آوڈی پاکستان کی اہم پیش رفت؛ بینک اسلامی کے ساتھ معاہدہ

audi pakistan bankislami featured

پاکستان میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کو دیکھتے ہوئے ماضی قریب میں بہت سے ادارے یہاں کام کرنے کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کرچکے ہیں۔ تاہم نئی آٹو پالیسی منظور ہوجانے کے باوجود اب تک صرف جرمن کار ساز ادارے آوڈی (Audi) ہی طرف سے قابل ذکر پیش رفت نظر آرہی ہے۔ گزشتہ روز بینک اسلامی اور آوڈی کے پاکستانی شراکت دار پریمیئر سسٹمز کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ پریمیئر سسٹمز جرمن کار ساز ادارے آوڈی کی گاڑیاں پاکستان درآمد اور فروخت کرنے والا واحد مجاز ادارہ ہے اسی لیے انہیں آوڈی پاکستان کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ آوڈی کی جانب سے سندھ سرمایہ کاری بورڈ (BoI) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

پریمیئر سسٹمز پرائیوٹ لمیٹڈ کے چیف فائنانشل آفیسر محمد یاسین خان اور بینک اسلامی شعبہ آٹو اجارہ کے سربراہ یاسر عباس نے اس یاد داشت پر دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت بینک اسلامی کی خصوصی اسکیم ‘اسلامی آٹو اجارہ’ کے ذریعے ملک بھر میں آوڈی پاکستان کے صارفین کے لیے قسطوں پر گاڑیوں کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔

Audi-Pakistan-BankIslami-Premier-Systems

اس موقع پر یاسر عباس نے کہا کہ بینک اسلامی اور آوڈی پاکستان کے درمیان شراکت داری سے دونوں ہی اداروں کے لیے نئے کاروباری مواقع سامنے آئیں گے۔ بینک اسلامی کو پاکستان کا 11واں بڑا بینک شمار کیا جاتا ہے جس کی ملک کے 93 چھوٹے بڑے شہروں میں 317 سے زائد شاخیں موجود ہیں۔ بینک اسلامی نے پچھلے مہینے اپنے دسویں سالگرہ منائی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ویلز کار فائنانس سے من پسند گاڑی لینا اب بہت ہی آسان!

آٹو پالیسی برائے 2016-2021 میں نئے کارخانے قائم کرنے میں دلچسپی رکھنے والے کار ساز اداروں کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں۔ ان میں مارکیٹ کے رجحانات پرکھنے کےلیے 100 تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد پر خصوصی رعایت بھی شامل ہے۔ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی مختلف خبروں کے مطابق آوڈی پاکستان پنج سالہ آٹو پالیسی میں حاصل مرعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو مراحل میں یہاں قدم رکھے گا۔ پہلے مرحلے میں تیار شدہ گاڑیوں (CBU) کو پاکستان درآمد کر کے مارکیٹ میں پیش کرے گا۔ اس طرح آوڈی پاکستان کو اپنی ساکھ، مارکیٹ کی طلب اور صارفین کی پسند پرکھنے کا موقع مل سکے گا۔ پہلے مرحلے کے نتائج دیکھنے کے بعد ہی دوسرے مرحلے میں پاکستان ہی میں گاڑیوں کی تیاری کے لیے کارخانے قائم کیے جائیں گے۔

گوکہ آوڈی کی گاڑیاں پُرتعیش اور مہنگی ہونے کی وجہ سے ایک مخصوص طبقے ہی کے لیے قابل خرید سمجھی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں آوڈی پاکستان کی اس پیش رفت سے مزید غیر ملکی کار ساز اداروں بالخصوص جرمن کار ساز اداروں جیسے ووکس ویگن (Volkswagen) کے لیے بھی راہیں ہموار ہوں گی۔ یہ بلاشبہ نئی آٹو پالیسی کے بعد آوڈی کی پیش رفت گاڑیوں کے شعبے پر بارش کا پہلا قطرہ ہے جس سے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بہت جلد دیگر کار ساز ادارے بھی عملی پیش رفت کے ذریعے اپنی دلچسپی کا ثبوت دیں گے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top