آٹو پالیسی 2015-18 تیار؛ منظوری کے لیے اقتصادی کمیٹی کے سپرد

autopolicy15-18

بالآخر آٹو پالیسی برائے 2015 تا 2018 تیار ہوچکی ہے اور اسے حتمی منظوری کے لیے اقتصادی کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے۔ آٹو پالیسی کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کر رہے ہیں۔ نجکاری بورڈ کے چیئرمین جناب ڈاکٹر مفتا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

خبروں کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں تین بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مجوزہ پالیسی میں “نئے سرمایہ کاروں” کی جگہ صرف “سرمایہ کاروں” کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مقصد نئے اور موجودہ سرمایہ کاروں کو یکساں مراعات اور سہولیات کی فراہمی ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ پالیسی کے زمرے ج (category C) کو حذف کر دیا گیا ہے جس میں حکومت کی جانب سے موجودہ اداروں کو نئی گاڑیاں متعارف کروانے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ مزید برآں نئی آٹو پالیسی میں ان گاڑیوں کے حوالے سے بھی قوانین مرتب کیے گئے ہیں جن کی تیاری پاکستان میں بند ہوچکی ہے۔ یہ پالیسی گندھارا نسان موٹرز اور دیوان فاروق موٹرز جیسے اداروں کے لیے بہت معنی رکھتی ہے جو مستقبل قریب میں پرانے ماڈلز ایک بار پھر پاکستان کی مارکیٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے افسران کا جھکاؤ پاکستان میں موجود کار ساز اداروں مثلاً ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کی جانب مائل تھا۔ جاپان کے سفیر نے بھی اس حوالے سے وزیر خزانہ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے نئی آٹو پالیسی سے جاپانی اداروں پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے بات کی۔ تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس ضمن میں مثبت رائے نہیں دی۔

وزرات صنعت و پیداوار کی جانب سے ابتدائی دو سالوں کے لیے مقامی اور غیر ملکی دونوں طرز کے پرزوں پر 10 فیصد ڈیوٹی لگانے کی تجویز بھی دی گئی تھی جسے ایف بی آر نے مسترد کرتے ہوئے نئے سرمایہ کاروں کا اضافی مراعات دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل اقتصادی کمیٹی کا اجلاس رواں ماہ کے اوائل میں ہوا تھا تاہم وہ بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوا تھا۔

Top