ایپل نے برقی گاڑی بنانے کی کوششیں تیز کردیں

apple-car-image-01-640x360

آئی فون، آئی پیڈ اور میک کمپیوٹرز بنانے والے ادارے ایپل انکارپوریشن نے برقی گاڑی بنانے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق ایپل نے بڑے پیمانے پر برقی گاڑیوں کے شعبے میں کام کرنے والے تکنیکی افراد کو بھرتی کیا ہے۔ ان افراد میں گاڑیاں بنانے والے معروف ادارے مرسڈیز بینز اور فیاٹ کے اعلی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں گاڑیوں کے لیے بیٹری بنانے والے معروف ادارے A123 سسٹمز سے بھی بہت سے انجینئرز کو بلایا گیا ہے۔ A123 سسٹمز بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی 7 سیریز ہائبرڈ جیسی گاڑیوں کو بیٹریاں فراہم کرتا رہا ہے۔ ایپل کی جانب سے انتہائی مختصر وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر بھرتیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ A123 سسٹمز نے اس پر کمپنی کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوششوں کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالتی کاروائی کی بھی کوشش کی ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق ایپل اپنی پہلی برقی گاڑی 2019ء میں “ٹائٹن” کے کوڈنیم سے پیش کرے گا۔ اس کا مطلب ہوا کہ ہم آئی فون 8 ایس کے ساتھ ہمیں ایپل کی طرف سے اس گاڑی کی بھی امید رکھنی چاہیے۔

ایک خبر کے مطابق اس وقت 600 افراد ایپل کی برقی گاڑی تیار کرنے میں مصروف عمل ہیں اور اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایپل کی انتظامیہ اس تعداد کو تین گنا بڑھانے میں دلچسپی لے رہی ہے۔ امریکی ادارہ بیٹری، سافٹویئر اور ہارڈویئر میں اپنی طویل تجربے اور مہارت کو گاڑیوں کے شعبے میں استعمال کرنے کے لیے بہت سنجیدہ نظر آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل کی طرف سے برقی گاڑی چلد پیش کیے جانے کا امکان بہت کم ہے کیوں کہ ابھی انہیں بہت سے مراحل طے کرنا ہیں جن میں سہولیات، قوانین، تیاری کے مسائل جیسے اہم اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا باقی ہے۔ اور گاڑیوں کے شعبے میں نوآموز ادارے کے لیے انہیں آسانی سے طے کرنا آسان نہیں ہوگا۔

گو کہ ایپل کی طرف سے اس برقی گاڑی کی کوئی تصویر اب تک سامنے نہیں آئی البتہ مختلف خاکے انٹرنیٹ پر گردش کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اب تک یہ بھی واضح نہیں کہ یہ اسپورٹس کار ہوگی، سیڈان ہوگی یاSUV طرز کی بنائی جائے گی۔ لہٰذا اس بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل ازوقت ہوگا۔

ایپل کا خیال ہے کہ وہ اپنی برقی گاڑیوں سے ٹیسلا جیسے بڑے اداروں کا مقابلہ کرسکے گا۔ اب یہ ایپل کی خوش فہمی ہے یا کچھ اور۔۔۔اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔

Top