گاڑیاں بنانے والے آٹو پالیسی کو نظر انداز کر رہے ہیں، وزیر صنعت

autonew

ایسا لگتا ہے کہ گاڑیاں بنانے والے چند مقامی ادارے پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر رہے کیونکہ وہ آٹوپالیسی 2016-21ء میں وضع کردہ ساٹھ دن میں صارفین کو گاڑی حوالے نہیں کر رہے۔

ایک مقامی ابلاغی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ خان جتوئی نے کہا کہ چند مقامی ادارے آٹو پالیسی پر لفظاً و معناً عمل درآمد نہیں کر رہے کیونکہ وہ آٹو پالیسی میں موجود ساٹھ دن کے دورانیے میں صارفین کو گاڑیاں فراہم نہیں کر رہے۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ نئی آٹوموٹو پالیسی کے مطابق کار کی ڈلیوری میں دو ماہ سے زیادہ کی تاخیر کا نتیجہ حتمی قیمت میں KIBOR+2 فیصد رعایت کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال کے آغاز پر کاروں پر پریمیئم اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا، جبکہ گاڑیوں کی فراہمی کے لیے وقت میں بھی اضافہ ہوا، جو آٹوموٹو پالیسی کی صریح خلاف ورزی ہے۔

حکومت پاکستان نے سال 2016ء تا 2021ء کے لیے ایک نئی آٹوموٹو پالیسی جاری کی تاکہ گاڑیاں بنانے والوں کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کی جا سکے اور صارفین کو بھی سکھ کا سانس دیا جائے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کا ہدف مقامی آٹو موبائل مارکیٹ کو متنوع بنانا اور گاڑیوں کی فراہمی کے وقت میں کمی لانا ہے جبکہ موجودہ برانڈز پر اچھی گاڑیاں بنانے کے لیے دباؤ بھی ڈالنا ہے۔

حکومت نے آٹوموٹو پالیسی 2016-21ء کے تحت دیوان اور ریگل آٹو موبائل انڈسٹریز لمیٹڈ (RAIL) جیسے اداروں کو گرین فیلڈ اور براؤن فیلڈ درجے بھی دیے تاکہ وہ مقامی سطح پر گاڑیاں بنا سکیں۔ رینو (رینالٹ)، کیا اور ہیونڈائی بھی نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان آئے ہیں۔ مزید برآں، ہیونڈائی نشاط موٹرز کے تعاون سے فیصل آباد میں اسمبلی پلانٹ بنا رہا ہے۔ اور یہ بھی خبریں ہیں کہ مستقبل قریب میں رینو بھی اسی شہر میں اپنا اسمبلی پلانٹ تعمیر کرے گا۔

اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے، نیچے تبصرے میں ضرور آگاہ کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Comments are not currently available for this post.

Top