غیر ملکی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں اضافہ؛ کیا آٹو پالیسی ترجیح نہیں؟

imported cars

گاڑیوں کے شعبے میں ترقی کو دیکھتے ہوئے بہت سے کار ساز ادارے پاکستان میں کاروبار کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری آٹو پالیسی کی تیاری میں بے جا طوالت ہے۔ ان خواہش مند اداروں سے گفتگو کرنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ بہت سے دیگر ادارے بھی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ پروگرام (AIDP) کے منتظر ہیں۔ AIDP گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی تیاری و فروخت سے متعلق حکمت عملی ہے جسے حکومتِ وقت بناتی اور چلاتی ہے۔ لیکن قابل افسوس امر ہے کہ اس اہم حکمت عملی کے ساتھ سوتیلوں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار تو آٹو پالیسی کو خاطر میں لائے بغیر ہی ایک حکم نامے کے ذریعے گاڑیوں کی درآمدات پر عائد ڈیوٹی میں اضافے کا اعلان فرما چکے ہیں۔ اس خلاف توقع حکم سے قبل یہ معاملات سالانہ بجٹ میں زیر بحث لائے جاتے تھے۔

یکم دسمبر 2015 کو پیش کیے گئے “منی بجٹ” میں بیرون ملک سے منگوائی جانے والی ہزاروں اشیاء پر ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔ 1000 سی سی اور زائد انجن کی حامل گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں کو اس اضافے سے متثنی رکھا گیا ہے۔ منی بجٹ کے بعد گاڑیوں کے مختلف زمروں میں ہونے والے اضافے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1300 سی سی : 95,942 روپے
1500 سی سی: 135118 روپے
1600 سی سی: 163902 روپے
1800 سی سی: 203078 روپے
1801 تا 2999 سی سی: 4 تا 5 لاکھ روپے
3000 سی سی اور زائد: 8 تا 12 لاکھ روپے

ایک ایسے ملک میں کہ جہاں گاڑیوں کی قیمتیں پہلے ہی بہت زیادہ ہیں، ایسے حکومتی اقدامات سے درآمدکنندگان اور گاڑیوں کا کاروبار کرنے والوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی وہیں ان صارفین کو بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی قوت خرید محدود ہے۔ اس کے علاوہ اچانک ٹیکسز کے اطلاق سے ان منافع خوروں کو فائدہ پہنچے گا جنہوں نے گاڑیاں تو یکم دسمبر سے قبل منگوائی تھیں لیکن اب وہ قیمتوں میں ٹیکس کی مالیت بھی شامل کر کے گاڑیاں فروخت کریں گے۔ بہت کم صارفین ایسے ہوں گے جو تمام دستاویز اور حساب کتاب مانگتے ہوں جس کی وجہ سے گاڑیوں کی مارکیٹ میں قیمتیں ازخود پڑھنے کا اندیشہ ہے۔

باوجودیکہ وفاقی وزیر خزانہ نے ‘مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء کو ٹیکس سے استثنی فراہم کیا ہے’ مرے پر سو درے کے مصداق اب مقامی کار ساز ادارے بھی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا سوچ رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بیرون ملک سے گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکس اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی بتائی جا رہی ہے۔

معروف کاروباری جریدے بزنس ریکارڈ کے مطابق آٹو پالیسی میں بھی جانبداری کا اندیشہ ہے جسے وزارت صنعت بھی ‘مقامی کار ساز اداروں کے ساتھ زیادتی’ قرار دے رہی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں جاپان کے سفیر پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ جاپانی کار ساز اداروں کے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کو برداشت نہیں کریں گے۔ گو کہ سال 2012 سے اب تک آٹو پالیسی پر صرف بحث مباحثہ ہی ہوتا رہا ہے تاہم ماضی قریب کی پیش رفت دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ رواں سال کے اختتام یا آئندہ سال کے آغاز پر آئندہ 3 یا 5 پانچ سالوں کے لیے آٹو پالیسی پیش کردی جائے گی۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ آٹو پالیسی کو فوقیت دینے کے بجائے موجودہ حکومت کسی پیشگی اطلاع اور حکمت عملی کے بغیر ہی بھاری ٹیکسز لاگو کر رہی ہے جس کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے لیے گئے قرضے کی اگلی قسط فراہم کرنا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن کیا ٹیکس لگانے سے مسائل حل ہوجائیں گے؟ ایسی صورتحال میں تو ممکن نظر نہیں آتا کہ جہاں حکومت نئے اداروں کو کاروبار کے مواقع دینے کے بجائے موجودہ اداروں کو ہی نوازنا چاہتی ہے۔

20151202015230 (1) 20151202015230 20151202015231

Baber K. Khan

An auto enthusiast trying to bring car media mainstream.

Top