کراچی میں سالانہ 30 ہزار ٹریفک حادثات ہوتے ہیں: ڈی آئی جی ٹریفک

karachi traffic accident

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی جناب عامر شیخ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کراچی میں ہر سال 30 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں۔ انہوں نے نے سال 2016 کے ابتدائی چار ماہ میں ہونے والے حادثات کے اعداد و شمار میڈیا نمائندگان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہر 2 دنوں میں کم از کم پانچ انتہائی خطرناک نوعیت کے ٹریفک حادثات رپورٹ کیے جاتے ہیں۔

عامر شیخ نے مزید بتایا کہ 90 فیصد ٹریفک حادثات میں پولیس کی مداخلت سے قبل ہی دونوں فریقین کے درمیان مصالحت طے پاجاتی ہے جس کی وجہ سے مجرم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے بچ جاتا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع جناح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہونے والے 40 فیصد زخمی ٹریفک حادثات ہی کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ٹریفک پولیس نے TVES کا استعمال شروع کردیا

ڈی آئی جی ٹریفک نے حادثات کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر واقعات تیز رفتاری کے باعث پیش آتے ہیں۔ سپر ہائی وے، نیشنل ہائے، کورنگی انڈسٹریل ایریا، کورنگی روڈ، شاہراہ فیصل اور ماری پور روڈ جیسی بڑی شاہراہوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے تصادم کی بڑی وجہ بھی غیر معمولی رفتار ہی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ضروری اور خطرناک طریقے سے اوورٹیکنگ، کم عمر اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیور صاحبان کی وجہ سے بھی بہت سے حادثات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی میں تقریباً 60 فیصد ڈرائیور حضرات کے پاس جائز ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں۔ کراچی کی شہری ٹریفک پولیس نے تقریباً 3200 اہلکاروں کو مختلف شاہراہوں پر تعینات کر رکھا ہے جو 37 لاکھ گاڑیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھتے ہیں۔ شہر کے مجموعی ٹریفک میں گاڑیاں 32 فیصد، موٹر سائیکل 55 فیصد جبکہ رکشا کی تعداد صرف 5.5 فیصد ہے۔ کراچی میں روزانہ 900 سے زائد گاڑیاں رجسٹر کی جارہی ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہر ٹریفک پولیس افسر کو 1031 گاڑیوں پر نظر رکھنی پڑے گی۔

Top