پروڈکشن پلانٹس بند، آٹو انڈسٹری لڑکھڑانے لگی


موجودہ معاشی بحران کے باعث ملک کے بڑے آٹو مینوفیکچرنگ ادارے اپنی گاڑیوں کی پیداوار روک رہے ہیں، یوں اسمبلنگ کے لیے پرزے فراہم کرنے والی آٹو وینڈرز انڈسٹری پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔ 

پاکستان میں کام کرنے والے معروف جاپانی ادارے، بشمول سوزوکی، ہونڈا اور ٹویوٹا کاروں کی فروخت میں آنے والی زبردست کمی کی وجہ سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں گاڑیوں کی طلب کم ہونے کی وجہ سے رسد غیر معمولی حد تک بڑھ گئی اور یوں پیداواری دن گھٹانے پر مجبور ہونا پڑا۔ حال ہی میں انڈس موٹر کمپنی (IMC) نے جو ملک میں ٹویوٹا گاڑیاں بناتی ہے، 20 ستمبر سے مہینے کے آخر تک اپنے پیداواری پلانٹس مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔ یہ صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ آٹو وینڈرز کے کاروبار پر بھی بہت بڑا اثر پڑے گا۔ اس صورت حال نے پاکستان میں ہزاروں افراد کو بے روزگار کر دیا ہے۔ 

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی آٹو میکر نے اپنا پیداواری پلانٹ بند کردیا ہو، ٹویوٹا انڈس پچھلے چند مہینوں سے ایسی ہی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔ صرف ستمبر میں ہی کمپنی کے پیداواری پلانٹس صرف 15 دن چلے ہیں۔ اسی طرح پاک سوزوکی بھی ایسی ہی صورت حال سے گزر رہا ہے۔ پچھلے مہینے ہی اس نے مارکیٹ میں گھٹتی ہوئی طلب کے باوجود اپنی پیداوار کم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن کچھ ہی دن بعد اپنی مجاز ڈیلرشپس کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ جس میں اپنی متعدد گاڑیوں کے ماڈلز کی بکنگ عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان میں سے سوزوکی میگا کیری کی بکنگ تو مستقل طور پر بند کردی گئی۔ حیران کن طور پر کمپنی کی نئی 660cc آلٹو کا بنیادی ویرینٹ بھی معطل کی گئی گاڑیوں کی فہرست میں موجود ہے۔ ہونڈا اٹلس بھی فروخت کے معاملے میں مشکلات سے دوچار ہے اور اس کی نہ فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 2,000 سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ غیر پیداواری دن بڑھانے پر مجبور ہوا۔ کمپنیاں اپنی دوسری شفٹ کے آپریشنز ویسے ہی بند کر چکی ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 4,000 ملازمین بے روزگار ہوئے ہیں۔ آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ پلان ‏2007-12ء‎ کے مطابق آٹو سیکٹر میں ایک براہ راست ملازمت آٹو وینڈر انڈسٹری میں آٹھ افراد کے لیے روزگار کے دروازے کھولتی ہے۔ اس لحاظ سے پچھلے چار مہینوں گے عرصے میں لگ بھگ 36,000 لوگ اپنی ملازمت سے محروم ہو گئے ہوں گے۔ 

آٹو موبائل انڈسٹری امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی سے گاڑیوں کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے جدوجہد کر رہی ہے۔ حکومت نے بجٹ ‏2019-20ء‎ میں گاڑیوں پرایڈیشنل  ٹیکس اور ڈیوٹیاں لگا کر صورت حال کو مزید بگاڑ دیا۔ تمام اقسام کی گاڑیوں پر 2.5 سے 7.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے نفاذ نے بھی قیمتوں کو بڑھایا جو صارفین کی قوتِ خرید سے باہر ہوگئیں۔ مارکیٹ میں شرحِ سود بھی بہت زیادہ بڑھا دی گئی، جس کی وجہ سے صارفین کے پاس نئی گاڑیاں خریدنے سے پشت پھیرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ اس صورت حال کا موٹر سائیکلوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے لیکن فی الوقت چار پہیوں والی گاڑیوں کا حال بہت بُرا ہے۔ ماہر کارکن تو وینڈنگ انڈسٹری میں کسی نہ کسی طرح اپنی نوکریاں بچانے میں کامیاب ہیں لیکن دیہاڑی دار طبقہ بڑی تعداد میں باہر نکالا گیا ہے۔ اس وقت 350 ٹیئر1 وینڈرز ہیں جو ملک بھر میں کام کر رہے ہیں۔ یہ کاروں، ٹرکوں، بسوں، موٹر سائیکلوں وغیرہ کی اسمبلنگ کے لیے انجینئرنگ انڈسٹری کو آٹو پارٹس فراہم کرتے ہیں۔ ٹیئر 2 اور ٹیئر 3 کیٹیگری کے وینڈرز کی بڑی تعداد ٹیئر 1 کے وینڈرز کو براہِ راست پارٹس سپلائی کرتی ہے۔ اس صنعت میں بالترتیب 6 اور 12 لاکھ بلاواسطہ اور بالواسطہ مزدور ہیں جو براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ 

حکومت کی جانب سے لگائے گئے تمام ایڈیشنل ٹیکس اور ڈیوٹیوں کا بوجھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے وینڈرز اٹھا رہے ہیں۔ وینڈرز کو آٹو اسمبلرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ بھی نہیں ملا جس کا مطلب ہے کہ آٹو وینڈرز انڈسٹری کی اکثریت بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ آٹو پارٹس کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال بھی درآمد کیا جاتا ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے اس کی لاگت میں اضافہ کردیا۔ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) 4 سے بڑھا کر 11 فیصد اور 3 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس وینڈر انڈسٹری پر دباؤ مزید بڑھاتے ہیں۔ موجودہ صورت حال وینڈرز کی آمدنی کو متاثر کر رہی ہے اور یہی حالات برقرار رہے تو یہ آٹو وینڈرز انڈسٹری کی بندش کا سبب بن سکتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاک سوزوکی، ہونڈا اٹلس اور ٹویوٹا انڈس سب نے مالی سال ‏2019-20ء‎ کے ابتدائی دو مہینوں میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اپنی کاروں کی فروخت میں بالترتیب 71 فیصد، 68 فیصد اور 57 فیصد کی کمی ریکارڈ کی ہے۔

حکومت کو مقامی آٹو سیکٹر کو درپیش موجودہ بحرانی صورت حال پر فوراً سے پیشتر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ آٹو سیکٹر سے متعدد چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں منسلک ہیں اور اقتصادی سست روی کے نتیجے میں روز بروز بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ نئے ادارے بھی مقامی مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں اور حکومت انہیں اپنی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ حکومت کو اپنی پالیسیوں میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی ایڈیشنل ٹیکس جیسا کہ FED فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔ نیچے تبصروں میں اپنے خیالات کا اظہار کیجیے اور آٹوموبائل انڈسٹری کی تازہ ترین خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top