آٹو سیکٹر نان-فائلرز کے معاملے پر حکام کے فیصلے کا منتظر

wagon-R-non-filers

حال ہی میں کمشنر اِن لینڈ ریونیو لاہور جناب جہانگیر احمد نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے 1000cc سے کم کی گاڑیاں خریدنے پر نان-فائلرز کو اجازت نہيں دی۔

یہ معاملہ اب بھی زیر غور ہے اور 1000cc سے کم کی گاڑی خریدنے کے حوالے سے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ لیٹر خلاف قانون ہے، انہوں نے مزید کہا۔

حکومت پاکستان نے 2018-19ء کے بجٹ میں نان-فائلرز کو گاڑیوں کی خریداروں سے روک دیا تھا۔ البتہ چند روز قبل ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ریجن C، لاہور نے پنجاب بھر میں اپنے افسران کو ایک حکم نامہ جاری کیا کہ جس میں کہا گیا کہ عوام کے 1000cc سے کم طاقت کی گاڑی خریدنے پر پابندی نہیں۔ البتہ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس حوالے سے کمشنر انکم ٹیکس، RTO-II، لاہور سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ یہ سرکولر کچھ یوں ہے:

circulation-1

بتایا گیا تھا کہ حکومت اس معاملے میں ان لوگوں کے ساتھ نرمی برت سکتی ہے، جو 1000cc سے کم انجن گنجائش رکھنے والی کی گاڑی خریدیں گے۔ لیکن اب ڈان کے مطابق کمشنر اِن لینڈ ریونیو لاہور، جہانگیر احمد نے تصدیق کی ہے کہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کا جاری کردہ لیٹر خلاف قانون ہے اور اسے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی حمایت حاصل نہیں۔

جناب جہانگیر نے مزید کہا کہ سرکاری خزانے کو نقصان سے بچانے کے لیے یہ نقلی خط مسترد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اب پریشانی بڑھ رہی ہے کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اس ضمن میں کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی کہ آیا 1000cc سے کم انجن گنجائش کی گاڑیاں خریدنے کی اجازت ہے یا نہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فیڈرل فنانس ایکٹ 2018ء کے بعد کوئی بھی شخص اس وقت تک مقامی طور پر بننے والی یا درآمد شدہ گاڑی خرید نہیں سکتا جب تک کہ وہ ٹیکس فائلر نہ ہو۔ ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے لیٹر کے بعد سے کافی ابہام ہے، دیکھتے ہیں کہ حکام اس معاملے کو کیسے واضح کرتے ہیں۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top