کہانی آؤڈی کے لوگو کی


دنیا کے ہر برانڈ کا ایک لوگو ہوتا ہے جو اس کے مقاصد کو بیان کرتا ہے اور مارکیٹ میں اسے انفرادی شناخت دیتا ہے۔ آٹوموٹو انڈسٹری میں بھی ہر برانڈ اپنا لوگو رکھتا ہے اور یوں اسے ایک امتیازی شناخت ملتی ہے۔ اسی طرح آؤڈی (Audi) کے لوگو کی بھی ایک داستان ہے اور اس کی کہانی کافی دلچسپ ہے کہ آخر یہ بنا کیسے۔ آئیے جانتے ہیں کہ آؤڈی کا چار دائروں والا لوگو کیسے تخلیق ہوا؟ 

جرمن آٹوموبائل کمپنی آؤڈی اپنی لگژری اور مہنگی گاڑیوں کی وجہ سے مشہور ہے جو جدید ٹیکنالوجی فیچرز اور زبردست انٹیریئر اور ایکسٹیریئر ڈیزائن رکھتی ہیں۔ اپنی گاڑیوں کی طرح آؤڈی کا لوگو بھی خاص ہے کیونکہ یہ صرف چار دائرے نہیں بلکہ ایک پوری کہانی ہے۔ 

ان 4 دائروں کے معنی جاننے کے لیے ہمیں آؤڈی کی تاریخ کو کھنگالنا پڑے گا۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں چار آٹو مینوفیکچررز نے جرمنی میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ یہ ادارے آؤڈی، Dampf Kraft Wagen یعنی DKW، ہارخ (کہ جس سے آؤڈی نے جنم لیا) اور وینڈررز تھے۔ یہ تمام کمپنیاں انفرادی حیثیت میں کام کر رہی تھیں یہاں تک کہ 1930ء کا عظیم معاشی بحران آ گیا، جو شروع تو امریکا میں ہوا لیکن اس نے متاثر پوری دنیا کو کیا۔ عالمی معاشی صورت حال خراب ہونے کی وجہ سے چاروں کمپنیوں کو وسائل کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے چاروں کمپنیوں نے اپنی بقا کے لیے ایک اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ چاروں کمپنیاں مل گئیں اور یوں چار دائروں والا یہ لوگو سامنے آیا کہ جس میں ہر دائرہ ایک برانڈ کا نمائندہ ہے اور ان کے اتحاد کو بیان کرتا ہے۔ 

آؤڈی کے بانی اگست ہارخ تھے اور کیونکہ ان کے نام ٹریڈ مارک تھا کیونکہ ان کی دوسری کمپنی انہی کے نام پر تھی، اس لیے وہ اِس آٹوموبائل برانڈ کے لیے اپنا نام استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ہارخ کا ہم معنی لفظ استعمال کیا اور کمپنی کو آؤڈی کا نام دیا۔ جرمن زبان میں ہارخ کا مطلب ہوتا ہے سننا اور آؤڈی کا مطلب بھی یہی ہے، بس یہ لفظ لاطینی زبان کا ہے۔ یوں اگست ہارخ نے آؤڈی کو اپنا نام دیا اور دوسرے کار میکرز کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ یہ چاروں برانڈز مختلف گاڑیاں بنانے میں مہارت رکھتے تھے۔ DKW موٹر سائیکلیں اور چھوٹی کاریں بناتا تھا جبکہ وینڈررز درمیانے سائز کی کاریں بنانے میں ماہر تھا۔ آؤڈی نے اپنے سفر کا آغاز درمیانے سائز کی ڈیلکس کاریں بنانے سے کیا جبکہ ہارخ ذرا عمدہ قسم کی لگژری گاڑیاں بناتا تھا۔ انہوں نے اتحاد کی تشکیل میں ہر برانڈ کی خصوصی مہارت کو استعمال کیا۔ 

جب آؤڈی تنہا تھا تو اس کے لوگو میں ایک دائرے کے اوپر “1” کا عدد لکھا ہوا تھا جبکہ اس دائرے کا نچلا آدھا حصہ ایک الٹے تکون کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ کمپنی کا نام یعنی “آؤڈی” اس تکون پر لکھا ہوا تھا۔ یہ لوگو ظاہر کرتا تھا کہ آؤڈی نمبر 1 ہے اور اس صنعت میں سب سے آگے رہنا چاہتی ہے۔ 1930ء کی دہائی کے معاشی بحران نے حالات کو خراب کرکے ان چاروں برانڈز کو یکجا کر دیا۔ گو کہ حالات بعد میں بہتر ہو گئے لیکن عوام کی قوتِ خرید بدستور کمزور تھی۔ 

پھر دوسری جنگِ عظیم نے اس نئے اتحاد کو بھی نقصان پہنچایا اور آؤڈی کو چھوڑ کر باقی سارے برانڈز بری طرح متاثر ہوئے۔ 1958ء میں ڈیملر بینز نے اس اتحاد کو خرید لیا اور پھر 1966ء میں اسے فوکس ویگن کو فروخت کر دیا اور یہیں سے “آؤڈی” کا سفر شروع ہوا۔ NSU نامی ایک اور آٹومیکر نے آؤڈی میں شمولیت اختیار کی اور 1969ء میں یہ آؤڈی NSU بن گیا۔ برانڈ نے اپنا نام آؤڈی NSU آٹو یونین AG جو 1985ء میں آؤڈی AG بنا۔ 

فوکس ویگن کے ساتھ آؤڈی نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی اور خوب پھلا پھولا۔ اقتصادی بحران کا خاتمہ ہو چکا تھا اور حالات بہتر ہوتے جا رہے تھے۔ لیکن مالک تبدیل ہونے کے باوجود یہ چار دائرے برقرار رہے اور آج اِن چار دائروں کا مطلب ہے لگژری، کمال اور پائیداری۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان دائروں میں کچھ تبدیلیاں ضرور ہوئیں اور یہ 3D میں بھی تبدیل ہو گئے جو جدید ہونے کے ساتھ ساتھ آؤڈی کی علامت کے طور پر جچتے بھی ہیں۔ 

اس بارے میں اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ مزید معلوماتی اور دلچسپ تحاریر کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store
Ahsan Ismail

I have been a PakWheeler for many years and I write about cars stuff as cars are my hobby.

Top