رمضان المبارک کے دوران ٹریفک حادثات میں اضافے کا رجحان

featured-ramadan-road-accident

ترقی یافتہ ممالک میں ٹریفک حادثات پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے اور اس میں اضافے کو بہت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں یہ معاملہ عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔ پاکستان کی سڑکوں پر رواں دواں سواریوں میں بڑا حصہ موٹر سائیکلوں کا ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے 57 فیصد حادثات انہی موٹر سائیکل سواروں کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ایسٹرن میڈیٹرینین ہیلتھ جرنل (EMHJ) نے ایک تحقیق کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں رمضان المبارک کے مہینے میں سب سے زیادہ ٹریفک حادثات ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سالانہ 30 ہزار ٹریفک حادثات ہوتے ہیں: ڈی آئی جی ٹریفک

EMHJ کے مطابق 50 فیصد بڑے حادثات اور ان میں ہونے والی دو تہائی اموات موٹرسائیکل سواروں کے درمیان ہونے والے تصادم کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ایک اور تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ہر 1000 افراد میں سے 15-17 افراد سڑک پر ہونے والے حادثوں کے باعث زخمی ہوتے ہیں۔ اس سے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ اسپتال کے عملے کے کام میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے اور یوں پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر اضافی اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق انہیں موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات ٹریفک حادثات سے متعلق ہوتی ہیں۔ گزشتہ سات سالوں کے دوران ریسکیو 1122 نے تقریباً 60 لاکھ ٹریفک حادثات میں مدد فراہم کی ہے۔

مذکورہ تحقیق کے نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ رمضان المبارک میں حادثات کی شرح 10 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نتیجہ سال 2011 سے اب تک حاصل کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ رمضان المبارک میں سب سے زیادہ حادثات دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان پیش آئے جس کی بنیادی وجہ ڈرائیور صاحبان کی جلد بازی اور غیر معمولی رفتار سے گاڑی دوڑانا رہی ہے۔ کراچی میں قائم جناح میڈیکل سینٹر نے بھی ایک تحقیق انجام کی جس سے پتہ چلا کہ سال 2009 کی نسبت 2010 میں رمضان کے دوران زیادہ ٹریفک حادثات رونما ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: دورانِ سفر “تین سیکنڈ کا قاعدہ” بڑے حادثات سے محفوظ رکھ سکتا ہے

رمضان المبارک کے دوران سڑکوں پر موسمی ٹھیلوں کی آمد اور غیر قانون تجاوزات بھی بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔ یہ موسمی ٹھیلے نہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے بنائی گئی فٹ پاتھ پر قابض ہوجاتے ہیں بلکہ سڑک کا اکثر حصہ بھی گھیر لیتے ہیں۔ یوں پیدل چلنے والوں کو دشواریوں کا سامنا تو کرنا پڑتا ہی ہے ساتھ ہی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی آمد و رفت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

ٹریفک حادثات معاشی اور معاشرتی دونوں ہی اعتبار سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے رمضان المبارک کے دوران ہر گلی، سڑک اور شاہراہ پر کڑی نگاہ رکھیں اور ان وجوہات کا خاتمہ یقینی بنائیں جن سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ حکومتی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خراب سڑکوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے تاکہ ان کے باعث ہونے والی ٹریفک کی بدنظمی اور حادثات پر قابو پایا جاسکے۔

Adan Ali

Adan is a Tribe Leader at Drive Tribe, who writes to share his passion for cars, culture and gadgetry through words. So far his writings and contributions have been able to make their way to media outlets like PakWheels and Dawn. Reach out to him by tweeting @adanali12

Top