2017ء: استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں زبردست اضافہ

used car

استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں 65,723 گاڑیاں اور منی وینز درآمد کیں گئیں۔ سال 2016ء اور 2017ء کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو یہ تعداد درآمدات میں 70 فیصد اضافہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ SUVs اور پک اپس کی درآمدات میں بھی بالترتیب 59 فیصد اور 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ باعث حیرت ہے۔

ایک اعتبار سے اس بڑھتی ہوئی درآمدات کے ذمہ دار گاڑیاں بنانے والے مقامی ادارے ہیں۔ یہ کار ساز ادارے مقامی صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین کو جاپان اور دیگر ممالک سے گاڑیاں منگوانا پڑتی ہیں۔ گاڑیوں کے شعبے سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار دیکھ کر بھی اس امر کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
2017ء کی مقبول ترین ترین درآمدی گاڑی کی بات کریں تو ٹویوٹا وٹز پاکستانی صارفین کی سب سے پسندیدہ گاڑی رہی۔ اسے سب سے زیادہ 8,680  کی تعداد میں جاپان سے منگوایا گیا۔ اس فہرست میں شامل دیگر نمایاں گاڑیوں کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

گاڑیاں تعداد
ڈائی ہاٹسو میرا 6091
ٹویوٹا ایکوا 7123
سوزوکی ایوری 5088
ڈائی ہاٹسو ہائی جیٹ 3367
سوزوکی آلٹو 4158
سوزوکی ویگن آر 3574
ہونڈا وزل 2431
ٹویوٹا لینڈ کروزر 3301

انگریزی روزنامے ڈان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق  2017ء میں 76,635 استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ تعداد ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ درآمدات میں اضافہ کی وجہ سے متعلقہ شعبے کو گزشتہ سال 23 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت پاکستان کی جانب سے SRO 1067(1)/2017 جاری کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد درآمدی قوانین کو بہتر بنانا اور گاڑیوں کی غیر اصولی درآمداد کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ علاوہ ازیں متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کے تجارتی خسارے کو روکنے کے لیے SRO جاری کیا ہے۔اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ گاڑیوں کی درآمد کو کم کرنے کی کوشش میں حکومت کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ درآمد کے جنرل منشور (آئی جی ایم) میں ہر نئی یا پرانی درآمد شدہ گاڑی کی معلومات شامل کی جاتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ ملک میں درآمد ہونے والی ہر گاڑی کا خودبخود آئی جی ایم میں اندراج ہو جاتا ہے۔
آخر میں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہونڈا پاکستان نے 2017ء کے 9 ماہ (اپریل تا دسمبر) میں اپنے منافع سے متعلق تفصیلات شایع کر دی ہیں جن کے مطابق ادارے نے مذکورہ مدّت میں  5.12 ارب روپے منافع حاصل کیا ہے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top