ایک CNG اسٹیشن کے قیام پر 4 کروڑ امریکی ڈالر بہا دیئے

ht_sigar_gas_station

کیا آپ نے کبھی ایسے پیٹرول یا گیس اسٹیشن سے متعلق پڑھا ہے جس کے قیام پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے ہوں؟ اگر نہیں تو آئیے ہم آپ کو دنیا کے مہنگی ترین سی این جی اسٹیشن سے متعلق بتاتے ہیں جس پر امریکہ نے 4 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم لگائی ہے۔ یہ سی این جی اسٹیشن کسی امریکی ریاست نہیں بلکہ پسماندہ ترین ممالک کی فہرست میں شامل افغانستان میں قائم کیا ہے۔

افغانستان میں جاری تعمیرات کے حوالے سے خصوصی نمائندے جان سوپکو اتنی زیادہ رقم خرچ کیے جانے سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں۔ جان نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان میں سی این جی اسٹیشن زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ ڈالر میں بن جاتا ہے اس لیے افغانستان میں ایک سی این جی اسٹیشن بنانے پر 140 گنا زائد رقم خرچ کرنا حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ اس تمام معاملے کے پیچھے رقم کا ناجائز استعمال ہوسکتا ہے۔

سی این جی اسٹیشن کے قیام کی ذمہ داری امریکہ کی بنائی گئی ٹاس فورس برائے استحکام و ترقی کی تھی جس کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دفاعی شعبے پینٹاگون کی ایک شاخ سے ہے۔ اس معاملے پر جان سوپکو کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں پینٹاگون نے مبہم تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام قضیے کا سب سے حیرت انگیز پہلو امریکی محکمہ دفاع کا اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار ہے، میری سمجھ سے باہر ہے کہ وہ اس منصوبے سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع افغانستان کا زیادہ تر انحصار بیرون ملک سے آنے والے تیل پر ہوتا ہے اور سی این جی اسٹیشن کے قیام کا مقصد ملک میں موجود وسائل کو زیر استعمال لانا ہے۔ پینٹاگو کے خیال میں یہ افغانستان کو ‘آزادی’ سے مزید قریب کرنے کی کوشش ہے۔ دنیا کا مہنگا ترین سی این جی اسٹیشن افغانستان کے شمالی علاقے شبرغان میں بنایا گیا ہے۔ مذکورہ رقم 2011 سے 2014 کے عرصے میں خرچ کی گئی تھی۔

جان سوپکو کی رپورٹ میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان سی این جی استعمال کرنے والی گاڑیوں کی بڑی مارکیٹ نہیں ہے اور یہاں گیس کی ترسیل کا بھی مناسب انتظام موجود نہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک افغان شہری کی سالانہ آمدنی 690 امریکی ڈالر ہے جبکہ افغانستان میں ایک پیٹرول گاڑی کو سی این جی میں تبدیل کروانے کے لیے 700 امریکی ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں سی این جی کا مستقبل زیادہ روشن نہیں۔

سوپکو نے پینٹاگون کی قائم کردہ ٹاس فورس پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ تمام اعداد وشمار کی موجودگی کے باوجود انہیں خطیر رقم سے سی این جی اسٹیشن بنانے کا منصوبہ کیوں بنایا۔ اس معاملے پر ایوان بالا کے کئی افراد بھی شدید غصے کا اظہار کر چکے ہیں۔ سینیٹر کلیئر میک کیسکل نے امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر کو لکھے گئے خط میں شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ عراق اور افغانستان میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر میں حیرت زدہ ہوں لیکن یہ بات میرے لیے انتہائی قابل افسوس ہے کہ پینٹاگون نے انتہائی فضول منصوبوں پر بھی بڑی رقم خرچ کی ہے۔ یاد رہے کہ پینٹاگون کی جانب سے خرچ ہونے والی رقم امریکی شہریوں کے دیئے گئے ٹیکس سے حاصل کی جاتی ہے۔

Top