پاکستان میں ایئر بیگز اور سیفٹی فیچرز کے ساتھ دو نمبریاں – وہ سب کچھ جو آپ کو معلوم ہونا چاہیے


سیفٹی فیچرز دنیا بھر میں گاڑیوں کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ حکومتیں اس امر کو یقینی بناتی ہیں کہ آٹومیکرز اپنی گاڑیوں میں یہ سیفٹی فیچرز شامل کریں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو ایئر بیگز جیسے سیفٹی فیچرز شامل کرنے پر مجبور کرنے والا کوئی قانون موجود نہیں۔ اگر کچھ ادارے اپنی گاڑیوں میں ایئر بیگز جیسے فیچرز شامل کرتے بھی ہیں تو اپنی مرضی سے، ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرے۔ یہ صورت حال خطرناک ہے کیونکہ اس سے عوام کے گاڑیاں چلانے کے تجربے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حادثے کی صورت میں ایئر بیگز اور دوسرے سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 

NCAP اسٹینڈرڈ 

کسی بھی گاڑی میں موجود سیفٹی فیچرز کتنے کارگر ہیں، اس کا جائزہ لینے کے لیے دنیا بھر میں یورو NCAP اسٹینڈرڈز کی پیروی کی جا رہی ہے یعنی New Car Assessment Program۔ یہ ریٹنگ ظاہر کرتی ہے کہ حادثے کی صورت میں آپ کسی گاڑی میں کتنا محفوظ رہ سکتے ہیں۔ NCAP اپنی ریٹنگ کی بنیاد چند فیچرز پر رکھتا ہے، جیسا کہ ایئر بیگز اور چائلڈ سیٹ لگانے کے لیے ISOFIX پوائنٹس۔ پاکستان میں حکومت کی جانب سے آٹومیکرز پر ایسے کسی معیار کی پابندی لازم نہیں۔ 

اگر ہم تین بڑے آٹو میکرز یعنی سوزوکی ہونڈا اور ٹویوٹا کا تقابل کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹویوٹا پاکستان میں نسبتاً محفوظ گاڑیاں پیش کر رہا ہے کیونکہ ٹویوٹا اپنی گاڑیوں میں جدید سیفٹی فیچرز شامل کرتا ہے۔ اس کی کرولا کے تمام ویرینٹس XLi سے لے کر آلٹس گرینڈ تک، سب ڈوئل ایئر بیگز کے ساتھ آتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ہونڈا سٹی، سوزوکی ویگن آر اور سوزوکی سوئفٹ میں ایئر بیگز سرے سے ہی نہیں ہوتے۔ 

ELR، AR اور ISOFIX 

ایمرجنسی لاکنگ ریٹریکٹر (ELR) گاڑی کی سیٹ بیلٹ کا ایک سیفٹی فیچر ہے۔ ELR ٹکر ہونے یا گاڑی اچانک رک جانے کی صورت میں سیٹ بیلٹ کو لاک کر دیتا ہے تاکہ آپ اسٹیئرنگ ویل یا ڈیش بورڈ سے نہ ٹکرائیں۔ لیکن عام حالات میں یہ مسافر کو باآسانی حرکت کرنے دیتا ہے۔ ISOFIX فیچر بچے کی سیٹ کو لاک کرنے کے لیے ہے اور ALR کے مقابلے میں نسبتاً جدید فیچر ہے۔ 

ایئر بیگ فراڈ 

اب ہم آپ کو بتائیں گے کہ ایئر بیگز کے معاملے میں فراڈ یا دو نمبری کیسے کی جاتی ہے۔ ایئر بیگز لگانے کی بنیادی وجہ ٹکر کی صورت میں آپ کو چوٹ لگنے سے بچانا ہے۔ آپ کی گاڑی کا انسٹرومنٹ کلسٹر بتاتا ہے کہ ایئر بیگز سسٹم یا SRS (سپلیمنٹری ریسٹرینٹ سسٹم) میں کوئی گڑبڑ تو نہیں۔ آن بورڈ ڈائیگنوسٹک (OBD) سسٹم انسٹرومنٹ کلسٹر کے ذریعے آپ کو گاڑی کے مختلف مسائل کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہاں یہ دو نمبری کی جا رہی ہے کہ ایئر بیگ وارننگ لائٹ ہی انسٹرومنٹ کلسٹر سے نکال دی جاتی ہے۔ یوں گاڑی اسٹارٹ ہونے پر بھی یہ لائٹ کام نہیں کرتی اور آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اصل میں ایئر بیگز خراب ہو چکے ہیں۔ 

پیڈ کوَر ایئربیگ کو سنبھالتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں سے ایئر بیگ نکلتا ہے۔ یہاں دو نمبری یہ کی جاتی ہے کہ اس پیڈ کوَر کو تو تبدیل کردیا جاتا ہے لیکن ایئر بیگ نہیں بدلا جاتا۔ یوں خریدار سمجھتا ہے کہ گاڑی میں ایئر بیگ موجود ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ حرکت پاکستان میں امپورٹڈ گاڑیوں میں عام طور پر کی جاتی ہے۔ کار کے سسٹم کو دھوکا دینے کے لیے ایک چھوٹا ریزسٹر بھی استعمال کیا جاتا ہے جو ایئر بیگ وارننگ کو ظاہر نہیں کرتا۔ لیکن آپ جب بھی گاڑی خرید رہے ہوں، خاص طور پر امپورٹڈ، تو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایئر بیگ کام کر رہا ہے، اپنی گاڑی کا چیک اَپ ضرور کروائیں تاکہ آپ کی زندگی خطرے کی زد میں نہ آئے۔ 

گاڑیوں میں سیفٹی فیچرز اور ایئر بیگ کے فراڈ کے بارے میں اپنی رائے ہمیں نیچے تبصروں میں دیں۔ گاڑیوں کے بارے میں مزید معلوماتی تحاریر کے لیے یہاں آتے رہیں تاکہ آپ گاڑی خریدتے ہوئے ممکنہ دو نمبریوں سے بچ سکیں۔ 


Google App Store App Store

Top