ایک مریض کی زندگی بچانے کے لیے F-16 جنگی جہاز کا استعمال

f16 jet - norway

دنیا کے تیز ترین جہازوں میں سے ایک F-16 کا نام سنتے ہی ذہن میں جنگ، دھماکے، بمباری اور بہت سی منفی چیزوں کا خیال آنے لگتا ہے۔ لیکن ایسا بھی بارہا دیکھا گیا ہے کہ اپنی طرز کی جدید تخلیق کو تباہی و بربادی کے بجائے انسان کی فلاح و بہبود کے لئےاستعمال کیا گیا ہو۔ اس کی تازہ مثال ناروے میں نظر آئی کہ جہاں صرف ایک مریض کی جان بچانے کے لیے برق رفتار F-16 جنگی جہاز کو استعمال کیا گیا ہو۔

ناروے کے شہر بوڈو (Bodø) میں ایک ایسے شخص کو لایا گیا جو دل اور پھیپڑوں کے عارضے میں مبتلا تھا۔ اس مریض کا علاج کرنے کے لیے درکار ECMO مشین بوڈو کے اسپتال میں موجود نہ تھی۔ مختلف اسپتالوں سے رابطہ کرنے پر علم ہوا کہ یہ مشین بوڈو کے جنوب میں واقع ایک شہر ٹرونڈیم کے اسپتال میں موجود ہے۔ بوڈو اور ٹرونڈیم کے درمیان 280 میل کا فاصلہ تھا۔ اگر بذریعہ سڑک مریض کو وہاں لے جایا جاتا تو اس میں تقریباً 8 سے 10 گھنٹے لگتے اور ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اتنے طویل سفر کے دوران مریض جان کی بازی ہار جائے گا۔

norway-map

تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسپتال کے ڈاکٹروں نے باہمی مشاورت سے ECMO مشین ٹرونڈیم سے بوڈو منگوانے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن ٹرونڈیم کے قریب واقع فضائی افواج کے ہوائی اڈے سے رابطہ کیا گیا اور انہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کرنے کے بعد مدد کی گزارش کی گئی۔ خوش قسمتی سے اس وقت دو F-16 جہاز اڑان بھرنے کے لیے تیار تھے۔ ان میں سے ایک طیارے پر فی الفور مشین پہنچائی گئی اور پھر اسے 25 منٹ میں بوڈو کے اسپتال پہنچا دیا گیا۔ عام طور پر تیز ترین جہاز بھی یہ فاصلہ 35 منٹ میں طے کرتے ہیں۔ یوں ڈاکٹر کی فون کال پر فضائیہ کے مثبت رویے کی وجہ سے ECMO مشین صرف 40 منٹ میں بوڈو پہنچ گئی۔

اس واقعے سے متعلق بات کرتے ہوئے ليفٹيننٹ کرنل کلپے نے بتایا کہ اگر ڈاکٹر صاحبان کا فون چند منٹ تاخیر سے آتا تو شاید ان کے لیے ECMO مشین بوڈو شہر پہنچانا ممکن نہ ہوتا کیوں کہ اڈے پر موجود آخری دو F-16 جہاز بھی روانہ ہوچکے ہوتے۔ بوڈو اسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور مریض کے رشتہ داروں سمیت ناروے کے تمام شہریوں نے ملکی فضائیے کے اس کارنامے کو زبردست انداز سے خراج تحسین پیش کیا۔

Top