آوڈی پاکستان میں کارخانہ لگانا چاہتا ہے؛ سرمایہ کاری بورڈ کو خط ارسال

audi-pakistan

پاک –چین اقتصادی راہداری، بہتر ہوتی اقتصادی صورتحال اور حکومت پاکستان کی ترقی پسند سوچ جیسے عوامل نے مل کر پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال جرمن کار ساز ادارے آوڈی کی جانب سے پاکستان میں گارخانہ لگانے میں دلچسپی کا اظہار ہے۔ اس ضمن میں آوڈی نے اپنے پاکستانی شراکت دار پریمیئر سسٹمز پرائیوٹ لمیٹڈ کے توسط سے سرمایہ کاری بورڈ (BoI) کو ایک خط بھی ارسال کردیا ہے جس میں کراچی میں کارخانہ لگانے کے لیے زمین کی خریداری سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

پریمیئر سسٹمز پرائیوٹ لمیٹڈ کے سربراہ سعید علی خان نے اس بارے میں بتایا کہ آوڈی اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کا کارخانہ لگانا چاہتا ہے جس کے لیے جگہ بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کارخانے کے لیے 3 کروڑ ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری سے حاصل کردہ یہ جگہ پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی علاقے کورنگی (کراچی) میں موجود ہے۔

یاد رہے کہ جرمن کار ساز ادارے آوڈی اور سندھ سرمایہ کاری بورڈ کے درمیان رواں سال اپریل کے مہینے میں ایک یاد داشت پر دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت جرمن ادارہ پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کے امکانات پر مختلف حوالوں سے غور کرنا تھا۔ اس سے قبل آوڈی کے اعلی عہدیداران کی جانب سے پاکستان کی نئی آٹو پالیسی برائے سال 2016-2021 پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی تھی۔ اور اب ازاں آوڈی نے پاکستانی شراکت دار ادارے کے توسط سے سرمایہ کاری بورڈ کو پاکستان میں کارخانہ لگانے سے متعلق اپنی دلچسپی بذریعہ خط ظاہر کی۔

مزید پڑھیں: آوڈی پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری پر غور کرے گا

سعید علی خان نے مزید کہا کہ آوڈی کی پاکستان میں کارخانہ لگانے اور قیمتوں کے تعین کا بہت زیادہ انحصار حکومت کی فراہم کردہ مراعات پر ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں دستیاب آوڈی گاڑیوں کی قیمت میں 5 سے 10 فیصد تک کمی آنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑی گاڑیوں مثلاً 1800cc سے زائد انجن والی سواریوں کی قیمت میں فرق بھی تقریباً 20 فیصد تک ہوسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 900 سے زائد آوڈی گاڑیاں فروخت کی جارہی ہیں جو مکمل تیار شدہ حالت میں پاکستان درآمد کی جاتی ہیں۔

امید کی جارہی ہے کہ آوڈی پاکستان میں کارخانے قائم کر کے اپنے صارفین کو اضافی وارنٹی، بعد از فروخت خدمات جیسی سہولیات فراہم کرسکے گا جس سے مزید خریداروں کو متوجہ کرنے میں کامیابی مل سکے گی۔ یاد رہے کہ آوڈی پاکستان سمیت 57 ممالک میں اپنی گاڑیاں شریک اداروں کے ذریعے ہی فروخت کرتا ہے۔ آوڈی کا شمار پرتعیش گاڑیاں پیش کرنے والے اداروں میں کیا جاتا ہے اس لیے پاکستان میں اس کا مقابلہ بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینز کی پیش کردہ گاڑیوں سے ہوگا۔

Top