اس کا نچلا حصہ مزید کم ہو جاتا ہے۔ اس کی گنجائش میں اضافہ کرنا بہت ہی ضروری ہے تو آپ پچھلی نشستوں کو طے کر کے اپنی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ اگلی نشستوں کو بھی تھوڑا بہت خم دیا جا سکتا ہے لیکن پچھلی نشستوں میں یہ کام قدرے مشکل ہے۔ گو کہ سوزوکی کے مطابق یہ گاڑی پانچ افراد کے سفر کے لیے بنائی گئی ہے لیکن دیکھا جائے تو پچھلی نشستوں پر تین بڑے افراد کا بیک وقت براجمان ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ پچھلی نشستوں کے اوپر چھت نیچی ہے بلکہ بذات خود یہ نشست بھی چھوٹی ہی ہے۔ طویل سفر کے دوران تو پچھلی نشست پر بیٹھے مسافر شدید تھکاوٹ کا شکار ہو جائیں گے۔

2017-suzuki-swift-rs-turbo-pakwheels-37

سوزوکی سوِفٹ کا ٹرننگ ریڈیئس 4.8 میٹر ہے۔ پاکستان میں فروخت ہونے والی سوزوکی سوِفٹ اور نئی کلٹس دونوں ہی کا کم از کم ٹرننگ ریڈیئس 4.7 میٹر ہے۔

  • پچھلی نشستوں کی چھت

چونکہ گاڑی کی چھت آگے کی نسبت پیچھے سے نیچے کی طرف خم کھاتی ہے اس لیے آگے بیٹھنے والے مسافروں کو تو مناسب ہیڈ روم مل جاتا ہے لیکن پیچھے بیٹھنے والوں کو گردن جھکانا پڑتی ہے۔ اور اگر آپ 6 فٹ یا اس سے بھی زیادہ لمبا قد رکھتے ہیں تو آپ کو تقریباً رکوع کی حالت میں بیٹھنا پڑے گا۔

2017 سوزوکی سوِفٹ کے حفاظتی پہلو

جاپان سے درآمد کی جانے والی نئی گاڑیوں کی طرح سوزوکی سوِفٹ 2017 میں بھی متعدد حفاظتی سہولیات اور خصوصیات موجود ہیں۔ یورپ میں تیار ہونے والی سوزوکی سوِفٹ نے یورو NCAP ریٹنگز میں پانچ ستارے حاصل کیے تھے۔ اس کی قابل ذکر حفاظتی سہولیات میں سے چند یہ ہیں؛ ڈیول سنسر بریک سپورٹ، لین کی خلاف ورزی پر انتباہ، اور سوزوکی کا ٹریکشن کنٹرول۔ اپنے جائزے کے دوران میں نے ٹربو سوِفٹ میں شہر کے اندر سفر کیا اور بریکنگ سسٹم، لین کی خلاف ورزی پر انتباہ کے علاوہ کروز کنٹرول بھی استعمال کیا۔

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

  • حفاظتی سہولیات

سوزوکی سوِفٹ میں آپ کو چار سیٹ بیلٹس، دو آگے اور دو پیچھے، دستیاب ہیں۔ پچھلی نشستوں پر دی جانے والی سیٹ بیلٹس فورس لیمیٹر اور پری ٹینشنرز کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سوِفٹ 2017 میں چار ایئر بیگز، دو SRS سائیڈ کرٹین ایئر بیگز اور اگلی نشستوں پر دو ایئر بیگز، دبے گئے ہیں۔

  • ڈرائیور کی معاونت

سوزوکی سوِفٹ 2017 میں ایڈاپٹیو کروز کنٹرول اور ہینڈز فری سوئچز دونوں ہی چیزیں اسٹیئرنگ ویل پر دی گئی ہیں تاکہ ڈرائیور حضرات انہیں با آسانی استعمال کر سکیں۔ نئی سوِفٹ میں زیادہ سے زیادہ چار کیمرے بھی موجود ہیں جس سے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی باہر کے حالات پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یہ کیمرے گاڑی کے چاروں جانب، آگے پیچھے اور دائیں و بائیں موجود ہیں۔ گاڑی کو ریورس گئیر میں ڈالتے ہی چاروں کیمرے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ورچوئل برڈ آئی ویو کے ذریعے آپ تمام اطراف با آسانی دیکھ پاتے ہیں۔

حتمی رائے

پاکستان میں تیار شدہ سوزوکی سوِفٹ کا بہترین ماڈل آپ کو 15 لاکھ روپے میں مل جائے گا۔ اس کے بعد گاڑی کی رجسٹریشن اور دیگر اخراجات بھی شامل کر لیے جائیں تو مجموعی رقم 16 لاکھ روپے کے لگ بھگ بن جاتی ہے۔ جو گاڑی ہم نے چلائی اور جس پر تفصیلی تجزیہ آپ نے پڑھا اس کی قیمت ساڑھے 18 لاکھ روپے ہے۔ گو کہ اس پر بھی اضافی اخراجات آئیں گے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ سوزوکی سوِفٹ 2017 وہ بھی تمام جدید سہولیات اور خصوصیات سے آراستہ ہے۔ اس میں دی جانے والی سہولیات تو ٹویوٹا یا ہونڈا کی معروف برانڈز کے بہترین ماڈل میں بھی شامل نہیں ہیں۔ رہی بات معیار کی تو یہ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ درآمد شدہ گاڑیوں کا معیار ہماری مقامی تیار شدہ سوِفٹ سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

2017 Suzuki Swift RS Turbo PakWheels

البتہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ یہ گاڑی پاکستان میں استعمال شدہ مارکیٹ کے لیے بالکل نئی اور غیر معروف ہے۔ ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس کا کوئی پرزہ مثلاً ہیڈ لائٹس یا پھر سائڈ مرر ٹوٹ گیا اور اسے تبدیل کروانے کی ضرورت پیش آئی تو یہ کہاں سے مل پائے گا؟ سوزوکی کی جانب سے اس گاڑی کی بعد از استعمال فروخت بھی ممکن نہیں تو ایسے میں یہ سودا سوچ سمجھ کر ہی کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ اگر آپ اتنی مہنگی گاڑی لینا چاہیں تو آپ کو دیگر کئی اور بہتر آپشن بھی مل سکتے ہیں۔ سوزوکی سوِفٹ 2017 کی قیمت ساڑھے 18 لاکھ شاید کچھ لوگوں کے لیے بہت زیادہ ہو مگر گاڑیوں کے شوقین افراد اگر واقعی اپنے شوق پر رقم خرچ کر کے مایوس نہیں ہونا چاہتے تو انہیں سوزوکی سوِفٹ ٹربو 2017 سے بہتر آپشن شاید ہی مل سکے۔


Writing about cars and stuff.

Top