ٹویوٹا کے آتھرائزڈ ڈیلرز نئے خریداروں کو متنفر کر رہے ہیں: ایک صارف کی روداد۔

2016-toyota-corolla-gli-feature-e1466418056968
میں اپنے لئے ایک نئی ٹویوٹا کرولا بک کروانا چاہتا تھا اس وجہ سے میں تقریباً لاہور کی تمام ڈیلر شِپس گیا(جن میں ٹویوٹا والٹن،ایئر پورٹ،گارڈن،جناح،راوی،سہارا،ٹاؤن شِپ اور شاہین شامل ہیں) مگر تا حال میں گاڑی بک نہیں کروا سکا۔میں نا تو کوئی لِکھاری ہوں نا ہی صحافی اور نا ہی رپورٹر جو مختلف سماجی مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے لکھتے ہیں۔میں صرف اپنا تجربہ بتانا چاہتا ہوں اور اس دشواری کا احوال بیان کرنا چاہتا ہوں جس کا میں تقریباً ڈیڑھ ماہ سے سامنا کر رہا ہوں۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کرولا جی ایل آئی آٹومیٹک گاڑی کو بک کروانا اتنا مشکل عمل ہو گا۔
انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ(آئی ایم سی ایل)اپنی نئی ٹویوٹا کرولا فیس لِفٹ اسی سال جولائی یا اگست میں متعارف کروا رہے ہیں،ٹویوٹا ایک جانا مانا برینڈ ہونے کے ناطے لوگوں میں اپنی گاڑیوں کی بے تحاشا ڈیمانڈ رکھتا ہے۔آئی ایم سی ایل نے کرولا کی بکنگ اپریل کے آخر میں کھولی جس کے مطابق تمام ڈیلرز نے نئی کرولا ایکس ایل آئی، جی ایل آئی اور جی ایل آئی آٹو میٹک کی نئی قیمتیں اپنے شورومز میں آویزاں کیں۔کمپنی پالیسی کے مطابق،گاڑی کی بکنگ پانچ لاکھ روپے میں ہوگی جبکہ بقایا رقم آپ کوگاڑی کی ڈلیوری سے ایک ماہ پہلے ادا کرنا ہو گی۔بکنگ ہو جانے کی تسلی کے لئے،ڈیلر شپس صارف اور اس کی منتخب کردہ گاڑی کی انفارمیشن کاا ندراج آئی ایم سی ایل کی جانب سے جاری کردہ آن لائن سسٹم میں کرتے ہیں اور پرووِیژنل بکنگ آرڈر(پی بی او) بناتے ہیں۔یہ پی بی او دراصل کمپنی کی طرف سے جاری کردہ رسید ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ گاڑی آئی ایم سی ایل کے سسٹم میں بک ہو گئی ہے اوراس میں ڈلیوری کے مہینے کی معلومات بھی ہوتی ہیں۔مزید یہ کہ،اگر کسی نے کسی بھی شوروم سے گاڑی بک کروائی ہے تو وہ آئی ایم سی ایل کی ویب سائٹ سے ملک کے مختلف شورومز میں گاڑی کی دستیابی (ڈلیوری کے ماہ) کا پتہ بھی لگا سکتا ہے۔
اس سارے عمل کی جانکاری رکھتے ہوئے، چار مئی 2017کومجھے پانچ لاکھ روپے کا پے آرڈرجاری کیا گیا،اس کے بعد میں نے گاڑی بک کروانے کے لئے لاہور میں موجود مختلف ڈیلر شپس کو فون کئے،مجھے تمام ڈیلرز کی جانب سے یہ کہا گیا کہ:
٭   بکنگ بند ہو چکی ہے اور وہ اس وقت کوئی گاڑی بھی بک نہیں کر رہے۔
٭    یا انہوں نے یہ کہا کہ وہ کرولا کی بکنگ کے لئے پے آرڈرز لے رہے ہیں مگر کیونکہ سسٹم کام نہیں کر رہا تووہ پی بی او جاری نہیں کر سکتے اور اس کی جگہ وہ اپنی خود کی رسید دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ گاڑی بک کروانا چاہ رہے ہیں تو اس کی ڈلیوری دسمبر میں ہو گی۔
مئی کی شروعات میں،آئی ایم سی ایل نے اپنی ویب سائٹ میں کہا تھا کہ اگست اور اس کے بعد کے لئے گاڑیاں تقریباً لاہور کے تمام ڈیلرشپس میں دستیاب ہیں۔
تمام ڈیلر شِپس سے بحث اور اس مسئلے کی تحقیقات کے بعداس سوال نے جنم لیا کہ ڈیلر شِپس اپنے حقیقی صارفین کی بکنگ کیوں نہیں لے رہے؟، میرے خیال سے شورومز کے مالکان اپنے لئے اور اپنے پسندیدہ انویسٹرز کے لئے سسٹم میں بکنگ کر رہے ہیں تا کہ جیسے ہی اگست میں ٹویوٹا کرولامارکیٹ میں آئے وہ زیادہ سے زیادہ پریمیم کی رقم حاصل کر سکیں۔اور ہم جیسے حقیقی خریدار وں کو گاڑی سال کے آخری مہینے میں دیں جس وقت مینوفیکچرنگ سال کا اختتام بھی ہو رہا ہوتا ہے اور پریمیم رقم کم سے کم ہو چکی ہوتی ہے۔
آج کل ڈیلر شِپس گاڑیوں کی ڈلیوری دسمبر میں کنفرم کرنے کے لئے اپنی خود کی رسیدیں جاری کر رہے ہیں اور پی بی او جاری نہیں کر رہے کیونکہ جاری مہینوں کی بکنگ ابھی بند نہیں ہوئی اور دسمبر کے پی بی او ز صرف اس صورت جاری ہو سکتے ہیں جب سسٹم میں اکتوبر اور نومبر بند ہوں گے۔
کچھ ماہ قبل27 مئی کو مجھے پتا چلا کہ ٹویوٹا والٹن موٹرزنے جی ایل آئی کی بکنگ کھول دی ہے تو میں بھی اپنی گاڑی بک کروانے وہا ں پہنچا۔مجھے یہ سن کر خوشی ہو ئی کہ وہ میری گاڑی اکتوبر کے لئے بک کر دیں گے مگر مجھے ان چیزوں کے لئے موقع پر ہی تین اضافی رقمیں ادا کرناہوں گی:
٭   تیسرے ماہ تک وارنٹی بڑھانا۔۔۔نو ہزار پانچ سو روپے۔
٭   گاڑی کی رجسٹریشن فیس کے ساتھ ان کے توسط سے گاڑی بک کروانے کے اضافی پانچ ہزار روپے ۔
٭   گاڑی کی قیمت کے چار فیصد تک انشورنس اور ٹریکر چارجز(جو کہ عام طور پر مارکیٹ میں دو اعشاریہ پانچ فیصد سے تین فیصد تک ہوتے ہیں)۔
ڈیلر شپ نے اس بارے میں مجھے بتایا کہ وہ یہ اضافی چارجزصرف ان انویسٹرز کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے لے رہے ہیں جو کہ جان بوجھ کر زیادہ تعداد میں نئی گاڑیاں بک کرواتے ہیں جو آخر کار پریمیم کے بڑھنے کی وجہ بنتا ہے، اور اس سے ہمیں یقین دہانی بھی ہوتی ہے کہ حقیقی صارف ہی گاڑی بک کروا رہا ہے۔جو بھی ہے میں نے یہ رقوم ادا کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں کہا کہ صرف رجسٹریشن چارجز لے کر گاڑی بک کر دیں،میں نے انہیں بتایا کہ میں ایک حقیقی صارف ہی ہوں پر میں وارنٹی بڑھانے اور ان سے ٹریکر اور انشورنس لینے میں دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ وہ مارکیٹ کے لحاظ سے زیادہ انشورنس پریمیم لے رہے ہیں میں نے گزارش کی کہ میں اپنی گاڑی مناسب قیمت میں کسی اچھی انشورنس کمپنی سے انشورڈ کروا لوں گا مزید یہ کہ میں ان کے ذریعے گاڑی انشورڈ کروانے کے حق میں نہیں ہوں۔اس سب کے بعد انہوں نے یہ کہہ کر میری گاڑی بک کروانے سے انکار کر دیا کہ یہ پالیسی مالکان کی بنائی ہوئی ہے یہاں پر ان کے اختیار میں نہیں کہ وہ یہ رقوم حاصل کیئے بنا ہی گاڑی بک کر دیں۔اسی دواران ایک اور ٹویوٹا ڈیلر شپ نے بکنگ شروع کیں،اور ان کی شرائط بھی یہی تھیں کے آپ کوبکنگ کروانے کے لئے تینوں چیزوں کی رقم ادا کرنا ہو گی(جو کہ اوپر بیان کی گئی ہیں)۔
وقتی طور پر میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے آئی ایم سی ایل نے اپنے ڈیلرز کو یہ ذمہ داری دی ہو کہ خریداروں کو کم کرنے کے لئے اضافی وارنٹی بیچیں،اور اسی لئے انہوں نے گاڑی کی خرید کے ساتھ اضافی وارنٹی لازم قرار دی ہے۔حقیقت جو بھی ہو پر مجھے یقین ہے کہ انشورنس اور رجسٹریشن میں یہ انشورنس کمپنیوں سے بھی خود کے لئے کمیشن لیتے ہیں جیسے یہ رجسٹریشن میں کھاتے ہیں کیونکہ رجسٹریشن زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ کا کام ہو تا ہے اگر آپ موٹر رجسٹریشن اتھرٹی کے آفس جائیں جو کہ (ٹویوٹا والٹن کے قریب ہی)والٹن روڈ پر ہے۔
اس حوالے سے اپنے احتجاج کو ریکارڈ کروانے اور آئی ایم سی ایل کو یہ بتانے کے لئے کہ ان کی ڈیلر شِپس کس طرح صارفین کو کم کر رہی ہیں،میں نے 28مئی کو آئی ایم سی ایل کے کسٹمر ریلیشن آفیسر کو ایک ای میل بھیجی جس کا جواب اگلے ہی روز مجھے موصول ہوا کہ وہ متعلقہ ڈیلر شِپ سے اس حوالے سے بات کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کے میری گاڑی کسی بھی قسم کی زیادہ وارنٹی یا ٹریکر کی رقم کے بنا رجسٹرہو۔لیکن ابھی تک آئی ایم سی ایل لاہور میں موجوداپنے کسی ڈیلر سے میری گاڑی بک نہیں کروا سکی۔ہر دوسرے دن مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ کے مسئلے کا حل ایک دو روز میں نکل آئے گا مگر مسئلہ ابھی تک وہیں ہے اور میں بھی ڈیڑھ ماہ سے وہیں کا وہیں کھڑا ہوں،کیونکہ کسی ڈیلر شِپ نے مجھے ابھی تک فون نہیں کیا۔
مختصراً بات یہ ہے کہ،یہ ایک پورا مافیا ہے جو کہ اپنے مقاصد اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے حقیقی خریداروں کو قطع نظر کر رہا ہے،نتیجتاً کالے دھن کو فروغ ملتا ہے جو واپس انکے پاس ہی آتا ہے۔یہ مجھ سمیت تمام کام صارفین کی خواہش ہے کہ ریگولیٹرز کو اس میں مداخلت کر کے ہماری (حقیقی خریداروں)صحیح قیمت پر گاڑی خریدنے میں مدد کرنی چاہئے،تا کہ ہم فوری ڈلیوری کے لئے بہت زیادہ پریمیم دینے سے بچیں۔
(نوٹ)اس مضمون میں بیان کردہ مواد اور رائے کا تعلق براہِ راست مصنف سے ہے اور یہ ضروری ہے کہ اسے پاک وہیل کی پالیسی یا رائے کی عکاسی نہ سمجھا جائے۔
Hasan Kabir

Hasan is a Senior Banker and has done MBA from LUMS.

  • Imran

    Very good write up. I wanted to book a corolla for my self and I am facing the same issues. I visited 3 dealerships in lahore.

  • Zain-Ul-Hassan Khan

    Shame on IMC as well as dealership. IMC should have taken strickt action against such dealers and cancel their dealership.
    Not sure if a case can be filed against IMC and its dealership in consumer courts.

  • Yasir Riaz

    I’ve suffered from almost same situation. It’s very unfortunate that we have to suffer even to buy this rubbish Toyota corolla in Pakistan. Coz of this mafia we cannot even import better cars in Pakistan. If we are allowed to import cars from outside with reasonable taxes, no one will bother buying this cheap quality corolla in Pakistan.

  • Faizi Hassaan

    Bhai Kahani to theek hai laikin Hindi Dramay aur films kam dekha karo, they have ruined our language, Few years ago there were no words like, Shuruaat, Jaankaari, Khud ki , The word for Shurruaat in urdu is Aghaaz, Jaankaari (Maloomaat) and Khud ki (Apni) .

Top