بے ہنگم ٹریفک: کراچی میں سالانہ 400 ارب روپے کا ایندھن ضائع ہوتا ہے

massive-traffic-jam-karachi

پاکستان سسٹین ایبل ٹرانسپورٹ پاکستان (پاکسٹران) نے اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے ہمراہ 15 دسمبر کو ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ پروگرام میں اندرون شہر نقل و حمل کے قوانین اور ٹریفک کے انتظامی مسائل سے متعلق گفتگو کی گئی۔ ماہرین نے پاکستان، بالخصوص صوبہ سندھ، کے تمام بڑے شہروں میں ٹریفک کے انتظام اور اس سے متعلق قوانین کی اہمیت پربھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 90 فیصد ڈرائیوروں کے پاس گاڑی چلانے کا لائسنس نہیں!

این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے سندھ میں پاکسٹران کے منصوبے کے تحت ایک دستاویز مرتب کی گئی۔ یہ دستاویز پروگرام میں شریک افراد کے سامنے رکھی گئی جنہوں نے اس پر اپنی قیمتی آراء دیں۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے سربراہ میر شبیر علی نے بتایا کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ٹریفک کی شدید بدانتظامی کے باعث 400 ارب روپے کا ایندھن ضائع ہوجاتا ہے۔ اس سے مسئلہ کی اہمیت اور اس کے فوری سدباب کی ضرورت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی شہر میں قائم ٹریفک سگنلز کا انتظام بھی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ناکافی ہے اور اسے فی الفور جدت سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں صدر، محمد علی جناح روڈ، گلستان جوہر، گلشن اقبال و کئی دیگر علاقوں میں قائم غیر قانونی تعمیرات کے باعث ٹریفک روانی میں مشکلات سے متعلق بھی بات چیت کی گئی۔

پاکسٹران کے منیجر یار محمد نے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو تمام خلاف قانون سرگرمیوں سے پاک کیا جائے تاکہ نجی ادارے بھی اس شعبے میں سرمایہ کریں۔

پروگرام میں کراچی ٹریفک پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی ڈاکٹر عامر احمد شیخ سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر محکموں کے اعلی عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ این ای ڈی یونیورسٹی، سی این جی اونرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ملک خدا بخش، پاکسٹران کے ڈائریکٹر فضل کریم کھتری، منیجر یار محمد خان اور چیئرمین میر شبر علی اور پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی ورکشاپ میں موجود تھے۔

karachi-traffic-jam

karachi_traffic_jam

Top