گاڑیوں کی رعایتی اسکیم کے حوالے سے جاری افواہیں


پاک ویلز ڈاٹ کام اپنے قارئین کے لیے ہمیشہ مستند خبریں لانے سے وابستہ رہا ہے۔ اور اس بار بھی ہم یہ تحریر اسی لیے لکھ رہے ہیں تاکہ آپ کو مقامی آٹوموبائل انڈسٹری میں جاری ایک جعل سازی کے بارے میں بتائیں۔

گزشتہ ہفتے حکومت پاکستان نے ٹیکس معافی اسکیم کا اعلان کیا تھا جسے بعد ازاں صدر پاکستان ممنون حسین کے دستخط کے ذریعے منظوری بھی ملی۔ منظوری کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے آٹوموٹو شعبے میں بے چینی پھیل گئی ہے اور عوام سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور پاک ویلز ڈاٹ کام کے پلیٹ فارمز پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا گاڑیاں اس معافی اسکیم میں شامل ہیں یا نہیں؟

نان-کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کام کرنے والوں نے یہ غلط خبریں پھیلانا شروع کردی ہیں کہ ٹیکس معافی اسکیم ان گاڑیوں کے لیے بھی ہے اور اب بھی لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ یہ گاڑیاں خریدیں اور ٹیکس معافی اسکیم کے تحت ان کی گاڑی قانونی ہو جائے گی۔ البتہ، یہ سب جعل سازی ہے اور گاڑیوں کے لیے کوئی ٹیکس معافی اسکیم نہیں ہے، اور نہ ہی مستقبل قریب میں ہوگی۔

آخری مرتبہ جب حکومت نے نان-کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے معافی اسکیم کے تحت کلیئر قرار دینے کے لیے اجازت 2013ء میں دی تھی لیکن اب تک کئی گاڑیوں کی حیثیت واضح نہیں ہے۔ ایکسائز ڈپارٹمنٹ چند صوبوں میں گاڑیوں کو رجسٹر نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی گاڑیوں کی منتقلی کی اجازت دے رہا ہے۔

اس لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسی تمام افواہوں اور جعل سازیوں سے دور رہیں۔ اگر کوئی آپ کو کہے کہ اس کے پاس یہ خبر ہے کہ گاڑیاں اس اسکیم کے تحت قانونی حیثیت اختیار کر جائیں گی تو ہرگز یقین مت کیجیے اور اپنی محنت مشقت کی کمائی کو بچائیے۔ مزید یہ کہ نان-کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خریداری میں بالکل ہاتھ نہ ڈالیں، یہ ایک غیر قانونی سرگرمی ہے۔ ایک ذمہ دار پاکستانی ہیں اور صرف کسٹم پیڈ گاڑیاں لیں اور اپنا پیسہ اور
وقت بچائیں۔ جعل سازوں سے ہوشیار رہیں!


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top