یہ کیسے کام کرتے ہیں اور ان میں فرق کیا ہے۔4WD بمقابلہ AWD

4wdvsawd

آل وہیل ڈرائیو،فوروہیل ڈرائیو، سافٹ روڈرز، کراس اوور، اور سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز:لوگوں کے لئیے اتنی آپشنز کبھی بھی ممکن نہ ہوتیں اگر وہ اپنے گردونواح موجود پکی سڑکوں کے ٹکڑوں کی جانچ کرنے پرسکون گھروں سے باہر نہ نکلتے۔اگر آپ اپنی آف روڈ ضروریات پوری کرنے کے لئیے کسی اچھے پلیٹ فارم کی کھوج اور انتخاب کرتے ہیں تو اس پر غیرمعمولی خوشی بنتی ہے۔ جو بھی ہو، جب آف دی روڈ جانے کی بات ہو تو ڈرائیونگ سسٹمز دو ہی ہیں، آل وہیل ڈرائیو،  فوروہیل ڈرائیو۔

ہم سب نے آل وہیل ڈرائیواور فوروہیل ڈرائیوکے متعلق سنا ہو گا،  تو ان میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا ہے۔آل وہیل ڈرائیواور فوروہیل ڈرائیو سسٹم سے متعلق اکثروبیشتر لوگوں کا سوچنا ہے کہ یہ ایک ہی چیز ہیں، مگر در حقیقت آل وہیل ڈرائیواور فوروہیل ڈرائیو سسٹمز ایک دوسرے سے مماثلت تو رکھتے ہیں لیکن دونوں مختلف مراحل میں اپنی اپنی ضروریات کے مطابق بالکل فرق اور بہترین کام انجام دیتے ہیں۔جیسا کہ دونوں سسٹمز کے نام سے ظاہر ہے کہ گاڑی کے آل فور وہیلز اس کے انجن سے طاقت لیتے ہیں۔لیکن یہ امر ان دونوں میں واضح فرق پیدا کرتا ہے کہ ان پر طاقت کا اطلاق اور تقسیم کس طرح ہوتی ہے۔

Also Read: Comparison: Toyota Fortuner Second Gen vs First Gen

فوروہیل ڈرائیو دراصل دو سسٹمز کا عمل ہے، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، فور وہیل ڈرائیو سسٹم ایسا سسٹم ہے جوکہ ہر پہیے کو زیادہ سے زیادہ چلنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی کٹھن مکینکل سسٹم کے تحت کام کرتا ہے جو کہ ٹرانسفر کیز      L200ٹویوٹا ہیلکس، مٹسوبشیSUVکہلاتا ہے۔ عام طور پر فور وہیل ڈرائیو سسٹم آف روڈ کی گاڑیوں جیسا کہ پِک اپ، ٹرک یا اور نسان ارماڈا یا پھر ٹویوٹا لینڈکروزر میں ملتا ہے۔

لیکن اس کے بر عکس آل وہیل ڈرائیو،  فوروہیل ڈرائیو جو کہ ”فور بائی فور“کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، مگر یہ مفروضہ کافی نہیں ہے۔عام حالات میں صرف پچھلے پہیے گاڑی کو آگے کی جانب زور دیتے ہیں جبکہ آگے والے پہیے آزادانہ گھومتے ہیں۔جدید فوروہیل کا اطلاق کرنے کے لئیے ڈرائیور بٹن دباتا ہے یا پھر لیور کھینچتا ہے۔بہت سی اور زیادہ تر پرانی فور وہیل   4Lیا4H’2Hسواریوں میں آپ کو ایک اور گئیر سٹِک نظر آئے گی جس پر کے نشان درج ہوتے ہیں۔ یہ مختلف ڈوائیونگ موڈز ہوتے ہیں جس کا اطلاق آپ خود اپنی مرضی کی ڈرائیو کرنے کے لئیے کرتے ہیں۔لیکن نئی سوزوکی وٹارا کا شمار ان جدید گاڑیوں میں ہوتا ہے جہا ں آپ کو ایک نئے گئیر لیور سے انتخاب کی بجائے فور وہیل ڈرائیو سسٹم کو چلانے یا روکنے کہ لئیے صرف ایک بٹن دبانا ہوتا ہے۔ یا نئی سیکنڈ جنریشن ٹویوٹا فورچیونر، جس      کوتبدیل کرنے کے لئے ایک سوئچ نوب کو ٹرانسفر کرنا پڑتا ہے۔2WD’4WDمیں آپ کو فور وہیل ڈرائیو ایک امتیازی سسٹم کے تحت کام کرتا ہے:  جو کہ ایک آگے کی طرف ایک پیچھے کی جانب اور ایک درمیان میں ہوتا ہے۔یہ خاص ڈیزائین شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ پہلی فور وہیل گاڑی اوریہ جیسے بھی کام کرتا ہے۔پرانے سسٹم میں ذاتی طور پر کسی کی ضرورت ہوتی تھی کہ وہ چاروں پہیوں کومصروف کرنے کے لئیے گاڑی میں سے نکل کر خود فرنٹ ہب کولا ک کرے۔فور وہیل سسٹم کو بنیادی طور پر لاکنگ اور ان لاکنگ یا چلانے اور روکنے کے لئیے ڈرائیور کی مدد درکار ہوتی ہے۔ تو آپ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ آل وہیل ڈرائیو سسٹم کا آخر فائدہ کیا ہے؟ جی اکثر مشکل حالات میں یا دشوار گزار راستوں میں ایک کنٹرولڈ ڈرائیو کے لئے فور وہیل سسٹم زیادہ تناؤ اور طاقت فراہم کرتا ہے۔

لیکن دوسری طرف، فور وہیل ڈرائیو سسٹم مشکل، بھاری اور تیز رفتار ی میں افعال نہیں ہے۔لیکن اگر آپ اپنی گاڑی کو گہری برف، کھردری سڑک یا مٹی میں لے کر جاتے ہیں تو فور وہیل ڈرائیو سسٹم کو مات دینا انتہائی مشکل ہے۔

rr-and-lc

آل وہیل ڈرائیو سسٹم ایک جدید ٹیکنالوجی اور آٹو موبائل مکینکس میں نیا اضافہ ہے جو سپورٹس گاڑیوں کے بجائے زیادہ ترکاروں میں استعمال ہوتا ہے۔ آل وہیل ڈرائیو سسٹم ہر وقت ہمہ تن رہتا ہے اور ایک کمپیوٹر اس کی جانچ کرتا رہتا ہے۔جیسے ہی آپ ہائی وے پر جاتے ہیں کمپیوٹرفیول ایفیشنسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے انجن کی ایک معقول طاقت اگلے او ر پچھلے پہیوں میں منتقل کردیتا ہے، جس کا انحصار آپ کی ڈرائیو پر ہوتا ہے۔ اگر چلنے میں مشکل آئے، تو سسٹم خود ساختہ طور پر اس کا ادراک کرتا ہے اور ہر پہئے میں زیادہ اور معقول طاقت پہنچانے کو یقینی بناتا ہے۔ ڈرائیور کو کسی عمل کی ضرورت نہیں ہوتی طاقت اور گرِپ خودبخود بہتر ہوتی رہتی ہے۔یوں فور رہیل ڈرائیو سسٹم میں مکینیکل تبدیلیاں ہیں، آل وہیل ڈرائیو سسٹم آ پ کو الیکٹرومیگنیٹک کپلنگ فراہم کرتا ہے۔مختلف ڈرائیونگ کی صورتحال میں ضرورت کے مطابق ذور اور ٹارک مہیا کرنے کے عمل کو کمپیوٹرخود کنٹرول کرتااور یقینی بناتا ہے۔یہ سسٹم بہت ہی پیچیدہ ہے مگر آسان الفاظ میں کمپیوٹرمختلف آلات سے موصول ہونے والی معلومات جیسا کہ، تھرٹل کی پوزیشن، گاڑی کی رفتار، پہیوں کی پھسلن  کے مطابق گاڑی کو ایک اچھی ڈرائیو کے لئیے مناسب طاقت فرہم کرتا ہے۔آگے سے پیچھے اور ایک طرف سے دوسری طرف ٹارک کی منتقلی بھی آل وہیل ڈرائیو میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔جب سے کمپیوٹر گاڑی کی ڈرائیو لائن کنٹرول کر رہا ہے یہ زیادہ سے زیادہ زور کے لئیے انفرادی طور پرہر پہئے کو مناسب ٹارک اوربریک فراہم کرتا ہے۔ آپ ایک روائتی آل وہیل ڈرائیوسسٹم کونظرانداز نہیں کرسکتے(اگرچہ کچھ امید رکھتے ہوں)۔

Suzuki-Vitara-49

toyota-fortuner

جدید آل وہیل سسٹم ”ٹارک ویکٹرنگ“پر مشتمل ہے، جو کہ دشوار گزارموڑاورزیادہ رفتار میں کنٹرول کے لئے ترتیب دیا گیا ہے جو کہ آل وہیل گاڑیوں جیسا کہ پورشے، یا فورڈفوکس ہیچبیک میں ہوتا ہے۔بیشک یہ گاڑی کے وزن اور اس کی قیمت میں اضافہ کرتا ہے مگر ساتھ ہی یہ اس کی پر فارمنس اور محفوظ سفر کو بھی یقینی بناتا ہے بنا ڈرائیور کی مداخلت کے۔لیکن آل وہیل ڈرائیومیں کچھ گاڑیاں ایسی بھی ملتی ہیں جن میں آپ اچھی ڈرائیو اور پرمارمنس کے لئے مختلف صورتحال جیسا کہ، برف، گیلی، اور پھسلن جیسے سسٹمزکا انتخاب خود کرتے ہے۔یوں آل ڈرائیو سسٹم آپ کو سلپری اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پس قارئین۔۔۔ تو یہ ہیں دونوں ڈرائیونگ سسٹمز میں بنیادی فرق۔یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ گاڑیاں بنانے والی مختلف کمپنیاں نئے اور انوکھے سسٹمز کو بہتر بنانے میں لگاتارمصروفِ عمل ہیں۔نئی سپورٹس گاڑیاں، ہائبرڈ سسٹمز کا استعمال، مختلف الیکٹرک موٹرز اور پیٹرول انجن کا ملاپ دراصل بھرپورطاقت اوربہترین کارکردگی کے لئے ہی ہے۔جو بھی ہو یہ سب مثالیں آپ کی روز مرہ کی بھاگ دوڑ اور نقل وحرکت سے میل نہیں کھاتیں۔آل وہیل ڈرائیو گاڑیاں جوآپ اپنے بجٹ سے تجاوز کر کے خرید سکتے ہیں۔البتہ ان گاڑیوں کے سسٹمز اپنے آپ میں ایک مثال ہیں۔اور بلاشبہ یہ اس میعار کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

اور آخر کار یہ معمہ حل ہوتا ہے۔۔۔ آپ یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ آل وہیل ڈرائیوسسٹم مشکل مراحل جیسا کہ گیلی سڑکوں،  برف اور یہاں تک کہ ریس میں بھی بہتر کارکردگی فراہم کرتا ہے۔ لیکن یہ سبارویا آڈی جیسی گاڑیوں کی دلدل یا پتھر پر رینگنے کے لئے بھی تخلیق نہیں کیا گیا۔درحقیقت یہ فوروہیل ڈرائیوسسٹم کی ہی ملکیت ہے۔

Writing about cars and stuff.

Top